قرآن کی عملی اور سائنسی حقیقت

جٹ صاحب

محفلین
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيم
لسلام عليكم ورحمت الله وبركاته
سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا لله والله اكبر




 

عثمان

محفلین
بھائی جان۔۔۔۔
کن چکروں میں پڑ گئے ہیں۔ قرآن جس مقصد کے لئے نازل ہوا ہے۔ یار لوگ اس پر تو توجہ نہیں دیتے۔ باقی ہر کام میں اسے گھسیٹتے رہیتے ہیں۔
قرآن کے بنیادی موضوعات جو مجھ ناسمجھ کو اب تک سمجھ آئے ہیں۔ وہ یہ ہیں۔۔
رب کی پہچان
مقصد حیات
آخرت کی تنبیہ

کیا ہم ان موضوعات سے اسیر ہوچکے ہیں؟
دین کو سائنس سے الگ رکھیے۔ یہ دین اور سائنس دونوں کے لیے بہتر ہے۔
 
بہت عمدہ جناب معلومات فراہم کرنے کا شکریہ
آپ مزید ایسی کوشش جاری رکھیے اور لوگوں کی باتوں کا دھیان نہ کیجیئے کیونکہ ان کا تو کام ہی اگلے کی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی کرنا ہوتا ہے۔
خود کلامی اس لنلک پر
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?30388-سات-آسمان
آپ اگر نظریۃ الاوتار یعنی سٹرنگ تھیوری پر تھریڈ بناؤ تو وہ خیر ہے کیونکہ آپ تو بہت بڑے شیخ القرآن ہو۔ لیکن اگر ڈیسینٹ کلر کوئی تھریڈ بنائے تو وہ چونکہ جاہل ہے اور اس کی باتوں سے لوگوں کے گمراہ ہونے کا خطرہ ہے لہٰذا آپ نے ایک عالم فاضل ہونے کی حیثیت ڈیسینٹ کلر کو خبردار کرنا ضروری سمجھا۔
خودکلامی صاحب الاماشاء آپ بحیثیت شیخ القرآن بقول آپ کے ان تین امور کا عرفان حاصل کرچکے ہیں
رب کی پہچان
مقصد حیات
آخرت کی تنبیہ
خودکلامی صاحب ان امور کی آگاہی کے بعد میں آپ کے علم میں یہ بات لانا چاہوں گا کہ انسان کو وہی کچھ کرنا چاہیے جس پر اس کا عمل ہو آپ خود تو قرآن مجید فرقان حمید میں سائنسی توجیہات تلاش کرتے ہیں کیونکہ بحیثیت شیخ القرآن آپ کو پتہ ہے کہ قرآن شریف میں غور و فکر پر بہت زیادہ اصرار کیا گیا ہے
زمین اور آسمان کی پیدائش اور رات دن کے باری باری آنے میں اُن ہوش مند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں جو اٹھتے بیٹھے اور لیٹتے،ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمان اور زمین کی ساخت میں غور و فکر کرتے ہیں وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں کہ ” اے پروردگار ، یہ سب کچھ تونے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے تو پاک ہے اس سے کہ عبث اور بے مقصد کام کرے پس اے رب ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔العمران:190,191 )
(اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اُس چیز نے جو زمین اور آسمان میں ہے اور وہی زبردست دانا ہے ۔زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک وہی ہے ،زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہی اول بھی ہے اور آخر بھی اور ظاہر بھی اور مخفی بھی اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا۔اُس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اُترتا ہے اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے۔وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔جوکام بھی تم کرتے ہو ،اُسے وہ دیکھ رہا ہے وہی زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے اور تمام معاملات فیصلے کے لیے اسی کی طرف رجوع کیے جاتے ہیں ۔وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔الحدید:1تا6 )
یہ آسمان و زمین اور ان کی درمیان کی چیزیں ہم نے محض کھیل کے طور پر نہیں بنادی ہیں ۔ان کو ہم نے برحق پیدا کیا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔سورہ الدخان:38تا39 )
لیکن شیخ القرآن صاحب مجھے بہت افسوس ہوا کہ آپ بنی اسرائیل کے علماء کی طرح لوگوں کو علم سے متنفر کرتے ہو۔ خود کلامی صاحب یہ پریکٹس اچھی پریکٹس نہیں ہے کہ دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فصیحت
آپ اپنی ہی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
 

عثمان

محفلین
خود کلامی اس لنلک پر
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?30388-سات-آسمان
آپ اگر نظریۃ الاوتار یعنی سٹرنگ تھیوری پر تھریڈ بناؤ تو وہ خیر ہے کیونکہ آپ تو بہت بڑے شیخ القرآن ہو۔ لیکن اگر ڈیسینٹ کلر کوئی تھریڈ بنائے تو وہ چونکہ جاہل ہے اور اس کی باتوں سے لوگوں کے گمراہ ہونے کا خطرہ ہے لہٰذا آپ نے ایک عالم فاضل ہونے کی حیثیت ڈیسینٹ کلر کو خبردار کرنا ضروری سمجھا۔
خودکلامی صاحب الاماشاء آپ بحیثیت شیخ القرآن بقول آپ کے ان تین امور کا عرفان حاصل کرچکے ہیں
رب کی پہچان
مقصد حیات
آخرت کی تنبیہ
خودکلامی صاحب ان امور کی آگاہی کے بعد میں آپ کے علم میں یہ بات لانا چاہوں گا کہ انسان کو وہی کچھ کرنا چاہیے جس پر اس کا عمل ہو آپ خود تو قرآن مجید فرقان حمید میں سائنسی توجیہات تلاش کرتے ہیں کیونکہ بحیثیت شیخ القرآن آپ کو پتہ ہے کہ قرآن شریف میں غور و فکر پر بہت زیادہ اصرار کیا گیا ہے
زمین اور آسمان کی پیدائش اور رات دن کے باری باری آنے میں اُن ہوش مند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں جو اٹھتے بیٹھے اور لیٹتے،ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمان اور زمین کی ساخت میں غور و فکر کرتے ہیں وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں کہ ” اے پروردگار ، یہ سب کچھ تونے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے تو پاک ہے اس سے کہ عبث اور بے مقصد کام کرے پس اے رب ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔العمران:190,191 )
(اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اُس چیز نے جو زمین اور آسمان میں ہے اور وہی زبردست دانا ہے ۔زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک وہی ہے ،زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہی اول بھی ہے اور آخر بھی اور ظاہر بھی اور مخفی بھی اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا۔اُس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اُترتا ہے اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے۔وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔جوکام بھی تم کرتے ہو ،اُسے وہ دیکھ رہا ہے وہی زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے اور تمام معاملات فیصلے کے لیے اسی کی طرف رجوع کیے جاتے ہیں ۔وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔الحدید:1تا6 )
یہ آسمان و زمین اور ان کی درمیان کی چیزیں ہم نے محض کھیل کے طور پر نہیں بنادی ہیں ۔ان کو ہم نے برحق پیدا کیا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔سورہ الدخان:38تا39 )
لیکن شیخ القرآن صاحب مجھے بہت افسوس ہوا کہ آپ بنی اسرائیل کے علماء کی طرح لوگوں کو علم سے متنفر کرتے ہو۔ خود کلامی صاحب یہ پریکٹس اچھی پریکٹس نہیں ہے کہ دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فصیحت
آپ اپنی ہی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

میرے شروع کردہ تھریڈ پر صرف ایک جملہ ہے۔ اگر اسے غور سے پڑھ لیتے تو اتنا لمبا مضمون جو میرے موقف کو نہ غلط ثابت کرتا ہے نہ صحیح۔۔۔۔نہ لکھنا پرتا۔

میں نے اس تھریڈ میں سات آسمانوں کی تشریح اور اور سٹرنگ تھیوری کے نظریہ ایکسٹرا دائمنشن میں ایک مماثلت محسوس کی اور دوسروں سے شیئر کر دیا۔ نہ تو میں قرآنی آیات کو بذریعہ سائنس ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ نہ میں کسی سائنسی تھیوری کو قرآن کی رو سے برحق ثابت کرنے کی چکروں میں ہوں۔

ایک اور بات۔۔۔۔
سات آسمانوں کی تو کوئی نہ کوئی طبعی حیثیت ہوگی۔ لیکن تلاوت قرآن کی طبعی حیثیت بذریعہ سائنس ثابت کرنا ایک بالکل دوسری بات ہے۔ آسمان کی طبعی ساخت تو کبھی نا کبھی معلوم کرکے ثابت کی جا سکتی ہے۔ لیکن تلاوت قرآن ایک آدمی کی طبعی حالت میں کیا تبدیلی لا سکتی ہے اسے مروجہ سائنسی اصولوں سے ثابت کرنے بالکل دوسری بات ہے۔
طبعی چیزیں طبعی چیزوں پر دلیل ہو سکتی ہیں۔ روحانی وجود طبعی اصولوں سے ثابت نہیں کئے جا سکتے۔

آپ کی بیان کی گئی آیات مجھے کیسے غلط ثابت کرتی ہیں۔ نیز میں کسطرح لوگوں کو بنی اسرائیل کے علما کی مانند متنفر کررہا ہوں۔ کچھ اسکی بھی وضاحت ہوجاتی تو بہتر تھا۔ میں نے یہ کب دعویٰ کیا کہ میں ان امور کا عرفان حاصل کر چکا ہوں؟ نیز اگر میں نے قرآن کے بنیادی موضوعات بتانے میں غلطی کی ہے تو براہ کرم اسکی بھی تصحیح کر دیجئے۔

روحانیت سے میرا کوئی واسطہ نہیں۔ آپ صاحب علم ہیں۔ آپ جانتے ہوں گے۔ ایک چھوٹا سا سوال ہے۔
کلام میں عاجزی اور انکساری لانے کے لئے معرفت کی کتنی منزلیں طے کرنا درکار ہے؟
 

عثمان

محفلین
شائد کسی تیکنیکی خرابی کی وجہ سے مراسلے پوری طرح شائع نہیں ہو پا رہے۔
منتظمین سےگذارش ہے کہ توجہ فرمائیں۔ شکریہ
 

جٹ صاحب

محفلین
بہت عمدہ جناب معلومات فراہم کرنے کا شکریہ
آپ مزید ایسی کوشش جاری رکھیے اور لوگوں کی باتوں کا دھیان نہ کیجیئے کیونکہ ان کا تو کام ہی اگلے کی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی کرنا ہوتا ہے۔
خود کلامی اس لنلک پر
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?30388-سات-آسمان
آپ اگر نظریۃ الاوتار یعنی سٹرنگ تھیوری پر تھریڈ بناؤ تو وہ خیر ہے کیونکہ آپ تو بہت بڑے شیخ القرآن ہو۔ لیکن اگر ڈیسینٹ کلر کوئی تھریڈ بنائے تو وہ چونکہ جاہل ہے اور اس کی باتوں سے لوگوں کے گمراہ ہونے کا خطرہ ہے لہٰذا آپ نے ایک عالم فاضل ہونے کی حیثیت ڈیسینٹ کلر کو خبردار کرنا ضروری سمجھا۔
خودکلامی صاحب الاماشاء آپ بحیثیت شیخ القرآن بقول آپ کے ان تین امور کا عرفان حاصل کرچکے ہیں
رب کی پہچان
مقصد حیات
آخرت کی تنبیہ
خودکلامی صاحب ان امور کی آگاہی کے بعد میں آپ کے علم میں یہ بات لانا چاہوں گا کہ انسان کو وہی کچھ کرنا چاہیے جس پر اس کا عمل ہو آپ خود تو قرآن مجید فرقان حمید میں سائنسی توجیہات تلاش کرتے ہیں کیونکہ بحیثیت شیخ القرآن آپ کو پتہ ہے کہ قرآن شریف میں غور و فکر پر بہت زیادہ اصرار کیا گیا ہے
زمین اور آسمان کی پیدائش اور رات دن کے باری باری آنے میں اُن ہوش مند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں جو اٹھتے بیٹھے اور لیٹتے،ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمان اور زمین کی ساخت میں غور و فکر کرتے ہیں وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں کہ ” اے پروردگار ، یہ سب کچھ تونے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے تو پاک ہے اس سے کہ عبث اور بے مقصد کام کرے پس اے رب ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔العمران:190,191 )
(اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اُس چیز نے جو زمین اور آسمان میں ہے اور وہی زبردست دانا ہے ۔زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک وہی ہے ،زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہی اول بھی ہے اور آخر بھی اور ظاہر بھی اور مخفی بھی اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا۔اُس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اُترتا ہے اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے۔وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔جوکام بھی تم کرتے ہو ،اُسے وہ دیکھ رہا ہے وہی زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے اور تمام معاملات فیصلے کے لیے اسی کی طرف رجوع کیے جاتے ہیں ۔وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔الحدید:1تا6 )
یہ آسمان و زمین اور ان کی درمیان کی چیزیں ہم نے محض کھیل کے طور پر نہیں بنادی ہیں ۔ان کو ہم نے برحق پیدا کیا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔سورہ الدخان:38تا39 )
لیکن شیخ القرآن صاحب مجھے بہت افسوس ہوا کہ آپ بنی اسرائیل کے علماء کی طرح لوگوں کو علم سے متنفر کرتے ہو۔ خود کلامی صاحب یہ پریکٹس اچھی پریکٹس نہیں ہے کہ دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فصیحت
آپ اپنی ہی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

شکریہ جناب میں شاید اس بات کا جواب نہیں دے پاتا۔ آپ نے باخوبی اس کا جواب دیا۔
 

دوست

محفلین
قرآن مجید سائنس کی کتاب نہیں ہے سائیں۔ یہ اللہ کی طرف بلانے والی کتاب ہے اور اس کام کے لیے قرآن مچھر کی مثال دینے سے بھی نہیں شرماتا، جیسا کہ اللہ کریم کے اپنے الفاظ یہ ہیں۔ قرآن کو سائنس کے ساتھ رکھ کر دیکھنا صرف یہ ہے کہ ہم قرآن کھول کر بیٹھ جاتے ہیں اور ساتھ سائنس کی کتابیں کھول کر، ترجمہ پڑھتے جاتے ہیں اور جہاں ہمیں لگے کہ فلاں لفظ کا فلاں ترجمہ موجودہ سائنس کی اس تھیوری سے ملتا ہے، ہم جھٹ اچھلنے لگتے ہیں، دیکھا یہ دیکھا قرآن نے یہ سب چودہ سو سال پہلے کہہ دیا تھا۔ سالے انگریز اب آکر پتا کررہے یہ سب۔ اور پھر ہم انگریزوں اور مغرب کی کم عقلی پر حقارت بھری نظریں ڈال کر قرآن کو چوم کر پھر طاق میں سجا دیتے ہیں۔ سائیں کیا یہی قرآن اور سائنس ہے؟ کہ سائنس کو قرآن میں سے سرٹیفکیٹ نکال نکال کر دئیے جائیں؟ سائنس ایک ایسا علم جو کبھی بھی مکمل نہیں ہوسکتا، جس میں دس سال پہلے والے نظریات آج باطل سمجھے جاتے ہیں، اور ہم ہیں کہ ہم نے قرآن کو لغت کی کتاب بنا ڈالا جس میں ہم بس سائنس کے معانی دیکھا کرتے ہیں اور پھر اُچھلا کرتے ہیں، دیکھا دیکھا یہ لفظ پہلے سے ہی تھا اس میں۔ کوئی ایک مثال جس میں قرآن پر تفکر کرنے والوں نے موجودہ سائنس سے بے نیاز ہوکر کوئی بات دریافت کی ہو؟ میں بڑا ممنون ہونگا اگر کوئی دوست ایسی کوئی مثال پیش کرسکے۔ میں پھر وضاحت کردوں قرآن کو پڑھ کر کسی صاحب تفکر مسلمان بلکہ مومن نے 11 سو ہجری کے بعد کوئی سائنسی ایجاد کی ہو۔ میرے علم میں تو بس وہی چھلانگیں ہیں جی جو ہم پچھلے ستر سالوں سے لگاتے آرہے ہیں۔ ہاہاہاہاہا دیکھا بگ بینگ تو قرآن نے پہلے ہی بتا دیا تھا، زمین آسمان ملے ہوئے تھے، ہاہاہاہاہا سلطان کے بغیر تم زمین آسمان کی حدود سے باہر نکل ہی نہیں سکتے ہاہاہاہا قرآن نے بتادیا تھا اسی لیے تو راکٹ ایجاد کرنا پڑا۔ ہاہاہاہاہاہا سٹرنگ تھیوری قرآن سے ثابت ہوئی ہاہاہاہاہا۔ اور جب سٹرنگ تھیوری خود سائنس سے غلط ثابت ہوجائے تو پھر۔۔قرآن غلط؟
عجیب قوم ہے جی ہماری بھی۔ اور عجیب سوچ ہے ہماری۔ اللہ ہی رحم کرے ہم پر۔
 

دوست

محفلین
چونکہ یہاں ہر کوئی مفتی بیٹھا ہے جو بیٹھے بٹھائے میرے جیسے کمی کمین کو اسلام سے خارج کرسکتا ہے تو عرض کرتا چلوں کھوٹ ہمارے عمل میں ہے۔ قرآن تو تفکر کی دعوت دیتا ہے، ہم تفکر کرتے ہی نہیں۔ ہمارا تفکر بھی پری پلانڈ ہوتا ہے، گندی نیت والا جس سے مقصد قرآن کو پرکھنا ہوتا ہے، اپنی قوم کی برتری ثابت کرنا، اور اپنے شاندار ماضی کے حوالے دے دے کر اپنی عظمت بیان کرنا۔ قرآن ہمارا شاندار ماضی ہی تو ہے، جب سے قرآن ماضی بنا امت مسلمہ بھی ماضی بن گئی سائیں۔ قرآن طاقوں میں سج گیا اور مسلمان داروں پر سجنے لگے۔
 

طالوت

محفلین
عثمان اور شاکر کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں ۔ بھایا دراصل اس دور سے گزر رہے ہیں جس میں سے کبھی میں گزرا تھا ۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب مطالعہ وسیع ہو گا اور فکر سے کام لیں گے امید ہے بہت سی چیزیں واضح ہو کرسامنے آئیں گی ۔
وسلام
 

ظفری

لائبریرین
قرآن صرف پہلی دو صدیوں تک ہی دین کا ماخذ رہا ہے ۔ پھر اس کے بعد قرآن کو صرف ناظرے تک محدود رکھ کر اپنی اپنی دوکان سجالیں گئیں ۔ عثمان نے جن تین چیزوں کا تذکرہ کیا ہے ۔ وہی قرآن کے مقاصد ہیں ۔ شاکر اس موضوع پر خاصا کہہ گئے ہیں ۔ مذید کی گنجائش نہیں ۔ رہی سہی کسر روحانیت نے نکال دی ہے جہاں ہر کوئی اپنی جنت بساکر بیٹھا ہوا ہے ۔ امتِ مسلمہ کو کیا مسائل درپیش ہیں اور ان کی کیا ضرورتیں ہیں ۔ خانقاؤں میں اس کے لیئے کوئی جگہ نہیں ۔۔۔۔۔ کچھ اور لوگوں نے اور بھی شارٹ کٹ راستہ نکال لیا ہے ۔ خودکش حملے کرو اور سیدھا جنت کا ٹکٹ کٹواؤ ۔ اللہ ہماری ذہنی حالت پر رحم کرے ۔
 

عثمان

محفلین
روحانی بابا۔۔

میرے سٹرنگ تھیوری والے تھریڈ جس کا آپ نے لنک دیا ہے اس پر صرف ایک جملہ ہے۔ اگر اسے غور سے پڑھ لیتے تو اتنا لمبا مضمون جو میرے موقف کو نہ غلط ثابت کرتا ہے نہ صحیح۔۔۔۔نہ لکھنا پرتا۔

میں نے اس تھریڈ میں سات آسمانوں کی تشریح اور اور سٹرنگ تھیوری کے نظریہ ایکسٹرا دائمنشن میں ایک مماثلت محسوس کی اور دوسروں سے شیئر کر دیا۔ نہ تو میں قرآنی آیات کو بذریعہ سائنس ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ نہ میں کسی سائنسی تھیوری کو قرآن کی رو سے برحق ثابت کرنے کی چکروں میں ہوں۔

ایک اور بات۔۔۔۔
سات آسمانوں کی تو کوئی نہ کوئی طبعی حیثیت ہوگی۔ لیکن تلاوت قرآن کی طبعی حیثیت بذریعہ سائنس ثابت کرنا ایک بالکل دوسری بات ہے۔ آسمان کی طبعی ساخت تو کبھی نا کبھی معلوم کرکے ثابت کی جا سکتی ہے۔ لیکن تلاوت قرآن ایک آدمی کی طبعی حالت میں کیا تبدیلی لا سکتی ہے اسے مروجہ سائنسی اصولوں سے ثابت کرنے بالکل دوسری بات ہے۔
طبعی چیزیں طبعی چیزوں پر دلیل ہو سکتی ہیں۔ روحانی وجود طبعی اصولوں سے ثابت نہیں کئے جا سکتے۔

آپ کی بیان کی گئی آیات مجھے کیسے غلط ثابت کرتی ہیں۔ نیز میں کسطرح لوگوں کو بنی اسرائیل کے علما کی مانند متنفر کررہا ہوں۔ کچھ اسکی بھی وضاحت ہوجاتی تو بہتر تھا۔ میں نے یہ کب دعویٰ کیا کہ میں ان امور کا عرفان حاصل کر چکا ہوں؟ نیز اگر میں نے قرآن کے بنیادی موضوعات بتانے میں غلطی کی ہے تو براہ کرم اسکی بھی تصحیح کر دیجئے۔
 

طالوت

محفلین
ساری بحث کا بغور خالی الذہن ہو کر مطالعہ کریں ، سمجھ آ جائے گی ۔ بنیادی بحث یہ ہے کہ قران سائنس کی کتاب نہیں ۔ اس کے الہامی اور سچا ہونے پر تو کوئی شبہ نہیں مگر ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ سائنس وقت کے ساتھ ساتھ اپنے نظریات میں تبدیلی لاتی رہتی ہے، یہ ایک لا محدود علم ہے اسلئے کسی چیز کو جو آپ قران کی رو سے ثابت کر رہے ہیں وہی کل تبدیل ہو گئی یا کسی اور چیز نے اس کی جگہ لے لی تو قران کا کیا تاثر رہ جائے گا ؟
بھایا قران نے غور و فکر کا درس دیا ہے اور یہ غور فکر استجنے اور غسل کے مسائل پر غور و فکر نہیں (جیسا کہ ہمارے نام نہاد قران اور سائینس ریسرچ ادارے کرتے رہتے ہیں) اس میں سب سے زیادہ اللہ رب العزت کی کائنات نا تمام پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے ۔ اگر آپ کو یاد ہو کافی عرصہ ہوا ایک ای میل اور کاغذی شکل میں دیکھنے سننے کو ملتا تھا کہ انسانی نظام تنفس کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو اس میں کلمہ طیبہ لکھا ملتا ہے ۔ اسے آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں ۔ اس دھاگے پر کی گئی بحث یقینا آپ کو بہت سی باتیں سمجھائے گی ۔
وسلام
 
ڈیسنٹ کلر تمہاری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آئے گا۔ کیونکہ آپ کو سیاست اور جوڑ توڑ کا کچھ تجربہ نہیں ہے شائد کتربیونت کا تجربہ بھی نہیں ہے آپ کو جو اشارے دیئے ہیں اس پر میری پوسٹ نمبر 3 پڑھنے کے بعد خوب غور و فکر کیجیو۔
سمجھ میں کچھ نہیں آتا کسی کی
اگرچہ گفتگو مبہم نہیں ہے
 
قرآن صرف پہلی دو صدیوں تک ہی دین کا ماخذ رہا ہے ۔ پھر اس کے بعد قرآن کو صرف ناظرے تک محدود رکھ کر اپنی اپنی دوکان سجالیں گئیں ۔ عثمان نے جن تین چیزوں کا تذکرہ کیا ہے ۔ وہی قرآن کے مقاصد ہیں ۔ شاکر اس موضوع پر خاصا کہہ گئے ہیں ۔ مذید کی گنجائش نہیں ۔ رہی سہی کسر روحانیت نے نکال دی ہے جہاں ہر کوئی اپنی جنت بساکر بیٹھا ہوا ہے ۔ امتِ مسلمہ کو کیا مسائل درپیش ہیں اور ان کی کیا ضرورتیں ہیں ۔ خانقاؤں میں اس کے لیئے کوئی جگہ نہیں ۔۔۔۔۔ کچھ اور لوگوں نے اور بھی شارٹ کٹ راستہ نکال لیا ہے ۔ خودکش حملے کرو اور سیدھا جنت کا ٹکٹ کٹواؤ ۔ اللہ ہماری ذہنی حالت پر رحم کرے ۔
یار ظفری آپ تو کچھ زیادہ ہی جذباتی ہوگئے ہو اور جذبات میں آکر انسان کو سمجھ نہیں آتی ہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے میرے دوست میرے بھائی اگر تو آپ نے ناسمجھی میں یہ بات کی ہے کہ قرآن صرف تو دو صدیوں تک دین کا ماخذ رہا ہے تو میرے بھائی آپ اس بات پر توبہ کریں اور اللہ سے معافی مانگیں کیونکہ آپ بے خیالی اور ناسمجھی میں بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کربیٹھے ہیں کیونکہ اگر دوصدیوں تک قرآن مجید فرقان حمید دین کا ماخذ تھا تو بعد میں آنے والے بلند پایہ علماء کرام نے جو فتاویٰ اور تفسیرات لکھیں یا دین کی خدمت کی تو ان کا ماخذ پھر وحی تھا جو کہ ان پر معاذ اللہ اترتی تھی۔
میرے بھائی میں آپ کی بات کا مقصد سمجھ گیا ہوں آپ کا مقصد کوئی قرآن کی توہین یا دین کی توہین نہیں ہے لیکن آپ کے الفاظ کا چناؤ غلط ہے کیونکہ آپ نے یہ سب غصے کی حالت میں تحریر کیا ہے۔
آپ کو یہ کہنا چاہیئے تھا کہ خلفائے راشدین کے دور تک تو قرآن مجید فرقان حمید کی خالص تعلیمات پر عمل ہوتا رہا لیکن بعد میں جب بادشاہت ہوگئی تو اس وقت لوگوں نے قرآنی تعلیمات کو بھلا دیا جب سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اصلی قرآنی تعلیمات کی پاداش میں اس وقت کے بادشاہ نے شام بدر کردیا تو اس جلیل القدر صحابی جس کو اصحاب صفہ میں بھی شامل ہونے کا شرف حاصل تھے کا بھوک پیاس کی حالت میں راستہ میں وصال ہوا۔
جہاں تک روحانیت کا تعلق ہے ظفری صاحب روحانیت تو دنیا کے ہر مذہب اور قوم میں پائی جاتی ہے اور جہاں تک خانقاہوں کا تعلق ہے ہو سکتا ہے ادھر امریکہ میں شائد آپ کے گھر کے آس پاس کچھ خانقاہیں ایسی ہوں جدھر لوگوں کے قیام و طعام کا بندوبست ہو اور دن رات اونچی آواز میں ذکر جہر ہوتا ہو کم ازکم پاکستان میں تو کوئی ایسی خانقاہ نہیں ہے کہ جدھر مرید آتے ہوں اور ان کے قیام و طعام کا بندوبست بھی ہو۔
اور جہاں تک خود کش حملوں کی بات ہے یہ سسٹم کے خلاف آواز ہے خود کش دھماکے نہیں ہونگے تو ملک میں انقلاب کیسے آئے گا لوگ دن بہ دن غریب ہوتے جارہے ہیں مملکت خداداد کے سیاستدان ملک کے وسائل کو لوٹ گھسوٹ رہے ہیں میں خود سرکاری بندہ ہوں مجھے پتہ ہے کہ کس طرح سے خزانے کو لوٹا جارہا ہے مشرف دور میں چینی 28روپے کلو تھی اب شہر میں 70اور ذرا سا ہٹ کر 75میں فروخت ہورہی ہے اور سارے چینی چور اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں اور اب تو اس پاکستان میں آدھے سے زیادہ اسمبلی کے رکن جاہل ہیں خود کش دھماکے نہیں ہونگے تو اور آسمان سے من و سلویٰ اترے گا۔
گلشن کی بربادی کو بس ایک ہی الو کافی ہے
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا
 

طالوت

محفلین
ڈیسنٹ کلر کا نام آصف اشرف ہے اور یہ میرے چھوٹے بھائی ہیں ۔ رہی کتربونیت اور سیاست کی بات تو موصوف واقعی اس سے نا بلد ہیں ۔ ان کی ان معاملات میں کم علمی کی وجہ مطالعہ اور بیٹھک کی کمی ہے ۔ اب جب محفل پر فعال ہوئے ہیں تو تھوڑا وقت لگے گا سمجھنے میں فی الحال تو بقول شاکر ہم کمی کمین مسلمانوں اور دیگر “عالمین“ اسلام کی باتوں پر نا سمجھی کا اظہار ہی کر سکتے ہیں۔
بھایا کچھ کتابیں میری الماری میں رکھی ہیں اور بہت سے مضامین اسلامی زمرے میں موجود ہیں ، مطالعہ مفید رہے گا ، مگر ضروری بات یہ کہ اپنی عقل کا استعمال کیا جائے بجائے اس کے کہ کسی سے متاثر ہو کر کسی چیز کو اختیار کیا جائے۔
وسلام
 

ظفری

لائبریرین
آپ ٹہرے روحانی بابا ۔۔۔۔ اب آپ سے کیا بحث کی جائے ۔۔۔۔۔ آپ جس موضوع پر بحث کرنا چاہ رہے ہیں ۔ اس موضوع پر آپ جیسے استدلال کے بخیئے یہاں ادھیڑے جاچکے ہیں ۔ میری استدعا ہے کہ آپ پہلے ان موضوعات پر پہلے کی ابحاث پڑھ لیں ۔پھر یہاں کوئی استدلال پیش کریں ۔ یا پھر کم از کم کوشش کریں کہ کسی کی پوری بات سمجھ لیا کریں ۔ میں نے پہلی دو صدیوں پر قرآن کے ماخذ ہونے پر جو نکتہ اٹھایا ہے ۔ وہ آپ سے بہت دور ہوکر نکل گیا ہے ۔ جہاں آپ کو میرا نکتہِ اعتراض ہی سمجھ نہیں آیا تو اب میں الفاظوں کے چناؤ پر کیا بات کروں ۔ روحانیت پر بھی آپ نے بلکل الگ بات کی ہے ۔ قصہ مختصر آپ نے جو بھی اعتراض کیا ہے ۔ اس کا میرے نکتہِ نظر سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ ویسے واضع رہے کہ میں یہ باتیں غصے سے نہیں لکھ رہا بلکہ میرا اندازِ تحریر ہی ایسا ہے ۔ (ویسے آپ کا اندازِ ناصح بڑا نرالا ہے ۔)
اکثر نئے ممبران جو محفل پر آکر سیاست اور مذہب کے فورمز پر اپنے تبصرے کرتے ہیں ۔ میں ان سے یہی کہا کرتا ہوں کہ کسی بھی موضوع پر بحث سے پہلے کم از کم یہ دیکھ لیں کہ کیا اس موضوع پر بحث کی جا چکی ہے ۔ کیونکہ بار بار ایک ہی راگ الاپنا صحتمندانہ رویہ نہیں لگتا ۔ اس لیئے ان فورمز پرسختیاں روا رکھیں گئیں ہیں ۔
 

dxbgraphics

محفلین
قرآن صرف پہلی دو صدیوں تک ہی دین کا ماخذ رہا ہے ۔ پھر اس کے بعد قرآن کو صرف ناظرے تک محدود رکھ کر اپنی اپنی دوکان سجالیں گئیں ۔ عثمان نے جن تین چیزوں کا تذکرہ کیا ہے ۔ وہی قرآن کے مقاصد ہیں ۔ شاکر اس موضوع پر خاصا کہہ گئے ہیں ۔ مذید کی گنجائش نہیں ۔ رہی سہی کسر روحانیت نے نکال دی ہے جہاں ہر کوئی اپنی جنت بساکر بیٹھا ہوا ہے ۔ امتِ مسلمہ کو کیا مسائل درپیش ہیں اور ان کی کیا ضرورتیں ہیں ۔ خانقاؤں میں اس کے لیئے کوئی جگہ نہیں ۔۔۔۔۔ کچھ اور لوگوں نے اور بھی شارٹ کٹ راستہ نکال لیا ہے ۔ خودکش حملے کرو اور سیدھا جنت کا ٹکٹ کٹواؤ ۔ اللہ ہماری ذہنی حالت پر رحم کرے ۔

قرآن صرف دو صدیوں تو دین کا ماخذ رہا ہے۔ تو آپ پھر بارہ سو سال بعد کس علم کی بنیاد پر یہ دعوی کر رہے ہیں۔ اور آج میں اور آپ جس دین پر قائم ہیں اس کا ماخذ کیا ہے۔ رہی بات مناظرے کی تو کسی بھی اسلامی موضوع پر قرآن اور حدیث سے راہنمائی نہیں لی جائے گی تو کیا ۔ تورات زبور انجیل سے لی جائیگی
روحانیت نے کسر نکال دی۔ یہ بات آپ کی بجاہے۔
خود کش حملوں کا ذمہ دار چوروں کا اسمبلی میں ہونا ہے۔ وگرنہ کوئی خوشحال زندگی بسر کرنےوالا آدمی کبھی بھی یہ راستہ اختیار نہ کرے۔ لیکن اشرافیہ طبقے نے کرسیوں پر قبضہ کر کے عوام کے گرد دائرہ زندگی اتنا تنگ کر دیا کہ ان کو کوئی دوسرا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ آج دنیا میں جتنے پڑھے لکھے زیادہ ہیں اتنے ہی حالات بدتر ہیں۔ اور یہ وہی پڑھے لکھے ہیں جو لبرلزم کے نام پر اسلامی اقدار کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔ غامدی جیسے لوگ ایک گلیمر فوٹو کےبارے میں یہ تک کہہ جاتے ہیں کہ یہ پردے میں ہے۔ دوسرا آپ کے انداز تحریر کے بارے میں تو میں صرف آپ سے احتجاج ہی کر سکتا ہوں کہ آپ چونکہ اب موڈریٹر ہیں ۔ الفاظ کا چناو زبردست ہے آپ کا لیکن انداز بیاں آمرانہ اور careless ہے۔
 
Top