قرآن مجید کی سورتوں کے مضامین کا آپس میں ربط

ام اویس نے 'قران فہمی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 19, 2018

  1. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,773
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سورة الانفال کے مضامین کا خلاصہ
    مضامین کے اعتبار سے سورة انفال کے دو حصے ہیں ۔
    حصہ اوّل :- سورة کی ابتداء آیة 1 سے
    يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ قُلِ الْأَنفَالُ لِله وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا الله وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا الله وَرَسُولَهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

    اردو:

    اے نبی ! مجاہد لوگ تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ کیا حکم ہے کہدو کہ غنیمت الله اور اسکے رسول کا مال ہے۔ تو الله سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو الله اور اسکے رسول کے حکم پر چلو۔
    آیة 40 تک
    وَإِن تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوا أَنَّ الله مَوْلَاكُمْ نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ

    اردو:

    اور اگر روگردانی کریں تو جان رکھو کہ الله تمہارا حمایتی ہے اور وہ خوب حمایتی اور خوب مددگار ہے۔

    حصہ دوم :- آیة 41
    وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللهِ وَمَا أَنزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

    اردو:

    اور جان رکھو کہ جو مال غنیمت تم کفار سے حاصل کرو اس میں سے پانچواں حصہ الله کا اور اسکے رسول کا اور اہل قرابت اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم الله پر اور اس نصرت پر ایمان رکھتے ہو جو حق و باطل میں فرق کرنے کے دن یعنی جنگ بدر میں جس دن دونوں فوجوں میں مڈبھیڑ ہو گئ۔ ہم نے اپنے محبوب بندے محمد ﷺ پر نازل فرمائی۔ اور الله ہر چیز پر قادر ہے۔

    سے لیکر سورة کے آخر یعنی آیة 75 تک ۔

    وَالَّذِينَ آمَنُوا مِن بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا مَعَكُمْ فَأُولَئِكَ مِنكُمْ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللهِ إِنَّ اللهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

    اردو:

    اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے وہ بھی تم ہی میں سے ہیں اور رشتہ دار الله کے حکم کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں کچھ شک نہیں کہ الله ہر چیز سے واقف ہے۔

    دونوں حصوں میں دو مضامین بیان کیے گئے ہیں ۔ تقسیم غنائم ( مال غنیمت کی تقسیم الله کے حکم کے مطابق کرو ۔ اور قوانین جہاد

    پہلے حصے میں مضمون اول یعنی تقسیم غنائم سات علل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور پانچ قوانین جہاد بیان کیے گئے ۔
    دوسرے حصے میں مضمون اول تقسیم غنائم پانچ علل کے ساتھ اور سات قوانین جہاد ( جن میں سے دو مؤمنین کے لیے اور پانچ خاص نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے لیے ) ہیں ۔

    باقی حسب موقع تبشیریں ، تخویفیں ، زجریں اور شکوہ جات بیان کیے گئے ہیں
     
  2. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,773
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سورة التوبہ
    سورة التوبہ کو ماقبل سے دوطرح کا ربط ہے ۔
    ربط معنوی
    سورة النفال میں مشرکین سے جہاد کرنے کا حکم اجمالا دیا گیا ۔ اگر جہاد میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہو اور مالِ غنیمت ہاتھ آئے تو اس کی تقسیم الله سبحانہ وتعالی کے حکم کے مطابق کرو ۔ اس میں اختلاف و جھگڑا نہ کرو ۔ مالِ غنیمت کے مصارف کی تقسیم بھی کی گئی ۔
    سورة التوبہ میں جہاد کے اعلان کا اعادہ کیا گیا اور تفصیل سے بتایا گیا کہ کن لوگوں سے جہاد کرنا ہے ۔ یعنی وہ لوگ جو غیر الله کی تحریمیں کرتے ہیں ، ان کی نذریں نیازیں دیتے ہیں ، انبیاء اور بزرگان دین کو متصرف و مختار سمجھتے ہیں الله کی تحریمات قائم نہیں کرتے ان کے ساتھ اعلانِ جنگ کر دو


    سورة الانفال میں اگرچہ حکمِ قتال بالاجمال مذکور تھا مگر وہاں مقصود قانونِ جنگ اور مصارفِ غنیمت کا بیان ہے اور سورة توبہ میں مقصود اعلانِ جنگ کا حکم ہے اس لیے یہ مضمون یعنی قتال فی سبیل الله تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے ۔

    ربط اسمی
    ربط اسمی یہ ہے کہ مشرکین سے اعلانِ جنگ کردو اور فتح کے بعد حاصل ہونے والے انفال کو الله تعالی کے حکم کے مطابق تقسیم کرو ۔ لیکن فَاِنْ تابُوا ۔۔۔۔ الخ اگر وہ مشرک توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں ۔ اسلام کے احکام مان کر ان پر عمل پیرا ہوجائیں تو وہ تمہارے بھائی ہیں ان سے جہاد مت کرو ۔
     
  3. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,773
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سورة التوبہ کے مضامین کا خلاصہ
    مضامین کے اعتبار سے سورة توبہ کے دو حصے ہیں ۔
    حصہ اول :- ابتداء سورة سے

    بَرَاءَةٌ مِّنَ اللهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ


    اردو:

    اے اہل اسلام اب الله اور اسکے رسول کی طرف سے ان مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا بیزاری اور جنگ کی تیاری ہے۔

    آیة 37 تک

    إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ يُضَلُّ بِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا يُحِلُّونَهُ عَامًا وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا لِّيُوَاطِئُوا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فَيُحِلُّوا مَا حَرَّمَ الله زُيِّنَ لَهُمْ سُوءُ أَعْمَالِهِمْ وَاللهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ

    اردو:

    ادب کے کسی مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کر دینا کفر میں بڑھ جانا ہے اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو اسکو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام تاکہ ادب کے مہینوں کی جو اللہ نے مقرر کئے ہیں گنتی پوری کر لیں۔ اور جو الله نے منع کیا ہے اسکو جائز کر لیں۔ انکے برے اعمال انکو بھلے دکھائی دیتے ہیں اور الله کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

    اس حصہ میں
    بد عھدی کرنے والے مشرکین سے اعلان براة
    مشرکین سے اعلانِ جنگ
    مشرکین سے جنگ کرنے کے متعلق شبھات کا جواب جو ان کے ساتھ قتال کرنے سے مانع تھے اور مشرکین سے قتال کے اسباب و وجوھات
    مذکور ہیں ۔

    حصہ دوم :- آیة 38 سے

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُوا فِي سَبِيلِ اللهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ


    اردو:

    مومنو! تمہیں کیا ہوا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ الله کی راہ میں جہاد کے لئے نکلو تو تم زمین سے چپکے جاتے ہو یعنی گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے کیا تم آخرت کی نعمتوں کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔ سو دنیا کی زندگی کے فائدے تو آخرت کے مقابل بہت ہی کم ہیں۔

    آیة 122 تک

    وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ

    اردو:

    اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین کا علم سیکھتے اور اس میں سمجھ پیدا کرتے۔ اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو انکو ڈر سناتے تاکہ وہ بھی محتاط ہو جاتے۔

    اس حصے میں منافقین کے لیے زجریں اور مؤمنین کے لیے ترغیب الی القتال ہے ۔

    اسی حصے میں آیة 113

    مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ

    اردو:

    پیغمبر اور مسلمانوں کو شایاں نہیں کہ جب ان پر ظاہر ہو گیا کہ مشرک اہل دوزخ ہیں تو انکے لئے بخشش مانگیں گو وہ انکے قرابت دار ہی ہوں۔

    میں فرمایا کہ مشرکین سے جہاد جاری رکھو اور تمہارے جو متعلقین حالتِ کفر میں مر چکے ہیں یا جن کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے ان کے لیے دعائے مغفرت نہ کرو اگرچہ وہ تمہارے قریبی رشتہ دار ہی ہوں ۔

    آخر سورة آیة 123 سے آیة 129 تک مضامینِ سورة کا اعادہ کیا گیا ۔
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 15, 2019
  4. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,773
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سورة یونس
    ربط اسمی
    سورة التوبہ آیة 5 میں فرمایا

    فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ

    پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے لگیں تو ان کا رستہ چھوڑ دو۔

    اور سورة یونس آیة 98 میں فرمایا

    فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ

    اردو:

    سو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا۔ ہاں یونس کی قوم کہ جب ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کر دیا اور ایک مدت تک فوائد دنیاوی سے انکو بہرہ مند رکھا۔

    یعنی اب توبہ کرنے ، ایمان لانے اور اعمال صالحہ بجا لانے کا وقت ہے اس لیے ایمان لے آؤ ورنہ جب ہمارا عذاب آگیا پھر ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ یہ صرف قوم یونس ہی تھی جس نے عذاب خداوندی دیکھ کر ایمان قبول کیا اور اس وقت کے ایمان لانے سے ان کو فائدہ بھی پہنچ گیا

    ربط معنوی
    اسکی دو تقریریں ہیں ۔
    تقریر اول :- قرآن مجید میں نفی شرک کے سلسلہ میں دو باتوں پر زور دیا گیا ہے ۔
    اوّل :- یہ کہ الله تعالی کے سوا کوئی کارساز و متصرف نہیں ۔
    دوم :- کہ الله تعالی کے ہاں کوئی شفیع غالب نہیں ۔
    اس سے پہلی سورتوں میں مسئلہ توحید کے ہر پہلو کو تفصیل سے بیان کیا گیا ۔ عقلی ، نقلی اور وحی دلائل سے ثابت کیا گیا کہ الله تعالی کے سوا کارساز ، متصرف و مختار اور نذر ونیاز کا مستحق نہیں ۔ اب سورة یونس میں مشرکین کے اس خیال باطن کا رد فرمایا
    کہ الله تعالی کے سامنے کوئی شفیع غالب ہے جو اس سے اپنی بات منوا سکے
    تقریر ثانی :-
    سورة
    البقرہ میں مندرجہ ذیل مضامین خصوصیت سے بیان ہوئے ۔
    توحید ، رسالت ، جہاد فی سبیل الله ، انفاق فی سبیل الله ، امور انتظامیہ ، امورِ مصلحہ
    اس کے بعد سورة
    آل عمران میں ان مضامین میں سے توحید کے ایک پہلو یعنی نفی شرک اعتقادی
    اور رسالت ، جہاد ، انفاق کا ذکر کیا گیا
    سورة
    نساء میں سورة بقرہ کے ایک مضمون امور انتظامیہ مع امور مصلحہ کو تفصیل سے بیان کیا گیا
    چودہ احکام رعیت اور نو احکامِ سلطانیہ
    اس کے بعد سورة
    مائدہ اور سورة الانعام میں مسئلہ توحید کے دونوں پہلوؤں نفی شرک اعتقادی اور نفی شرک فعلی کو واضح کیا گیا ۔ مائدہ میں دعوٰی کی وضاحت پر اور الانعام میں دلائل عقلیہ پر زور دیا گیا ۔
    اس کے بعد سورة
    الاعراف میں نفی شرک فعلی و نفی شرک اعتقادی پر زیادہ تر دلائل نقلیہ بیان کیے گئے ۔
    سورة
    الانفال اور سورة التوبہ میں قَاتِلوھم سے مشرکین کے ساتھ جہاد کا حکم ہوا ۔ اور جہاد فی سبیل الله کے تفصیلی احکام بیان کیے گئے ۔
    یہاں تک سورة البقرہ کے تمام مضامین مفصل اور دلائل کے ساتھ بیان ہوچکے صرف توحید کا ایک پہلو باقی رہ گیا یعنی نفی شفاعت قہری
    سورة یونس میں شفاعت قہری کی نفی پر دس دلائل عقلیہ اور ایک دلیل وحی پیش کی گئی اور ثابت کیا گیا کہ الله تعالی مالک الملک اور مختار مطلق ہے اس کے سامنے کوئی شفیع غالب نہیں ۔ اسکے سامنے کوئی مقرب فرشتہ ، کوئی نبی مرسل ، کوئی ولی مکرم دم نہیں مار سکتا ۔
    نفی شفاعتِ قہری کا یہ مضمون سورة یونس سے لے کر سورة الکہف کے آخر تک چلا گیا ہے ۔
     
  5. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,773
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    خلاصہ سورة یونس
    شرک کا قلب : نفی شفاعت قہری
    قرآن مجید کا قلب : توحید ، رسالت ، قیامت (تین مضامین )
    سورة یونس میں تین جگہ دعوٰی موجود ہے
    دعوٰی اوّل : اجمالاً
    آیة :3
    مَا مِن شَفِيعٍ إِلَّا مِن بَعْدِ إِذْنِهِ
    کوئی اسکے پاس اسکی اجازت حاصل کئے بغیر کسی کی سفارش نہیں کر سکتا۔

    یعنی الله تعالٰی کے سامنے کوئی شفیع غالب نہیں ۔ قیامت کے دن جن انبیاء و صلحاء کو شفاعت کی اجازت ملے
    گی وہ سفارش کر سکیں اور اسکی اجازت کے بغیر کسی کو لب کشائی کی اجازت نہ ہوگی

    دعوٰی ثانی :
    آیة :18
    وَيَقُولُونَ هَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللهِ ۔۔۔۔۔ الخ

    اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں

    اس دعوٰی پر گیارہ دلائل پیش کیے گئے ہیں دس دلائل عقلیہ اور ایک دلیل وحی ۔ دلائل عقلیہ میں سے ایک دلیل نفی شرک فی العلم پر ہے اور ایک دلیل عقلی نفی شرک فعلی پر ۔ آٹھ دلائل عقلیہ نفی شرک فی التصرف پر دآلّ ہیں ۔ ان آٹھ دلائل کے درمیان تین بار ان کا ثمرہ بھی ذکر کیا گیا ہے اور اس دعوٰی یعنی نفی شفاعت قہری پر تخویف دنیوی کے تین نمونے پیش کیے گئے دو نمونے تفصیلی اور ایک اجمالی ۔
    ساتھ ساتھ حسب مواقع تخویفیں ، تبشیریں ، زجریں ، شکوے ، جواب شکوے ، دنیا کی ناپائیداری اور حقارت کی تمثیل ، ترغیب الی القرآن اور تسلیہ للنبی صلی الله علیہ وسلم کا بیان ہے ۔

    دعوٰی ثالث : تفصیلا

    آیة 104 تا 107
    قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي شَكٍّ مِّن دِينِي فَلَا أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَلَكِنْ أَعْبُدُ اللَّهَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
    اردو:
    اے پیغمبر کہدو کہ لوگو اگر تم کو میرے دین میں کسی طرح کا شک ہو تو سن رکھو کہ جن لوگوں کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو میں انکی عبادت نہیں کرتا۔ لیکن میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری روحیں قبض کر لیتا ہے۔ اور مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ ایمان لانے والوں میں ہو جاؤں۔

    وَأَنْ أَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
    اردو:
    اور یہ کہ اے نبی سب سے یکسو ہو کر دین اسلام کی پیروی کئے جاؤ اور مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہونا۔

    وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ الظَّالِمِينَ
    اردو:
    اور اللہ کو چھوڑ کو ایسی چیز کو نہ پکارنا جو نہ تمہارا کچھ بھلا کر سکے اور نہ کچھ بگاڑ سکے اب اگر ایسا کرو گے تو ظالموں میں ہو جاؤ گے۔

    وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ يُصِيبُ بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
    اردو:
    اور اگر اللہ تم کو کوئی تکلیف پہنچائے۔ تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں۔ اور اگر تم سے بھلائی کرنی چاہے تو اسکے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہے۔ اور وہ بخشنے والا ہے مہربان ہے۔
     
  6. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,773
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سورة ھود
    سورة ھود کا ماقبل سے دو طرح کا ربط ہے۔
    اسمی ربط
    سورة یونس میں جس طرح مسئلہ توحید کو بیان کیا گیا، شرک اعتقادی ( نفی شرک فی التصرف و نفی شرک فی العلم ) اور شرک فعلی کا جس انداز سے رد کیا گیا جب تم اس کو اسی انداز سے بیان کرو گے تو تم بھی مشرکین کی طرف سے طعنوں اور ملامتوں کا نشانہ بنو گے۔
    اسی طرح ھود علیہ السلام کو انکی قوم نے مسئلہ توحید بیان کرنے پر طرح طرح کے طعنے دئیے۔
    جیسا کہ سورة ھود کی آیت 53 اور 54 میں مذکور ہے۔

    قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
    اردو:
    وہ بولے ہود تم ہمارے پاس کوئی دلیل ظاہر نہیں لائے۔ اور ہم صرف تمہارے کہنے سے نہ اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ تم پر ایمان لانے والے ہیں۔

    إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ
    اردو:
    ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں تکلیف پہنچا کر دیوانہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں الله کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جنکو تم الله کا شریک بناتے ہو۔ میں ان سے بیزار ہوں۔

    معنوی ربط
    اسکی تین تکریریں ہیں ۔
    تکریر اول :
    سورة یونس کے آخر میں فرمایا:

    وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَاصْبِرْ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ
    اردو:
    اور اے پیغمبر تم کو جو حکم بھیجا جاتا ہے اس کی پیروی کئے جاؤ اور تکلیفوں پر صبر کرو۔ یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

    اب سورة ھود کے شروع میں فرمایا:

    الر كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ
    اردو:
    الٓرا۔ یہ وہ کتاب ہے جسکی آیتیں جچی تلی ہیں پھر یہ کہ الله حکیم و خبیر نازل کرنے والے کی طرف سے بہ تفصیل بیان کی گئ ہیں۔

    تکریر ثانی:
    سورة یونس میں دلائل عقلیہ سے ثابت کر دیا کہ الله سبحانہ وتعالی کے ہاں کوئی شفیع غالب نہیں اب سورة ھود میں کہا جا رہا ہے کہ جب الله تعالی کے ہاں کوئی شفیع غالب نہیں تو حاجات و مشکلات میں مافوق الاسباب صرف الله تعالی کو پکارو کیونکہ اس کے سوا کوئی عالم الغیب اور کارساز نہیں ۔ غیر الله کی پکار کا مسئلہ اگرچہ سورة یونس میں بھی مذکور ہے لیکن اس میں زیادہ زور دلائل پر دیا گیا ہے۔ سورة ھود میں زیادہ زور غیر الله کی پکار سے ممانعت پر ہے۔ یعنی غیر الله کی پکار کی نفی سورة ھود کا موضوع ہے۔
    تکریر ثالث:
    سورة یونس میں دعوی توحید پر صرف عقلی دلائل پیش کیے گئے ہیں اب سورة ھود میں دلائل نقلیہ بھی ذکر کیے جائیں گے چنانچہ اس سورة میں دعوی توحید دلائل عقلیہ و نقلیہ سے مدلل ہو جائے گا ۔
    اور کہہ دیا جائے گا کہ دعوی توحید تو بالکل واضح اور ثابت ہے لیکن مشرکین ضد و عناد کی وجہ سے نہیں مانتے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  7. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,773
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سورة ھود
    خلاصہ
    سورة ھود کے ابتدائی حصے میں چار دعوے مذکور ہیں ۔
    دعوٰی اول ؛
    آیة 2 ,3:

    أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ ۔۔۔۔۔۔۔ الخ
    اردو:
    اس کا پیغام یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو

    وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ ۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ
    اردو:
    اور یہ کہ اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اسکے آگے توبہ کرو

    دعوٰی ثانی ؛
    آیة:5

    أَلَا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
    اردو:
    دیکھو یہ اپنے سینوں کو دہرا کرتے ہیں تاکہ اللہ سے چھپ جائیں۔ سن رکھو جس وقت یہ اپنے کپڑوں میں لپٹ رہے ہوتے ہیں تب بھی وہ انکی چھپی اور کھلی باتوں کو جانتا ہے۔ وہ تو دلوں کی باتوں تک سے آگاہ ہے۔

    صرف الله سبحانہ وتعالی ہی عالم الغیب ہے اور ساری کائنات کا ذرہ ذرہ اس پر آشکار ہے۔

    دعوٰی ثالث :
    آیة : 12

    فَلَعَلَّكَ تَارِكٌ بَعْضَ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَضَائِقٌ بِهِ صَدْرُكَ أَن يَقُولُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ كَنزٌ أَوْ جَاءَ مَعَهُ مَلَكٌ إِنَّمَا أَنتَ نَذِيرٌ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ
    اردو:
    تو شاید تم کچھ چیز وحی میں سے جو تمہارے پاس آتی ہے چھوڑ دو اور اس خیال سے تمہارا دل تنگ ہو کہ کافر یہ کہنے لگیں کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں نازل ہوا یا اسکے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ اے نبی تم تو صرف نصیحت کرنے والے ہو۔ اور اللہ ہر چیز کا نگہبان ہے۔
    مشرکین کے طعنوں سے آزردہ خاطر ہو کر تبلیغ میں کوتاہی نہ کرو۔

    دعوٰی رابع:
    آیة : 17

    وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أُولَئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الْأَشْهَادُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
    اردو:
    اور اس سے بڑھ کو ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟ ایسے لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ بولا تھا۔ سن رکھو کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔

    مسئلہ توحید بالکل واضح اور روشن ہے اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔لیکن معاندین ضد کی وجہ سے نہیں مانتے ۔
    مذکورہ چاروں دعووں کے درمیان زجریں ، تخویفیں ، تبشیریں حسبِ مواقع مذکور ہیں۔
    اس کے بعد انبیاء علیھم السلام کے سات قصے بیان کیے گئے ہیں جو بطور لف و نشر مرتب مذکورہ دعووں سے متعلق ہیں ۔

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,773
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    سورة یوسف
    روابط
    اسمی ربط:
    سورة ھود کا سورة یوسف سے اسمی ربط یہ ہے کہ سورة ھود میں جس مسئلے کا ذکر کیا گیا
    کہ الله تعالی کے سوا کوئی عبادت و پکار کے لائق نہیں۔ یہ مسئلہ اس قدر اہم اور ضروری ہے
    کہ یوسف علیہ السلام نے جیل میں بھی اس کی تبلیغ و اشاعت کو یاد رکھا۔
    قید خانے میں دو قیدیوں کو تعبیر دینے سے پہلے ان کو مسئلہ توحید سمجھایا اور انہیں بتایا کہ غیر الله کی عبادت اور پکار پر تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں۔
    شرک عقل و نقل کے خلاف ہے اس لیے الله سبحانہ وتعالی نے حکم دیا کہ اس کے سوا کسی کو مت پکارو۔
    معنوی ربط :
    سورة یوسف کو سورة ھود سے معنوی ربط یہ ہے کہ سورة ھود کا دوسرا دعوٰی تھا۔ الله تعالی کے سوا کوئی عالم الغیب اور متصرف و مختار نہیں۔ اب سورة یوسف میں اس دعوٰی پر ایک بڑی نقلی دلیل مفصل ذکر کی گئی ہے۔ سورة ھود کا مقصودی دعوٰی تو پہلا ہی ہے یعنی الله کے سوا کوئی عبادت و پکار کے لائق نہیں۔ لیکن دوسرا دعوٰی چونکہ پہلے دعوے کے لیے بمنزلہ علت و دلیل ہے اور علت ودلیل کا مضبوط و مستحکم ہونا معلول و مدلول کے ثبوت و استحکام کو لازم ہے اس لیے دوسرے دعوے کو مفصل دلیل نقلی سے مضبوط کیا گیا۔
    جب یہ ثابت ہوگیا کہ الله تعالی کے سوا کوئی متصرف و کارساز نہیں تو لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ الله تعالی کے سوا کوئی عبادت و پکار کے لائق بھی نہیں۔ سورة ھود میں متعدد انبیاء علیھم السلام کی زبان سے دعوی ذکر کیا گیا کہ الله تعالی کے سوا کوئی نبی ، فرشتہ یا ولی عبادت و پکار کے لائق نہیں۔
    سورة یوسف میں ایک جلیل القدر پیغمبر جن کا باپ پیغمبر ، دادا پیغمبر اور بیٹا پیغمبر یعنی یعقوب علیہ السلام کا واقعہ مفصل ذکر کیا گیا۔ جس کی ایک ایک کڑی سے یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ وہ نہ غیب جانتے تھے نہ ہی متصرف و مختار تھے۔ اس لیے عبادت و پکار کے بھی لائق نہ تھے۔ وہ اپنے بیٹے کی جدائی میں عرصۂ دراز آزردہ رہے لیکن اس کا حال نہ معلوم ہو سکا اور نہ ہی وہ اس کی جدائی کو وصال میں بدل سکے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,773
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سورة یوسف
    مضامین کا خلاصہ

    سورة یوسف میں چار دعوے مذکور ہیں۔ دو عظیم دعوے اور دو صغیر دعوے
    عظیم دعوے
    وہ جو سورة ھود کے آخر میں آیة : 123 میں ذکر کیے گئے۔

    وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

    اردو:

    اور آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں کا علم الله ہی کو ہے اور تمام معاملات اسی کی طرف رجوع کئے جائیں گے۔ تو اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو۔ اور جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو تمہارا پروردگار اس سے بےخبر نہیں۔

    اصل میں دعوٰی ثانی

    وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ
    پہلے دعوے کی علت ہے کیونکہ جب سب کچھ کرنے والا بھی وہ ہے تو سب کچھ جاننے والا بھی وہی ہے۔
    صغیر دعوے
    دعوٰی اول
    آیة 102 تا 104 ​
    ذَلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۔۔۔۔ الی ۔۔۔۔ لِلعالمین ۔
    یعنی آپ سچے رسول ہیں اور الله تعالی کی طرف سے آپ پر وحی نازل ہوتی ہے ۔

    دعوٰی ثانی
    آیة 108 تا 110
    وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم ۔۔۔۔۔۔ الی ۔۔۔۔ مجرمین ۔
    انبیائے سابقین کی طرح آپ پر بھی مصائب آئیں گے لیکن آخر کامیابی اور فتح مندی آپ کے قدم چومے گی۔
    اس سورة میں ایک تخویف دنیوی اور جواب و سوال مقدر ہے ۔
    حضرت یوسف علیہ السلام کے 15 احوال مذکور ہیں جن میں سے ہر حال ان دونوں دعووں کو ثابت کرتا ہے ۔
    آیة 1 تا 3
    آلرٰ ۔۔۔۔۔ الی ۔۔۔ اَلغَافلین
    اس کے بعد احوال شروع ہوتے ہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,773
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سورة الرعد
    روابط
    سورة الرعد کا سورة یوسف سے دو طرح کا ربط ہے
    اسمی ربط

    اسمی ربط یہ ہے کہ مسئلہ توحید اس قدر اہم اور واضح ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے جیل میں بھی اس کی تبلیغ کی اور خوابوں کی تعبیر پوچھنے والوں کو پہلے مسئلہ توحید سمجھایا پھر تعبیر بتائی۔ رعد اور دوسرے تمام فرشتے الله کی ہیبت اور خوف سے لرزاں و ترساں ہر وقت اس کی تسبیح اور تحمید میں مصروف رہتے ہیں اور ہر قسم کے شرک سے اس کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔
    معنوی ربط
    سورة الرعد کا سورة یوسف کے ساتھ معنوی ربط یہ ہے کہ سورۃ یوسف میں ایک بڑی اور مفصل دلیل نقلی کو ثابت کیا گیا کہ الله تعالی کے سوا کوئی پیغمبر ، کوئی ولی ، کوئی فرشتہ اور کوئی جن وبشر عالم الغیب اور کارساز نہیں۔ سورة یوسف تک یہ دونوں دعوے دلائل عقلیہ و نقلیہ سے ثابت کر دئیے گئے ہیں یہاں تک کہ اب مسئلہ توحید نظری نہیں رہا بلکہ بدیہی ہوگیا معاندین محض ضد و عناد کی وجہ سے اسے نہیں مانتے۔ اس کے باوجود ان دعووں کی مزید توضیح اور تفہیم کے لیے سورة الرعد میں گیارہ دلائل عقلیہ بطور تنبیہ ذکر کیے گئے ہیں۔

    خلاصہ سورة الرعد
    سورة الرعد میں دونوں دعووں (یعنی غیب دان اور کارساز صرف الله تعالی ہی ہے ) پر بطور تنبیہ گیارہ دلائل ذکر کیے گئے ہیں۔ ان میں آٹھ دلائل عقلیہ اور ان کے ثمرہ جات ، دو دلائل وحی اور ایک نقلی دلیل برائے مؤمنین سابقین ہے۔ حسب موقع شکوے ، زجریں ، تبشیریں ، تخویفیں اور تسلیہ للنبی صلی الله علیہ وسلم کا ذکر ہے۔
     
  11. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,773
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سورة ابراھیم
    روابط
    اسمی ربط :
    ماقبل سے اسمی ربط یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں بیان سن چکے ہو جو انہوں نے جیل میں قیدیوں کے سامنے دیا نیز رعد اور دوسرے فرشتوں کا حال بھی سُن لیا کہ وہ ہر وقت شرک سے الله تعالی کی پاکیزگی بیان کرتے رہتے ہیں۔ اب حضرت ابراھیم علیہ السلام کا حال بھی دیکھ لو وہ بھی اپنے اہل وعیال کو بحکم خدا بے آب و گیاں بیاباں میں چھوڑ کر الله تعالی کی توحید کا اعلان کرتے رہے کہ الله سبحانہ وتعالی کے سوا کوئی عالم الغیب اور کارساز نہیں۔
    حضرت ابراھیم نے الله تعالی سے دعا کی تھی۔
    آیة 35 تا۔ 39

    وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ
    35

    رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ.
    36.

    رَّبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ
    37.

    رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ وَمَا يَخْفَى عَلَى اللَّهِ مِن شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ
    38.

    الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ
    39

    اردو:
    اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار اس شہر کو لوگوں کے لئے امن کی جگہ بنا دے اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ بتوں کی پرستش کرنے لگیں بچائے رکھیو۔ اے پروردگار انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سو جس شخص نے میرا کہا مانا وہ میرا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو تو بخشنے والا ہے مہربان ہے۔ اے پروردگار میں نے اپنی اولاد ایک وادی میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت و ادب والے گھر کے پاس لا بسائی ہے۔ اے پروردگار تاکہ یہ نماز پڑھیں سو تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ انکی طرف جھکے رہیں اور انکو میووں سے روزی دیتے رہنا تاکہ تیرا شکر کریں۔ اے پروردگار جو بات ہم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ تو سب جانتا ہے اور اللہ سے کوئی چیز مخفی نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں۔ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھ کو بڑی عمر میں اسمٰعیل اور اسحٰق بخشے۔ بیشک میرا پروردگار دعا سننے والا ہے۔

    معنوی ربط
    گذشتہ سورة میں مسئلہ توحید کو دلائل عقلیہ ونقلیہ سے واضح کیا گیا یہانتک کہ مسئلہ توحید بدیہی ہو گیا۔ اس کے بعد سورة الرعد میں مزید دلائل بطور تنبیہات ذکر کیے گئے تاکہ شبہ کی کوئی گنجائش نہ رہے لیکن معاندین پھر بھی نہیں مانتے۔ اب سورة ابراھیم میں دلائل کے ساتھ وقائع دنیوی و اُخروی بیان کرنے کا حکم دیا گیا کیونکہ بعض طبائع خوشخبری یا ڈر سن کر راہ راست پر آ جاتی ہیں۔ وقائع سے تخویفات دنیوی و اُخروی مراد ہیں۔

    خلاصہ مضامین سورة ابراھیم
    اس سورة میں توحید ہر تین عقلی دلیلیں (دو مختصر ، ایک مفصل ) ایک نقلی دلیل اجمالی (تمام انبیاء اور مؤمنین سے) اور ایک نقلی دلیل تفصیلا از حضرت ابراھیم علیہ السلام اور چھ وقائع دنیوی و اُخروی ۔ ایک زجر اور عذاب کو ہٹانے کے لیے امورِ ثلاثہ کا بیان ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 22, 2020
  12. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,773
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سورة الحجر
    روابط

    اسمی ربط
    سورة ابراھیم کو سورة الحجر سے اسمی ربط یہ ہے کہ سورة ابراھیم میں وقائع امم سابقہ کے ساتھ جو مسئلہ بیان کیا وہ مان لو وگرنہ پچھتاؤ گے۔ جس طرح اصحاب حجر نے مسئلہ توحید کی تکذیب کی تو انہیں درد ناک عذاب نے ہلاک کر دیا اسی طرح تمہیں بھی ہلاک کر دیا جائے گا ۔
    معنوی ربط
    سورة ابراھیم میں وقائع بیان کرکے ڈرایا گیا کہ مسئلہ توحید کو مان لیں۔ اب سورة الحجر میں یہ بیان ہوگا کہ مسئلہ توحید کو مان لو ورنہ امم سابقہ کی طرح تم پر بھی عذاب آئے گا پھر پچھتاؤ گے۔


    خلاصہ مضامین سورة الحجر


    سورة الحجر میں دو عقلی دلیلیں پیش کی گئی ہیں ایک مفصل اور دوسری مختصر ، تخویف دنیوی کے پانچ نمونے ذکر کیے گئے تین گزشتہ قوموں کے اور دو مشرکین مکہ کے اور آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے لیے تین تسلیاں مذکور ہیں۔ یعنی سورة الحجر میں پانچ امور بیان کیے گئے ہیں۔
     
  13. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,773
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سورة النحل
    روابط
    اسمی ربط
    ماقبل سے اسمی ربط یہ ہے کہ آصحاب حجر(قوم ثمود) کا حال تم نے سن لیا کہ انکار وتکبر کی وجہ سے انہیں دنیا ہی میں ہلاک کر دیا گیا۔ تمہیں اس عبرت ناک واقعہ سے عبرت پکڑنی چاہیے۔ اگر اصحاب حجر سے عبرت حاصل نہیں کرتے تو نحل (شہد کی مکھی) کا حال دیکھ لو شاید وہی تمہارے لیے نصیحت کا سبب ہو۔ یہ معمولی مکھی کس طرح پھولوں اور پھلوں سے رس چوس کر لاتی ہے اور شہد جیسی بے نظیر چیز تیار کرتی ہےاور اپنے چھتے کا راستہ بھی نہیں بھولتی۔ یہ معمولی سا کیڑا اتنا بڑا کام سر انجام دے رہا ہے جو قدرت الہی اور اس کی صفت کا ایک ادنی سا نمونہ ہے ۔ اس سے عبرت حاصل کرو اور مسئلہ توحید کو مان لو۔
    معنوی ربط
    سورة ابراھیم میں وقائع امم سابقہ بیان کرنے کے بعد سورة الحجر میں فرمایا کہ اب وقت ہے مان لو ورنہ جب عذابِ الہی آگیا تو ہرگز نہ بچ سکو گے۔ اب سورة النحل میں بیان کیا جائے گا کہ اگر تم دعوٰی توحید کو نہیں مانتے اور ضد و عناد کی وجہ سے عذاب الہی کا مطالبہ کر رہے ہو تو عذابِ الہی آیا ہی سمجھو۔ عذاب مانگنے میں زیادہ جلدی نہ کرو۔

    خلاصہ مضامین سورة الحجر

    آیة ۔1
    أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ
    اردو:
    اللہ کا حکم یعنی عذاب گویا آ ہی پہنچا تو کافرو اس کے لئے جلدی مت کرو۔اور یہ لوگ جو اللہ کا شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے۔
    میں سورة الحجر کے ربط وتعلق سے فرمایا اگر سب کچھ جاننے اور سننے کے بعد بھی نہیں مانتے تو تیار ہوجاؤ عذاب الہی آیا ہی چاہتا ہے۔ اب جلدی نہ کرو۔ چنانچہ اہل مکہ اس کے فورا بعد قحط کے شدید عذاب میں مبتلا ہوگئے۔ جیسا کہ آخر میں اس کا بیان ہے۔
    آیة 112.
    وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّن كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ
    اردو:
    اور اللہ ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو کہ ہر طرح امن چین سے تھی ہر طرف سے اس کا رزق با فراغت چلا آتا تھا۔ مگر ان لوگوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے انکے اعمال کے سبب انکو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر ناشکری کا مزہ چکھا دیا۔

    باعتبار مضامین سورة النحل کے دو حصے ہیں ۔
    حصہ اول:
    ابتدا سورة سے لے کر آیة 12 تک
    اس میں نفی شرک اعتقادی کا مضمون بیان کیا گیا ہے ۔ اس حصے میں تین بار دعوی سورة مذکور ہے۔ نہ ماننے کی وجہ سے مشرکین پر عذاب آیا۔ توحید پر چھ دلائل عقلیہ ، ایک نقلی دلیل اور ایک دلیل وحی بیان کی گئی ہے۔ ضمنا بطور زجر دو بار نفی شرک فعلی کا ذکر کیا گیا اور مسئلہ توحید کی خاطر ہجرت کی فضیلت بھی مذکور ہے۔
    حصہ دوم :

    آیة 114:
    فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلَالًا طَيِّبًا وَاشْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ
    اردو:
    پس اللہ نے جو تم کو حلال طیب رزق دیا ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمتوں کا شکر بھی کرو۔ اگر اسی کی عبادت کرتے ہو۔
    تا
    آیة :119
    ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
    اردو:
    پھر جن لوگوں نے نادانی سے غلط کام کر لیا۔ پھر اس کے بعد توبہ کی اور نیکوکار ہو گئے تو تمہارا پروردگار انکو توبہ کرنے اور نیکوکار ہو جانے کے بعد بخشنے والا ہے رحمت کرنے والا ہے۔

    اس حصہ میں نفی شرک فعلی کا بیان ہے اور شرک فعلی کی مندرجہ ذیل شقوں کا بیان کیا گیا ہے۔
    شق اول: تحریمات لغیر الله
    شق دوم: نذرونیاز لغیر الله

    تخویف اخروی اور سوال مقدر کا جواب ، تبشیر اور آخر میں آیة 120
    إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
    اردو:
    بیشک ابراہیم لوگوں کے امام اور اللہ کے فرمانبردار تھے۔ جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔

    نفی شرک فی التصرف اور نفی شرک فعلی پر حضرت ابراھیم علیہ السلام سے دلیل نقلی بیان کی گئی ہے۔

    آیة :123
    ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
    اردو:
    پھر اے نبی ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہ دین ابراہیم کی پیروی کرو جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔

    نفی شرک فعلی پر دلیل وحی ہے۔

    آیة :125
    ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
    اردو:
    اے پیغمبر لوگوں کو حکمت اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔ اور بہت اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اسکے راستے سے بھٹک گیا۔ تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے۔

    میں طریقہ تبلیغ کا ذکر ہے۔ اور پھر آیة :127

    وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِي ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُونَ
    اردو:
    اور صبر ہی کرو اور تمہارا صبر بھی اللہ ہی کی مدد سے ہے اور ان کے بارے میں غم نہ کرو اور جو یہ سازشیں کرتے ہیں اس سے تنگدل نہ ہو۔

    میں تسلیہ للنبی صلی الله علیہ وسلم ہے۔

     

اس صفحے کی تشہیر