قدم قدم پہ کسی امتحاں کی زد میں ہے ۔ آفتاب حسین

فرخ منظور

لائبریرین
قدم قدم پہ کسی امتحاں کی زد میں ہے​
زمین اب بھی کہیں آسماں کی زد میں ہے​
​
ہر ایک گام اُلجھتا ہوں اپنے آپ سے میں​
وہ تیر ہوں جو خود اپنی کماں کی زد میں ہے​
​
وہ بحر ہوں جو خود اپنے کنارے چاٹتا ہے​
وہ لہر ہوں کہ جو سیلِ رواں کی زد میں ہے​
​
میں اپنی ذات پہ اصرار کر رہا ہوں، مگر​
یقیں کا کھیل مسلسل گماں کی زد میں ہے​
​
مرے وجود کے اندر اُترتا جاتا ہے​
ہے کوئی زہر جو میری زباں کی زد میں ہے​
​
لگی ہوئی ہے نظر آنے والے منظر پر​
مگر یہ دل کہ ابھی رفتگاں کی زد میں ہے​
​
یہی نہیں کہ فقط رزقِ خواب بند ہوا​
گدائے کوئے ہنر بھی سگاں کی زد میں ہے​
​
افق افق جو مرے نور کا غبار اُڑا​
یہ کائنات مرے خاکداں کی زد میں ہے​
​
(آفتاب حسین)​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top