قبائلی علاقوں میں آستین کے سانپ ؟ کالم زبیر احمد ظہیر

مغزل

محفلین
اجی ہم اس وقت گھر پر ہی ہیں ۔۔ اور آج اللہ کا کرنا کیا ہواکہ‌:
بیگم کا موڈ خاصا خوش گوار۔۔۔ منی تو خیر ہے ہی معصوم ۔۔۔:hatoff:
یعنی آپ کی بات غلط ثابت ہوئی۔۔:blush:


وجہ بتادوں کیوں ؟؟ :confused:







آج تنخواہ جو ملی ہے ۔۔۔ :laugh:
 

امکانات

محفلین
اجی ہم اس وقت گھر پر ہی ہیں ۔۔ اور آج اللہ کا کرنا کیا ہواکہ‌:
بیگم کا موڈ خاصا خوش گوار۔۔۔ منی تو خیر ہے ہی معصوم ۔۔۔:hatoff:
یعنی آپ کی بات غلط ثابت ہوئی۔۔:blush:


وجہ بتادوں کیوں ؟؟ :confused:







آج تنخواہ جو ملی ہے ۔۔۔ :laugh:

یہ بھابی کا کارنامہ ہے جو انہوں نے صبر کرلیا یہ آپ تنخواہ کا احسان نہ جتلائیں پیسہ سارا مہینہ کسی کے پاس نہیں‌ ہوتا جب بھی آپ کی جیب ہلکی ہوئی بھابی نے اپنی پس انداز کی ہوئی رقم دی
بھائی جان بات یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس ایک پزار روپے تو اس میں سے آپ اگر سو روپے کے نوٹ کی دم پکڑ کر کسی کو دے رے ہیں تو یہ سو روپے ہوئے اگر مثال کے طور پر بھابی کے پاس کل سو روپے ہیں اور وہ سارے انہوں نے آپ کو دے دیے تو یہ ایک پزار روپے ہونگے کیونکہ بسا اوقات کم پیسے ایک پزار کی گجہ کام اتے ہیں مہمان داری آپ کی زیادہ ہے دوست احباب کی فضول خرچی آپ کرین‌ اور قصور وار بھابی کو ٹھہرایں انصاف نہیں‌ انصاف کا مزاق ہے یہ لڑائی زیادہ ہئ پرسنل معامالت تک چلی گی ہے معذرت آج اسے بر داشت کر لیں‌ آہندہ توبہ
 

خرم

محفلین
یہاں مجھے مذہبی حلقوں کی اصطلاح سے اختلاف ہے۔ مذہب تو ہمارے روز مرہ میں داخل ہونا چاہئے۔ اگر مذہبی حلقے عوام سے الگ کوئی چیز ہیں تو یہی ان کی ناکامی کا ثبوت ہے کہ پاکستان مسلمانوں کے لئے بنا تھا مذہبی حلقوں کے لئے نہیں۔ جہاں تک مذہبی سیاستدانوں کا تعلق ہے تو وہ مذہب کے نام پراسی طرح سیاست کر رہے ہیں جیسے زرداری بھٹو کے نام پر سو انہیں مذہبی قوتیں قرار دینا کافی غیر منصفانہ عمل ہوگا۔
 

امکانات

محفلین
یہاں مجھے مذہبی حلقوں کی اصطلاح سے اختلاف ہے۔ مذہب تو ہمارے روز مرہ میں داخل ہونا چاہئے۔ اگر مذہبی حلقے عوام سے الگ کوئی چیز ہیں تو یہی ان کی ناکامی کا ثبوت ہے کہ پاکستان مسلمانوں کے لئے بنا تھا مذہبی حلقوں کے لئے نہیں۔ جہاں تک مذہبی سیاستدانوں کا تعلق ہے تو وہ مذہب کے نام پراسی طرح سیاست کر رہے ہیں جیسے زرداری بھٹو کے نام پر سو انہیں مذہبی قوتیں قرار دینا کافی غیر منصفانہ عمل ہوگا۔

اعتراض درست ہے مزہبی قوتوں سے مراد ایسی طاقت ہوتی کہ پوری قوم کی نبض جس کے ہاتھ میں ظاہراتنی کشش صرف مژہب میں ہی ہو سکتی ہے اس لیے انہیں سیاسی قوتوں کےبالمقابل قوت شمار کایا جاتا ہے اصل میں کسی بھی ملک کے استحکام کا دورومدار دو قوتوں پر ہوتا ہے ایک جغرافیائی سر حد وں کی محافط اس سے مراد فوج ہوتی ہے اور دوسری نظریاتی قوت جو فکری سرحدوں کی نگہبان ہوتی ہے اس سے مراد مژہبی قوتیں لی جاتی اس موضوع کی تفصیل کے لیے یہاں دیکھیں
 

خرم

محفلین
بھیا فوج اور مذہبی قوتوں کے ٹکراؤ کی جو بات آپ نے کہی ہے مجھے اس سےاختلاف ہے۔ میرے خیال میں تو فوج بحیثیت ادارہ مذہبی تنظیموں اور گروہوں کی سب سے بڑی حمائتی ہے۔ عمومی طور پر یہ تو کہا جاتا ہے کہ پاکستان مذہب کے نام پر وجود میں آیا اور یہ درست بھی ہے لیکن پاکستان کے قیام میں جن لوگوں نے کاوشیں کیں ان میں آپ کو یہ نام نہاد مذہبی بہت کم ملیں گے۔ اصل میں ہوا یہ کہ قیام پاکستان کے بعد مختلف طبقات کی رالیں اس مملکت کی حکومت کو قابو کرنے کے لئے ٹپکنے لگ پڑیں۔ کہیں اشرافیہ نے "پدرم سلطان بود" کا سہارا لیا، کہیں خاندانی جاگیروں اور رشتہ داریوں کو وسیلہ بنایا گیا اور کہیں انگریز کی تربیت اور آئی سی ایس میں‌کامیابی کو ہی اس مملکت پر حکومت کرنے کا نسخہ سمجھا گیا۔ پاکستان بنا چونکہ اسلام کے نام پر تھا سو مُلا نے بھی سمجھا کہ اسلامی ملک پر حکومت انہیں کا حق ہ۔ اس طرح کسی بھی مثبت نظریہ اور کام کے بغیر اس قوم کو ایک ایسی لایعنی و فضول کشمکش میں الجھا دیا گیا جو آج بھی ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ ہر ایک منصف معاشرہ اسلامی معاشرہ ہے۔ اسلامی معاشرہ و حکومت و ملک وہ نہیں جہاں نماز نہ پڑھنے پر لوگوں کو ڈنڈے مارے جاتے ہوں، داڑھیاں تراشنے پر کوڑے لگیں، بچیوں کا سکول جانا منع ہو، پسند کی سزا کی شادی موت ہو، بلکہ اسلامی معاشرہ وہ ہے جہاں ہر فرد کو آگے بڑھنے کےیکساں مواقع حاصل ہوں، ریاست اپنے عوام کی جان و مال کی نگہبان ہو اور جہاں ایک عورت تنہا زیور سے لدی ملک کے ایک کونےسے دوسرے کونے کا سفر کرے اور اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہو۔ جہاں ایک بچے کا دودھ بھی ریاست مہیا کرے، جہاں پیاسے کُتے کے مر جانے پر اللہ کو جوابدہی کا خوف ہو اور جہاں حاکم وقت بھی کسی شرابی کی دیوار پھلانگ کراسے پابند سلاسل نہ کرسکے۔
ہمارا تجربہ تو یہ رہا کہ اسلام، اسلام کی تمام رٹ کے باوجود اگر اسلامی اقدار کہیں دیکھنے کو ملے تو وہ ایک غیر اسلامی معاشرہ میں۔ اسی لئے مکرر عرض کئے دیتے ہیں کہ اگر ہمیں پاکستان کو ایک اسلامی ملک و معاشرہ بنانا ہے تو ہمیں اس کے عوام کو وہ تمام حقوق دینے ہوں گے جس کا اسلام ایک ریاست کو مکلف کرتا ہے۔ عبادات ایک شخص کا ذاتی معاملہ ہیں ریاست کا کام نمازیں پڑھانا نہیں نماز پڑھنے کے لئے مناسب ماحول کا بندوبست کرنا ہے، روزہ خوری پر حوالات میں ڈالنا نہیں رمضان کی اہمیت کا پرچار کرنا ہے، اسلام کے نام پر قبائلی رسوم و رواج کا دفاع نہیں فرد کو وہ تمام حقوق دینا ہیں جو اللہ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے عطا کئے ہیں اور بدقسمتی سے یہ اسلام کسی اسلامی ملک میں موجود نہیں اگرچہ مذہبی لوگ ہر ملک میں تھوک کے حساب سے پائے جاتے ہیں۔ صد حیف۔
 

امکانات

محفلین
بھیا فوج اور مذہبی قوتوں کے ٹکراؤ کی جو بات آپ نے کہی ہے مجھے اس سےاختلاف ہے۔ میرے خیال میں تو فوج بحیثیت ادارہ مذہبی تنظیموں اور گروہوں کی س
ب
آپ نے دیا گیا لنک نہیں‌ پڑھا وہ فوج اورمزبھی قوتوں کی لڑائی کی کہانی پر مشتمل ہے یہ درست ہے فوج اور مژبھی قوتوں کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے مگر یہ دامن دونوں جانب سے تار تار ہو گیا ہے اب ان میں نفرت پیدا ہوگئی فوج پر خودکش حملوں کا کہیں نہ کہیں اس دشمنی سے تعلق ضرو پے
 

خرم

محفلین
اگر آپ انسانی پٹاخوں کو مذہبی قرار دیتے ہیں تو میں آپ سے اختلاف کروں گا کہ اس سب کی جڑ مذہب میں نہیں فتنہ میں پیوست ہے بعینہ جیسے خوارج کی جڑ فتنہ میں تھی اگرچہ نام بظاہر وہ بھی مذہب کا لگاتے تھے۔ جیسے پہلے عرض کیا کہ صحیح اہل مذہب کبھی بھی پاکستان یا فوج کے خلاف نہیں ہوئے ہاں جو مذہبی ٹھیکیدار ہیں وہ جہاں دیہاڑی زیادہ لگے اس جانب لُڑھک لیتے ہیں اور ان کا اثر معاشرہ پر بحیثیت مجموعی اتنا ہی ہے کہ چند لطائف سُننے کو مل جاتے ہیں۔
 

امکانات

محفلین
اگر آپ انسانی پٹاخوں کو مذہبی قرار دیتے ہیں تو میں آپ سے اختلاف کروں گا کہ اس سب کی جڑ مذہب میں نہیں فتنہ میں پیوست ہے بعینہ جیسے خوارج کی جڑ فتنہ میں تھی اگرچہ نام بظاہر وہ بھی مذہب کا لگاتے تھے۔ جیسے پہلے عرض کیا کہ صحیح اہل مذہب کبھی بھی پاکستان یا فوج کے خلاف نہیں ہوئے ہاں جو مذہبی ٹھیکیدار ہیں وہ جہاں دیہاڑی زیادہ لگے اس جانب لُڑھک لیتے ہیں اور ان کا اثر معاشرہ پر بحیثیت مجموعی اتنا ہی ہے کہ چند لطائف سُننے کو مل جاتے ہیں۔

لگتا ہے میرا پالا انتہائی علمی شخصیت سے پڑ گیا ہے بھائی کالم نگار زیادہ پڑھے لکھے لوگ نہین ہوتے اورحالات حاضرہ پر لکھنا کوئی علمی کا م نہیں آپ مجھے کالم نگاررہنے دیں اگر میں سب لوگوں کی علمیت کا اعتراف کر تا گیا تومیرے قارئین پر منفی اثر پڑے گا وہ سمجھیں گے اس کا کوئی نظریہ نہیں جو جس طرف موڑے مڑ جا تا ہے اس لیے آ پ کی تعریف کرنے سے قاصر ہوں لیکن دل میں اعتراف کر تا ہوں کہ مجھے یہان اچھے لوگ ملے ہیں‌ اور ان سےتبادلہ خیال مفید ثابت ہوتا ہے
بھائی آپ مژھب کو اتنا بچانے کی کوشش نہ کریں یورپ کی تاریخ مزھب کی انتہا پسندی سے بھری پڑی ہے اج جو یورپ سیکولر آپ کو نظر آرہا ہے اس نے ماضی کی اس مذھبی انتہا پسندی سے جنم لیا ہے دنیا کی ہر جنگ کے پس پردہ مژھبی عنصر کاار فر ما ہوتا ہے امریکہ کی موجودہ جنگ بھی مذبی پس منظر رکھتی ہے بذات خود ہر مذہب پر امن ہوتا ہے مگر اس مذہب کی پہچان اس کے پیروکاروں کا عمل ہوتاہے اسلام کو بھی شدت پسندی نے بدنام کر دیا ہے ورنہ تاریخ انسانی اس جیسے عالمگیر آفاقی اور انصاف پسدمذہب کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے
 

آصف شفیع

محفلین
علامہ صاحب بہت خوب۔ آپ نے زبردست تجزیہ کیا ہے حالاتِِ حاضرہ کا۔ دیکھین اب ان کیمرہ اجلاس میں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ امریکہ نے مخبروں کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کی جو پالیسی اپنائی ہے اس کا کیا توڑ نکالتی ہے پارلیمنٹ۔ آپ کا کلم بہر حال خوب ہے۔
 

امکانات

محفلین
علامہ صاحب بہت خوب۔ آپ نے زبردست تجزیہ کیا ہے حالاتِِ حاضرہ کا۔ دیکھین اب ان کیمرہ اجلاس میں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ امریکہ نے مخبروں کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کی جو پالیسی اپنائی ہے اس کا کیا توڑ نکالتی ہے پارلیمنٹ۔ آپ کا کلم بہر حال خوب ہے۔

حضور شکریہ قبول کیجے آپ کی شاعری کہاں ملے گی ادھار چکانا جو ہے
 

امکانات

محفلین
علامہ صاحب بہت خوب۔ آپ نے زبردست تجزیہ کیا ہے حالاتِِ حاضرہ کا۔ دیکھین اب ان کیمرہ اجلاس میں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ امریکہ نے مخبروں کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کی جو پالیسی اپنائی ہے اس کا کیا توڑ نکالتی ہے پارلیمنٹ۔ آپ کا کلم بہر حال خوب ہے۔

شکریہ جناب پارلیمنٹ کے بس کا یہ کام نہیں
 

طالوت

محفلین
مہوش بہن ۔۔۔ آپ کی یہ معلومات غلط ہیں کہ حزب اللہ کو مغربی حلقوں میں لیگل تصور کیا جاتا ہے ۔۔۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بیانات پڑھ لیں ۔۔۔ اور مغرب تو ویسے بھی امریکہ کی تقلید کرتا ہے ۔۔۔ آپ کی ایران سے غیر ضروری ہمدردیاں تعصب کا احساس پیدا کرتیں ہیں ۔۔ ہمارے یہاں بلاشبہ تفرقہ ہی اصل میں خرابی ہے جو کہ ایران میں بہت معمولی سا ہے ۔۔۔ حالات و واقعات کا صحیح تجزیہ ملکوں کے اندرونی حالات کے تقابل کے بغیر نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔
اگرچہ آپ سیاسی بحث سے لا تعلقی کا اعلان کر چکی ہیں ۔۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ اپنا فیصلہ واپس لے لیں گی ۔۔۔ کہ تصویر کے دونوں رخ جاننے کے لیئے ہمیں آپ کی اشد ضرورت ہے ۔۔۔ اور اختلاف تو ہوتا ہی رہتا ہے اسے آپ بنیاد بنا کر ہم پر یہ ظلم نہیں کر سکتی تاہم کسی کے غیر مہذبانہ تبصروں پر یہ فیصلہ ہے تو میں ذاتی طور پر معزرت کر چکا ہوں اور باقی احباب کی طرف سے بھی معذرت چاہوں گا ۔۔۔
میں امید رکھتا ہوں کہ میری بہن میری گزارشات پر ضرور غور کریں گی
وسلام
 

امکانات

محفلین
مہوش بہن ۔۔۔ آپ کی یہ معلومات غلط ہیں کہ حزب اللہ کو مغربی حلقوں میں لیگل تصور کیا جاتا ہے ۔۔۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بیانات پڑھ لیں ۔۔۔ اور مغرب تو ویسے بھی امریکہ کی تقلید کرتا ہے ۔۔۔ آپ کی ایران سے غیر ضروری ہمدردیاں تعصب کا احساس پیدا کرتیں ہیں ۔۔ ہمارے یہاں بلاشبہ تفرقہ ہی اصل میں خرابی ہے جو کہ ایران میں بہت معمولی سا ہے ۔۔۔ حالات و واقعات کا صحیح تجزیہ ملکوں کے اندرونی حالات کے تقابل کے بغیر نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔
اگرچہ آپ سیاسی بحث سے لا تعلقی کا اعلان کر چکی ہیں ۔۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ اپنا فیصلہ واپس لے لیں گی ۔۔۔ کہ تصویر کے دونوں رخ جاننے کے لیئے ہمیں آپ کی اشد ضرورت ہے ۔۔۔ اور اختلاف تو ہوتا ہی رہتا ہے اسے آپ بنیاد بنا کر ہم پر یہ ظلم نہیں کر سکتی تاہم کسی کے غیر مہذبانہ تبصروں پر یہ فیصلہ ہے تو میں ذاتی طور پر معزرت کر چکا ہوں اور باقی احباب کی طرف سے بھی معذرت چاہوں گا ۔۔۔
میں امید رکھتا ہوں کہ میری بہن میری گزارشات پر ضرور غور کریں گی
وسلام
ان کا مجھے سے بھی کافی مناطرہ ہوچکا ہے
 
Top