فیمینزم اور حقوق نسواں، ایک جائزہ۔

سنگین علی زادہ نے 'آپ کے کالم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 13, 2019

  1. سنگین علی زادہ

    سنگین علی زادہ محفلین

    مراسلے:
    3
    موڈ:
    Cold
    پاکستان کے مرد جس بات کو نہیں سمجھے یہ ہے کہ مغرب سے درآمد شدہ حقوقِ نسواں کی تمام تحاریک ایک نکتہ پہ متفق ہیں کہ عورت کو مرد کے مخالف کھڑا کر دیا جائے. جو قدرت کا طریقہ کار ہے وہ مرد و عورت کو ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں ٹھہراتا. بلکہ فطرت کے متعین کردہ اصول کے مطابق مرد و عورت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ میاں بیوی کا روپ ہو، ماں بیٹے کا یا پھر بہن بھائی کا. فطرتی تشکیل شدہ نظام کے مطابق مرد و عورت ساتھ ساتھ چلتے ہیں. عمرانیات کے ماہرین اس بات پہ متفق ہیں کہ انسانی تاریخ میں پہلا ہونے والا باقاعدہ معاہدہ مرد و عورت کے درمیان ہوا تھا. اور وہ معاہدہ پتہ تھا کہ مرد شکار کر کے لائے گا عورت بچے کا خیال رکھے گی. یہ تب کی بات ہے جب انسان غاروں میں کرتا تھا، یعنی تاریخ کی ابتدا سے قبل. ماہرین کے نزدیک اس معاہدے کی وجہ یہ ہو گی کہ ہر جاندار کا بچہ پیدائش کے کچھ ہی دیر بعد رینگنا یا چلنا شروع کر دیتا ہے، سوائے انسان کے بچے کے جو چلنے میں دو سے تین سال تک کا عرصہ لگاتا ہے. تو عورت بچہ پالتی جب کہ بچے اور عورت کی معیشت کا ذمہ مرد کے سر تھا. مرد و عورت تب سے اب تک مہذب معاشروں میں مل کے ہی چلتے آ رہے ہیں.
    یہاں پاکستان میں حقوقِ نسواں کی جتنی تحریکیں بیرونی فنڈ پہ چل رہی ہیں. ان کےلیے نسوانی حق کا واحد مطلب ہے کہ عورت ہر وہ کام کرے جو مرد کی مخالفت میں ہو. مغرب میں feminism کی کچھ تو تاریخی وجوہات ہیں جبکہ کچھ وجوہات ان قوتوں سے منسوب ہیں جو فطرت کے ہر قانون کو بدل کر اپنے قوانین رائج کر رہی ہیں۔ تاریخی وجوہات میں سے تین سب سے اہم وجوہات عورت کے ساتھ ہونے والا بے رحمانہ سلوک، مغرب کا صنعتی انقلاب اور ووٹ کا حق ہیں. مغرب میں عورت کو طویل المدت دورانیے کےلیے غیر انسانی مخلوق سمجھا جاتا رہا. قدیم عیسائیت میں پادری حضرات زندہ عورتوں کو وِچ (Witch) یعنی چڑیل قرار دے کر قتل کرتے. معاشروں میں عورت کا معنی مرد کی جنسی تسکین کا سامان سمجھا جاتا. (برسبیل تذکرہ، مغرب کے جدید معاشرے میں جہاں عورت کی آزادی کا نعرہ سب سے اونچا لگایا جاتا ہے عورت کو آج بھی یہی سمجھا جاتا ہے. یعنی اے سیکس سمبل). عورت کے خلاف یہ تاریخی منفی رویہ جدید مغرب میں صنعتی انقلاب کے بعد خواتین کو یکجا کرنے کا سبب بنا۔
    دوسری وجہ ہے کہ صنعت انقلاب کے بعد عورت کو مرد کے مقابلے میں تنخواہ نصف ملتی تھی. یہاں میں گندے گندے بینرز والی آنٹیوں کو ایک تاریخی حقیقت واضح کرنا چاہتا ہوں. یورپ کے صنعتی انقلاب میں عورت گھر سے باہر نکل کر انڈسٹری میں اپنی آزادی کےلیے نہیں آئی تھی. بلکہ اپنے گھرانوں کی غربت مٹانے کےلیے نکلی تھی اور مغرب کے مرد کی کام چوری تھی یا دیگر سماجی خامیاں جو عورت کو آگے آنے پڑا. یہ تاریخی حقیقت آج دیڑھ دو سو سال بعد بھی زندہ ہے. پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری سمیت دیگر تمام انڈسٹری میں کام کرنے والی ورکر خواتین کی پچانوے فیصد تعداد اپنا گھر چلانے کےلیے مجبوری کی وجہ سے کام کر رہی ہیں. اگر ان کی مرضی ہو تو عام عورتوں کی طرح گھروں میں راج کریں. تیسری وجہ ووٹ لینے کا حق تھی. خیر یہ تین مرکزی وجوہات تھیں جو مغرب میں حقوقِ نسواں کی تحریکوں کی وجوہات بنیں.
    بعد میں ان تحریکوں کو سرمایہ دار طبقے نے ھائی جیک کیا. سرمایہ دار طبقے کی پشت پر موجود وہی طاقتیں تھیں جو دنیا میں فطرت کے اصولوں کے خلاف چلتی ہیں. یعنی جھوٹ ہر معاشرے میں غلط ہے، وہ طاقتیں اپریل فول مناتی ہیں. خاندانی نظام دنیا کے ہر مذھب میں اہم ہے انہوں نے خاندانی نظام کا خاتمہ کیا، بہن بھائی اور خونی رشتوں کا تقدس دنیا کے ہر معاشرے اور مذھب میں اہم ہے ان طاقتوں نے بہن بھائی کے سیکس کو پروموٹ کیا، دنیا کے ہر طبقے میں بچوں کو معصومیت کی علامت سمجھا جاتا ہے یہ طاقتیں بچوں سے سیکس کی اجازت کا حق مانگ رہی ہیں(یعنی پیڈو فیلیا، اور اگلے دس سال میں یورپ کی کئی ریاستوں میں اس کی قانونی اجازت مل جائے گی). آپ درست سمجھے میں فری میسنز اور الومیناٹی کی ہی بات کر رہا ہوں.
    حقوقِ نسواں کی تحریکوں کو ان طاقتوں نے اغوا کر لیا. .
    بہرحال موجودہ طور پر این جی او کلچر عورت کی آزادی کی جو تشریح کر رہا ہے وہ ہے کہ مرد و عورت کو ایک دوسرے کے مدمقابل دشمن کی طرح کھڑا کر دو. اس کے مقاصد کچھ واضح جبکہ کچھ پیچیدہ سے ہیں، تفصیل کسی اور تحریر میں. سرسری طور پر یہ کہ مرد و عورت کی اس محاذ آرائی کی وجہ سے سماجی ربط بدلتا ہے، سوشل کمیونیکیشن گیپ بنتا ہے، ایک مرحلے پر مرد و عورت کے درمیان خلا بنتا ہے، پھر مرد و عورت دونوں ایک دوسرے سے آزاد ہو جاتے ہیں مطلب دور ہو جاتے ہیں. اس سے اگلے سٹیج میں اس کے اثرات سامنے آتے ہیں جن میں سے ایک ہم جنس پرستی بھی ہے. یوں سمجھ لیں کہ مرد و عورت کی محاذ آرائی معاشرے کا مرکزی "سوشل فیبرک" ادھیڑ دیتی ہے اور معاشرے کی کایہ پلٹ جاتی ہے. سرِدست حقوق نسواں کے نام پر یہی ہو رہا ہے. لہٰذا کسی ایسی محاذ آرائی کا حصہ مت بنیں کہ پنکچر خود لگاؤ یا کاکروچ خود مارو. یاد رکھنا مرد و عورت مل کے چلنے کےلیے ہیں فطرت کے قاعدے کے مطابق، ایک دوسرے کی مخالفت یا محاذ آرائی کےلیے نہیں. اور خواتین بھی یاد رکھیں، فطرت نے آپ کی ساری کشش اور خوبصورتی نزاکت، نرمی اور نفاست میں رکھی ہے. آپ کے ہاتھ پیر، بول چال ، خد و خال اور عادات و اطوار اگر مردوں کے یکساں یعنی برابر ہو جائیں تو پھر خاص اور منفرد کیا رہ جائے گا آپ میں؟ جیسے مرد ہم ویسی آپ. این جی اوز کلچر کے مفادات عورت کے مفادات نہیں ہیں، بلکہ سرمایہ دار طبقے، Neocon liberalism, اور سیکرٹ سوسائٹیز کے مفادات ہیں.
    تحریر: سنگین علی زادہ۔
     
  2. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,819
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    اتنا بڑا جھوٹ۔ کم از کم کوئی حوالہ ہی دے دیتے
     
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر