فرانس کے بعد نیدرلینڈ میں بھی برقع پہننے پر پابندی

کب تک آپ قادیانیوں پر لگائی گئی پابندیوں کا رونا روتے رہیں گے؟

ایک مخلصانہ گزارش ہے۔ مسلمان ہوجائیے۔ یقین جانیے یہ اس عاجز کی دلی خواہش ہے۔ کوئی طنز نہیں۔

جی مسلمان ہوجائیے اور عورتوں کو پردہ کرنےکی ہدایت دینا ختم کیجئے۔ یہ ایک اسرائیلی روایت ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ٓ
 
کفار کی حکومت ہے جو چاہے بل بنائے اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔۔۔
جس کو یہ قانون پسند نہیں وہ ملک چھوڑ دے۔۔۔
مگر کفار کو بھی چاہیے کہ اسلامی احکامات پر تنقید چھوڑ دیں۔۔۔
اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو دوسری جانب سے بھی ایسی توقعات نہ پالیں!!!
پردہ کرنا قرآن کی کس آیت سے ثابت بھائی؟ یہ اسلامی حکم کس طرح ہے؟ یا یہ آپ کی اپنی ذاتی خواہشات کی پیروی ہے؟
 
ہم کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ آج کا مسلمان ملاء، قادیانی ملاء، آغاخانی ملاء، مسیحیت کا فادر، یہودیت کا ربائی ، ہندو ازم کا پٓنڈت، اور فارسی آیت اللہ سب ایک ہی مذہب کے نیٹ ورک کے نمائیندے ہیں۔ ان کا واحد مقصد کچھ بھی کام کئے بغیر خوب کمانا ہے، اس کمانے کا ذریعہ، ایک ٹوٓٹیلیٹیرین حکومت میں پوشیدہ ہے، یہی ملاء ازم ہے اوریہی آیت اللہ ازم ٓیہی اسرائیلیات ہے ، یہی پاپائیت ہے اور یہی پنڈت کی بھگوان گیری ہے کہ عوام ، عامی، پر مکمل کنٹرول ہو، جو کہ عوآمی نمائندوں کی حکومت یعنی جمہوریت کے عین مخالف نظریہ ہے
اس ازم میں عام آدمی یا عورت، عید ان کی مرضی کا چاند دیکھ کر منائے، کپڑے ان کی مرضی سے پہنے، نماز ان کی خوشنودی کے لئے پڑھے، شادی ان کی اجازت سے ہو، غلام ان کی مرضٓی سے بنایا جائے، ٓعورت کو باندی کا درجہ دے کر ملاء آور ان کے امیر نمائندے غلاموں اور عورتوں کا مکمل استحصال کریں۔ مذہب ان کی مرضی کا ہو ورنہ سب کفر ہو۔ زکواۃ ان کی مرضی کی دی جائے اور انہی کو دی جائے، حتی کے حج بھی ان کی مرضی کی تاریخ پر ہو، جی؟
ان کی اجازت کے بغیر ٓکچھ بھی حلال نا ہو۔ ملاء ازم کا بنیادی مقصد ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہے جو انسان کو ان چند انسانوں کا غلام بنادے۔ اسی غلامی کی زنجیریں توڑنے کے لئے اللہ تعالی نے ایک جلیل القدر نبی حضرت محمد صلی اللٓہ علیہ وسلم کو ہم میں بھیجا تاکہ وہ ان تمام بت پرستوں ، خواہش پرستوں میں اور ایک بہتریٓن قرآنی جمہوری نظام میں فرق سامنے لا سکیں۔
یہ پادری، مٓلا، پنڈت، ربائی، فادر پھر بھی باز نہیں آئے اور طرح طرح کے حیلے بہانوں سے "اسلام " میں "شریعت " کی "شرارت کو بھرنے کی ناکام کوششیں کرتے رہے۔ ٓ اگر شریعت قرآن حکیم سے ثابت نہیں تو پھر شریٓعت کیا ہے؟ اللہ کی سنت کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔

اس فورم کے پڑھنے والوں نے بہت ہی محنت کی ہے۔ یہ کہیں نا کہیں نوکری یعنی کام کرتے ہیں اور رزق حلال کماتے ہیں۔ جب کہ ملاء 40 آیات اور 40 حدیث کا رٹا مار کر بآسانی اپنا حرامہ کما لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملاء یہاں نہیں آتے۔ یہ ملاء ٓکبھی بھی دوطرفہ بات چیت نہیں کرتے، یہ ویب سائٹ بھی ایسی بناتے ہیں جہاں کوئی سوال بھی نا پوچھ سکے۔ میں ٓدعوت دیتا ہوں ملاء منیب اور اسکے نمائندوں کو یہاں آئیے اور بہت ہی بنیادی سوالات کا جواب عطا فرمائیے۔

اگر آپ ان کو عالم کہتے ہیں تو بنیادی سوال ان عالموں کے لئے پیش خدمت ہیں۔ پوچھ کر دیکھ لئجئے یہ اپنی بغلیں جھانکیں گے۔ (سوالٓات آخر میں ہیں)

کراچی سے پشاور تک اوقاف کی لائین، بناء کسی کام کے؟ کتنا آسان کام ہے۔ مغلیہ دور میں ان کی شیطانیت کا یہ عالم تھا کہ جو بھی قرآن حکیم سے کوئی دلیل لاتا تھا ، اس کو تارک الحٓدیث قرار دے کر ، حکومت کی مدد سے جامع مسجدوں کے سامنے گردن کٹا دیتے تھے۔ یہی "شرارت" ان کا شرارتی نظام ہے۔ جو لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ یہ ملاء ازم کٓیا ہے، امید ہے کہ ان کو اپنے سوال کا جواب مل جائے گا۔

بہت ہی آسان ہے ملاء بننا اور اس سے خوب کمانا اور عامی پر خوب کنٹرول رکھنا۔ ان لوگوں کو آسان راستہ ہاتھ آگیا ہے ، یہ بے وقوف بنآنے سے باز نہیں آتے

میں نے بہت سارے آرٹیکل لکھے ہیں،
"قرآن کیا کہتا ہے" جن کا لنک میرے دستخط میں ہے۔ استدعا ہے کہ پڑھئے، تاکہ آپ کو قرآن حکیم کے نظریات سے آگہی ہو۔ یہ آگاہی آپ کو آزادی عطا کرے گی ، وہ آزادی جو رب کریم نے آپ ٓکو عطا کی، جس کےلئے رسول اکرم کی بعثت ہوئی ۔ ریسرچ کرنا اور پڑھ کر سٓمجھنا آپ کا کام ہے۔

ملاؤں کے عالموں کےٓ لئے ، قرآن حکیم سے 7 سوالات:
1۔ پورا کلمہء شہادت قرآن کی کس آیت میں ہے؟
2۔ ڈھائی فیصد زکواۃ کا حکم کس آیت میں ہے ؟
3۔ زکواۃ کس کو ادا کی جائے اور اس کا مصرف کیا ہوگا؟ کس آیت میں ہے؟
4۔ حج کون کون سے مہینے میں کیا جاسکتا ہےٓ؟ کس آیت میں ہے؟
5۔ قانون ساز اسمبلی میں مرد اور عورتوں کا برابر کا تناسب، کس آیت میں ہے؟
6- جمہوری نظام حکومت کا حکم کس آیت میں ہے ؟
7 - نماز کے ارکان کا حکم کس کس آیت میں ہے؟

سوالات پوچھ کر دیکھئے ، ٓپھر ان کی آئیں ، بائیں ، شائیں دیکھئے ۔ الحمد للہ۔ یہ سوالات پاکستان ہی نہیں ، کسی بھی مذہبی عالم کے لئے ہیں۔ جو ان بنیادی سوالات کا مطلب نہیں جانتا ہو، وہ کہاں کا عالم؟ ٓ ان سب سوالوں کا ان کے پاس یہی جواب ہوگا کہ اس کا جواب قرآن میں نہیں ، جدید تالمود (کتب روایات ) میں ہے۔

اس سے یہ نا سمجھئے کہ خدا نا خواستہ ٓمیں رسول اکرم کی حدیث کا انکار کرتا ہوں۔ بالکہ یہ سمجھئے کہ صرف وہ روایات ہی اصل میں حدیث رسول اکرم ہیں جو قرآن ثابت ہوتی ہوںٓ۔ نا کہ تالمود سے؟ ان احادیث نبوی پر جو قرآن حکیم کے مخالف نہں ہٓیں ، میرا مکمل ایمان ہے۔

اگر یہ علماء ان بنیادی سوالات کے ماخذ نہیں جانتے تو پھر کیا جانتے ہیں؟ٓ
کیا اسے نام نہاد قابل لوگ، علماء کہلائے جانے کے مستحق ہیں؟

والسلام
 
آخری تدوین:

یاقوت

محفلین
جب مغرب میں مسلم اقلیتوں پر مذہبی پابندیاں لگتی ہیں تو اس بنیاد پر مسلمانوں کو مغرب کے خلاف بے جا پراپگنڈہ کرنے کی ضرورت نہیں

بجا فرمایا لیکن حضور ہم تو صرف احتجاج کرتے ہیں جبکہ مغرب باقاعدہ مداخلت کرتا ہے مغرب کو مداخلت کا لائسنس کس نے دیا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟
 

یاقوت

محفلین
ہم کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ آج کا مسلمان ملاء، قادیانی ملاء، آغاخانی ملاء، مسیحیت کا فادر، یہودیت کا ربائی ، ہندو ازم کا پٓنڈت، اور فارسی آیت اللہ سب ایک ہی مذہب کے نیٹ ورک کے نمائیندے ہیں۔ ان کا واحد مقصد کچھ بھی کام کئے بغیر خوب کمانا ہے، اس کمانے کا ذریعہ، ایک ٹوٓٹیلیٹیرین حکومت میں پوشیدہ ہے، یہی ملاء ازم ہے اوریہی آیت اللہ ازم ٓیہی اسرائیلیات ہے ، یہی پاپائیت ہے اور یہی پنڈت کی بھگوان گیری ہے کہ عوام ، عامی، پر مکمل کنٹرول ہو، جو کہ عوآمی نمائندوں کی حکومت یعنی جمہوریت کے عین مخالف نظریہ ہے
اس ازم میں عام آدمی یا عورت، عید ان کی مرضی کا چاند دیکھ کر منائے، کپڑے ان کی مرضی سے پہنے، نماز ان کی خوشنودی کے لئے پڑھے، شادی ان کی اجازت سے ہو، غلام ان کی مرضٓی سے بنایا جائے، ٓعورت کو باندی کا درجہ دے کر ملاء آور ان کے امیر نمائندے غلاموں اور عورتوں کا مکمل استحصال کریں۔ مذہب ان کی مرضی کا ہو ورنہ سب کفر ہو۔ زکواۃ ان کی مرضی کی دی جائے اور انہی کو دی جائے، حتی کے حج بھی ان کی مرضی کی تاریخ پر ہو، جی؟
ان کی اجازت کے بغیر ٓکچھ بھی حلال نا ہو۔ ملاء ازم کا بنیادی مقصد ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہے جو انسان کو ان چند انسانوں کا غلام بنادے۔ اسی غلامی کی زنجیریں توڑنے کے لئے اللہ تعالی نے ایک جلیل القدر نبی حضرت محمد صلی اللٓہ علیہ وسلم کو ہم میں بھیجا تاکہ وہ ان تمام بت پرستوں ، خواہش پرستوں میں اور ایک بہتریٓن قرآنی جمہوری نظام میں فرق سامنے لا سکیں۔
یہ پادری، مٓلا، پنڈت، ربائی، فادر پھر بھی باز نہیں آئے اور طرح طرح کے حیلے بہانوں سے "اسلام " میں "شریعت " کی "شرارت کو بھرنے کی ناکام کوششیں کرتے رہے۔ ٓ اگر شریعت قرآن حکیم سے ثابت نہیں تو پھر شریٓعت کیا ہے؟ اللہ کی سنت کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔

اس فورم کے پڑھنے والوں نے بہت ہی محنت کی ہے۔ یہ کہیں نا کہیں نوکری یعنی کام کرتے ہیں اور رزق حلال کماتے ہیں۔ جب کہ ملاء 40 آیات اور 40 حدیث کا رٹا مار کر بآسانی اپنا حرامہ کما لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملاء یہاں نہیں آتے۔ یہ ملاء ٓکبھی بھی دوطرفہ بات چیت نہیں کرتے، یہ ویب سائٹ بھی ایسی بناتے ہیں جہاں کوئی سوال بھی نا پوچھ سکے۔ میں ٓدعوت دیتا ہوں ملاء منیب اور اسکے نمائندوں کو یہاں آئیے اور بہت ہی بنیادی سوالات کا جواب عطا فرمائیے۔

اگر آپ ان کو عالم کہتے ہیں تو بنیادی سوال ان عالموں کے لئے پیش خدمت ہیں۔ پوچھ کر دیکھ لئجئے یہ اپنی بغلیں جھانکیں گے۔ (سوالٓات آخر میں ہیں)

کراچی سے پشاور تک اوقاف کی لائین، بناء کسی کام کے؟ کتنا آسان کام ہے۔ مغلیہ دور میں ان کی شیطانیت کا یہ عالم تھا کہ جو بھی قرآن حکیم سے کوئی دلیل لاتا تھا ، اس کو تارک الحٓدیث قرار دے کر ، حکومت کی مدد سے جامع مسجدوں کے سامنے گردن کٹا دیتے تھے۔ یہی "شرارت" ان کا شرارتی نظام ہے۔ جو لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ یہ ملاء ازم کٓیا ہے، امید ہے کہ ان کو اپنے سوال کا جواب مل جائے گا۔

بہت ہی آسان ہے ملاء بننا اور اس سے خوب کمانا اور عامی پر خوب کنٹرول رکھنا۔ ان لوگوں کو آسان راستہ ہاتھ آگیا ہے ، یہ بے وقوف بنآنے سے باز نہیں آتے

میں نے بہت سارے آرٹیکل لکھے ہیں،
"قرآن کیا کہتا ہے" جن کا لنک میرے دستخط میں ہے۔ استدعا ہے کہ پڑھئے، تاکہ آپ کو قرآن حکیم کے نظریات سے آگہی ہو۔ یہ آگاہی آپ کو آزادی عطا کرے گی ، وہ آزادی جو رب کریم نے آپ ٓکو عطا کی، جس کےلئے رسول اکرم کی بعثت ہوئی ۔ ریسرچ کرنا اور پڑھ کر سٓمجھنا آپ کا کام ہے۔

ملاؤں کے عالموں کےٓ لئے ، قرآن حکیم سے 7 سوالات:
1۔ پورا کلمہء شہادت قرآن کی کس آیت میں ہے؟
2۔ ڈھائی فیصد زکواۃ کا حکم کس آیت میں ہے ؟
3۔ زکواۃ کس کو ادا کی جائے اور اس کا مصرف کیا ہوگا؟ کس آیت میں ہے؟
4۔ حج کون کون سے مہینے میں کیا جاسکتا ہےٓ؟ کس آیت میں ہے؟
5۔ قانون ساز اسمبلی میں مرد اور عورتوں کا برابر کا تناسب، کس آیت میں ہے؟
6- جمہوری نظام حکومت کا حکم کس آیت میں ہے ؟
7 - نماز کے ارکان کا حکم کس کس آیت میں ہے؟

سوالات پوچھ کر دیکھئے ، ٓپھر ان کی آئیں ، بائیں ، شائیں دیکھئے ۔ الحمد للہ۔ یہ سوالات پاکستان ہی نہیں ، کسی بھی مذہبی عالم کے لئے ہیں۔ جو ان بنیادی سوالات کا مطلب نہیں جانتا ہو، وہ کہاں کا عالم؟ ٓ ان سب سوالوں کا ان کے پاس یہی جواب ہوگا کہ اس کا جواب قرآن میں نہیں ، جدید تالمود (کتب روایات ) میں ہے۔

اس سے یہ نا سمجھئے کہ خدا نا خواستہ ٓمیں رسول اکرم کی حدیث کا انکار کرتا ہوں۔ بالکہ یہ سمجھئے کہ صرف وہ روایات ہی اصل میں حدیث رسول اکرم ہیں جو قرآن ثابت ہوتی ہوںٓ۔ نا کہ تالمود سے؟ ان احادیث نبوی پر جو قرآن حکیم کے مخالف نہں ہٓیں ، میرا مکمل ایمان ہے۔

اگر یہ علماء ان بنیادی سوالات کے ماخذ نہیں جانتے تو پھر کیا جانتے ہیں؟ٓ
کیا اسے نام نہاد قابل لوگ، علماء کہلائے جانے کے مستحق ہیں؟

والسلام

گلاب کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پہ کلام نرم و نازک بے اثر
 

انیس جان

محفلین
ہم کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ آج کا مسلمان ملاء، قادیانی ملاء، آغاخانی ملاء، مسیحیت کا فادر، یہودیت کا ربائی ، ہندو ازم کا پٓنڈت، اور فارسی آیت اللہ سب ایک ہی مذہب کے نیٹ ورک کے نمائیندے ہیں۔ ان کا واحد مقصد کچھ بھی کام کئے بغیر خوب کمانا ہے، اس کمانے کا ذریعہ، ایک ٹوٓٹیلیٹیرین حکومت میں پوشیدہ ہے، یہی ملاء ازم ہے اوریہی آیت اللہ ازم ٓیہی اسرائیلیات ہے ، یہی پاپائیت ہے اور یہی پنڈت کی بھگوان گیری ہے کہ عوام ، عامی، پر مکمل کنٹرول ہو، جو کہ عوآمی نمائندوں کی حکومت یعنی جمہوریت کے عین مخالف نظریہ ہے
اس ازم میں عام آدمی یا عورت، عید ان کی مرضی کا چاند دیکھ کر منائے، کپڑے ان کی مرضی سے پہنے، نماز ان کی خوشنودی کے لئے پڑھے، شادی ان کی اجازت سے ہو، غلام ان کی مرضٓی سے بنایا جائے، ٓعورت کو باندی کا درجہ دے کر ملاء آور ان کے امیر نمائندے غلاموں اور عورتوں کا مکمل استحصال کریں۔ مذہب ان کی مرضی کا ہو ورنہ سب کفر ہو۔ زکواۃ ان کی مرضی کی دی جائے اور انہی کو دی جائے، حتی کے حج بھی ان کی مرضی کی تاریخ پر ہو، جی؟
ان کی اجازت کے بغیر ٓکچھ بھی حلال نا ہو۔ ملاء ازم کا بنیادی مقصد ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہے جو انسان کو ان چند انسانوں کا غلام بنادے۔ اسی غلامی کی زنجیریں توڑنے کے لئے اللہ تعالی نے ایک جلیل القدر نبی حضرت محمد صلی اللٓہ علیہ وسلم کو ہم میں بھیجا تاکہ وہ ان تمام بت پرستوں ، خواہش پرستوں میں اور ایک بہتریٓن قرآنی جمہوری نظام میں فرق سامنے لا سکیں۔
یہ پادری، مٓلا، پنڈت، ربائی، فادر پھر بھی باز نہیں آئے اور طرح طرح کے حیلے بہانوں سے "اسلام " میں "شریعت " کی "شرارت کو بھرنے کی ناکام کوششیں کرتے رہے۔ ٓ اگر شریعت قرآن حکیم سے ثابت نہیں تو پھر شریٓعت کیا ہے؟ اللہ کی سنت کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔

اس فورم کے پڑھنے والوں نے بہت ہی محنت کی ہے۔ یہ کہیں نا کہیں نوکری یعنی کام کرتے ہیں اور رزق حلال کماتے ہیں۔ جب کہ ملاء 40 آیات اور 40 حدیث کا رٹا مار کر بآسانی اپنا حرامہ کما لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملاء یہاں نہیں آتے۔ یہ ملاء ٓکبھی بھی دوطرفہ بات چیت نہیں کرتے، یہ ویب سائٹ بھی ایسی بناتے ہیں جہاں کوئی سوال بھی نا پوچھ سکے۔ میں ٓدعوت دیتا ہوں ملاء منیب اور اسکے نمائندوں کو یہاں آئیے اور بہت ہی بنیادی سوالات کا جواب عطا فرمائیے۔

اگر آپ ان کو عالم کہتے ہیں تو بنیادی سوال ان عالموں کے لئے پیش خدمت ہیں۔ پوچھ کر دیکھ لئجئے یہ اپنی بغلیں جھانکیں گے۔ (سوالٓات آخر میں ہیں)

کراچی سے پشاور تک اوقاف کی لائین، بناء کسی کام کے؟ کتنا آسان کام ہے۔ مغلیہ دور میں ان کی شیطانیت کا یہ عالم تھا کہ جو بھی قرآن حکیم سے کوئی دلیل لاتا تھا ، اس کو تارک الحٓدیث قرار دے کر ، حکومت کی مدد سے جامع مسجدوں کے سامنے گردن کٹا دیتے تھے۔ یہی "شرارت" ان کا شرارتی نظام ہے۔ جو لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ یہ ملاء ازم کٓیا ہے، امید ہے کہ ان کو اپنے سوال کا جواب مل جائے گا۔

بہت ہی آسان ہے ملاء بننا اور اس سے خوب کمانا اور عامی پر خوب کنٹرول رکھنا۔ ان لوگوں کو آسان راستہ ہاتھ آگیا ہے ، یہ بے وقوف بنآنے سے باز نہیں آتے

میں نے بہت سارے آرٹیکل لکھے ہیں،
"قرآن کیا کہتا ہے" جن کا لنک میرے دستخط میں ہے۔ استدعا ہے کہ پڑھئے، تاکہ آپ کو قرآن حکیم کے نظریات سے آگہی ہو۔ یہ آگاہی آپ کو آزادی عطا کرے گی ، وہ آزادی جو رب کریم نے آپ ٓکو عطا کی، جس کےلئے رسول اکرم کی بعثت ہوئی ۔ ریسرچ کرنا اور پڑھ کر سٓمجھنا آپ کا کام ہے۔

ملاؤں کے عالموں کےٓ لئے ، قرآن حکیم سے 7 سوالات:
1۔ پورا کلمہء شہادت قرآن کی کس آیت میں ہے؟
2۔ ڈھائی فیصد زکواۃ کا حکم کس آیت میں ہے ؟
3۔ زکواۃ کس کو ادا کی جائے اور اس کا مصرف کیا ہوگا؟ کس آیت میں ہے؟
4۔ حج کون کون سے مہینے میں کیا جاسکتا ہےٓ؟ کس آیت میں ہے؟
5۔ قانون ساز اسمبلی میں مرد اور عورتوں کا برابر کا تناسب، کس آیت میں ہے؟
6- جمہوری نظام حکومت کا حکم کس آیت میں ہے ؟
7 - نماز کے ارکان کا حکم کس کس آیت میں ہے؟

سوالات پوچھ کر دیکھئے ، ٓپھر ان کی آئیں ، بائیں ، شائیں دیکھئے ۔ الحمد للہ۔ یہ سوالات پاکستان ہی نہیں ، کسی بھی مذہبی عالم کے لئے ہیں۔ جو ان بنیادی سوالات کا مطلب نہیں جانتا ہو، وہ کہاں کا عالم؟ ٓ ان سب سوالوں کا ان کے پاس یہی جواب ہوگا کہ اس کا جواب قرآن میں نہیں ، جدید تالمود (کتب روایات ) میں ہے۔

اس سے یہ نا سمجھئے کہ خدا نا خواستہ ٓمیں رسول اکرم کی حدیث کا انکار کرتا ہوں۔ بالکہ یہ سمجھئے کہ صرف وہ روایات ہی اصل میں حدیث رسول اکرم ہیں جو قرآن ثابت ہوتی ہوںٓ۔ نا کہ تالمود سے؟ ان احادیث نبوی پر جو قرآن حکیم کے مخالف نہں ہٓیں ، میرا مکمل ایمان ہے۔

اگر یہ علماء ان بنیادی سوالات کے ماخذ نہیں جانتے تو پھر کیا جانتے ہیں؟ٓ
کیا اسے نام نہاد قابل لوگ، علماء کہلائے جانے کے مستحق ہیں؟

والسلام
 

یاقوت

محفلین
پردہ کرنا قرآن کی کس آیت سے ثابت بھائی؟ یہ اسلامی حکم کس طرح ہے؟ یا یہ آپ کی اپنی ذاتی خواہشات کی پیروی ہے؟

يا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْواجِکَ وَ بَناتِکَ وَ نِساءِ الْمُؤْمِنينَ يُدْنينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلاَبِيبِهِنَّ ذلِکَ أَدْني‏ أَنْ يُعْرَفْنَ فَلا يُؤْذَيْنَ وَ کانَ اللَّهُ غَفُوراً رَحيماً۔
 
آخری تدوین:

سید عمران

محفلین
ملاؤں کے عالموں کےٓ لئے ، قرآن حکیم سے 7 سوالات:
1۔ پورا کلمہء شہادت قرآن کی کس آیت میں ہے؟
2۔ ڈھائی فیصد زکواۃ کا حکم کس آیت میں ہے ؟
3۔ زکواۃ کس کو ادا کی جائے اور اس کا مصرف کیا ہوگا؟ کس آیت میں ہے؟
4۔ حج کون کون سے مہینے میں کیا جاسکتا ہےٓ؟ کس آیت میں ہے؟
5۔ قانون ساز اسمبلی میں مرد اور عورتوں کا برابر کا تناسب، کس آیت میں ہے؟
6- جمہوری نظام حکومت کا حکم کس آیت میں ہے ؟
7 - نماز کے ارکان کا حکم کس کس آیت میں ہے؟

سوالات پوچھ کر دیکھئے ، ٓپھر ان کی آئیں ، بائیں ، شائیں دیکھئے ۔
یہی تو ہم بھی کہتے ہیں کہ احادیث کو الگ کرکے محض قرآن سے احکامات نہیں سمجھے جاسکتے۔۔۔
آئیں بائیں شائیں ہم نہیں کرتے، ہمارے پاس تو واضح اور محکم دلائل ہیں۔۔۔
بغلیں تو آپ جھانکتے ہیں جب ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ ظہر کی نماز میں چار رکعات کیوں پڑھی جاتی ہیں؟ ظہر کی نماز کا وقت کب شروع ہوتا ہے اور کب ختم ہوتا ہے؟
 

یاقوت

محفلین
یہ ان کا مسئلہ نہیں۔ مغربی جمہوری نمائندے اپنے قوانین مفاد عامہ کو سامنے رکھتے ہوئے پاس کرتے ہیں۔
جیسے پاکستان میں اکثریت کے دباؤ پر قادیانیوں کے جذبات کی پرواہ کئے بغیر مذہبی پابندیاں لگا دی گئی تھی۔ یہی کچھ آجکل مغرب میں چل رہا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں مسلمان اقلیت ہیں۔

جی بالکل مغرب بنائے اپنی من پسند کے قوانین کسی کو کیوں اعتراض ہو جب ملک کی اکثریت ایک "روا" چاہتی ہے تو اسے ہونا چاہیے یہی تو جمہوریت کا کہنا ہے۔لیکن جب ہمارے ہاں اقلیت کی بات آتی ہے تو کیوں مغرب آستین چڑھائے نتھے،پھلائے،انسانی حقوق کی دہائی دیتا،ہاہاکار مچاتا اور دھونس جماتا ہے؟؟؟
اور آپ لوگ بھی ہمیں تھوڑی تھوڑی بات پر مغرب کا طعنہ نما حوالہ تھما دیتے ہیں۔
 

یاقوت

محفلین
دلائل مت دو
ایسے بد فطرت انسان کا علاج یہ ہے کہ اس پہ بلکل توجہ نہ دی جائے
اگر ایسے لوگوں کو جواب نہ دیا جائے تو یہ اچھل اچھل کر کپے ہو جائیں گے کہ دیکھو ہم نہ کہتے تھے کہ ان کے پاس جواب ہی نہ ہے۔ایسی ضال طبائع مہر زدہ ہوتی ہیں مجھے علم ہے لیکن آپ حضرات کی خاموشی بہت سارے اور لوگوں کے اذہان میں شکوک و شبہات کا پیش خیمہ بنے گی۔ایک چیز کا علم نہ تو الگ بات ہے جب علم ہے اور ایک شخص حق کو للکار رہا ہے تو کیا حق کو بغیر کسی وجہ کے چپ کرنی چاہیے؟؟؟؟؟؟؟
 

یاقوت

محفلین
ہم کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ آج کا مسلمان ملاء، قادیانی ملاء، آغاخانی ملاء، مسیحیت کا فادر، یہودیت کا ربائی ، ہندو ازم کا پٓنڈت، اور فارسی آیت اللہ سب ایک ہی مذہب کے نیٹ ورک کے نمائیندے ہیں۔ ان کا واحد مقصد کچھ بھی کام کئے بغیر خوب کمانا ہے، اس کمانے کا ذریعہ، ایک ٹوٓٹیلیٹیرین حکومت میں پوشیدہ ہے، یہی ملاء ازم ہے اوریہی آیت اللہ ازم ٓیہی اسرائیلیات ہے ، یہی پاپائیت ہے اور یہی پنڈت کی بھگوان گیری ہے کہ عوام ، عامی، پر مکمل کنٹرول ہو، جو کہ عوآمی نمائندوں کی حکومت یعنی جمہوریت کے عین مخالف نظریہ ہے
اس ازم میں عام آدمی یا عورت، عید ان کی مرضی کا چاند دیکھ کر منائے، کپڑے ان کی مرضی سے پہنے، نماز ان کی خوشنودی کے لئے پڑھے، شادی ان کی اجازت سے ہو، غلام ان کی مرضٓی سے بنایا جائے، ٓعورت کو باندی کا درجہ دے کر ملاء آور ان کے امیر نمائندے غلاموں اور عورتوں کا مکمل استحصال کریں۔ مذہب ان کی مرضی کا ہو ورنہ سب کفر ہو۔ زکواۃ ان کی مرضی کی دی جائے اور انہی کو دی جائے، حتی کے حج بھی ان کی مرضی کی تاریخ پر ہو، جی؟
ان کی اجازت کے بغیر ٓکچھ بھی حلال نا ہو۔ ملاء ازم کا بنیادی مقصد ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہے جو انسان کو ان چند انسانوں کا غلام بنادے۔ اسی غلامی کی زنجیریں توڑنے کے لئے اللہ تعالی نے ایک جلیل القدر نبی حضرت محمد صلی اللٓہ علیہ وسلم کو ہم میں بھیجا تاکہ وہ ان تمام بت پرستوں ، خواہش پرستوں میں اور ایک بہتریٓن قرآنی جمہوری نظام میں فرق سامنے لا سکیں۔
یہ پادری، مٓلا، پنڈت، ربائی، فادر پھر بھی باز نہیں آئے اور طرح طرح کے حیلے بہانوں سے "اسلام " میں "شریعت " کی "شرارت کو بھرنے کی ناکام کوششیں کرتے رہے۔ ٓ اگر شریعت قرآن حکیم سے ثابت نہیں تو پھر شریٓعت کیا ہے؟ اللہ کی سنت کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔

اس فورم کے پڑھنے والوں نے بہت ہی محنت کی ہے۔ یہ کہیں نا کہیں نوکری یعنی کام کرتے ہیں اور رزق حلال کماتے ہیں۔ جب کہ ملاء 40 آیات اور 40 حدیث کا رٹا مار کر بآسانی اپنا حرامہ کما لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملاء یہاں نہیں آتے۔ یہ ملاء ٓکبھی بھی دوطرفہ بات چیت نہیں کرتے، یہ ویب سائٹ بھی ایسی بناتے ہیں جہاں کوئی سوال بھی نا پوچھ سکے۔ میں ٓدعوت دیتا ہوں ملاء منیب اور اسکے نمائندوں کو یہاں آئیے اور بہت ہی بنیادی سوالات کا جواب عطا فرمائیے۔

اگر آپ ان کو عالم کہتے ہیں تو بنیادی سوال ان عالموں کے لئے پیش خدمت ہیں۔ پوچھ کر دیکھ لئجئے یہ اپنی بغلیں جھانکیں گے۔ (سوالٓات آخر میں ہیں)

کراچی سے پشاور تک اوقاف کی لائین، بناء کسی کام کے؟ کتنا آسان کام ہے۔ مغلیہ دور میں ان کی شیطانیت کا یہ عالم تھا کہ جو بھی قرآن حکیم سے کوئی دلیل لاتا تھا ، اس کو تارک الحٓدیث قرار دے کر ، حکومت کی مدد سے جامع مسجدوں کے سامنے گردن کٹا دیتے تھے۔ یہی "شرارت" ان کا شرارتی نظام ہے۔ جو لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ یہ ملاء ازم کٓیا ہے، امید ہے کہ ان کو اپنے سوال کا جواب مل جائے گا۔

بہت ہی آسان ہے ملاء بننا اور اس سے خوب کمانا اور عامی پر خوب کنٹرول رکھنا۔ ان لوگوں کو آسان راستہ ہاتھ آگیا ہے ، یہ بے وقوف بنآنے سے باز نہیں آتے

میں نے بہت سارے آرٹیکل لکھے ہیں،
"قرآن کیا کہتا ہے" جن کا لنک میرے دستخط میں ہے۔ استدعا ہے کہ پڑھئے، تاکہ آپ کو قرآن حکیم کے نظریات سے آگہی ہو۔ یہ آگاہی آپ کو آزادی عطا کرے گی ، وہ آزادی جو رب کریم نے آپ ٓکو عطا کی، جس کےلئے رسول اکرم کی بعثت ہوئی ۔ ریسرچ کرنا اور پڑھ کر سٓمجھنا آپ کا کام ہے۔

ملاؤں کے عالموں کےٓ لئے ، قرآن حکیم سے 7 سوالات:
1۔ پورا کلمہء شہادت قرآن کی کس آیت میں ہے؟
2۔ ڈھائی فیصد زکواۃ کا حکم کس آیت میں ہے ؟
3۔ زکواۃ کس کو ادا کی جائے اور اس کا مصرف کیا ہوگا؟ کس آیت میں ہے؟
4۔ حج کون کون سے مہینے میں کیا جاسکتا ہےٓ؟ کس آیت میں ہے؟
5۔ قانون ساز اسمبلی میں مرد اور عورتوں کا برابر کا تناسب، کس آیت میں ہے؟
6- جمہوری نظام حکومت کا حکم کس آیت میں ہے ؟
7 - نماز کے ارکان کا حکم کس کس آیت میں ہے؟

سوالات پوچھ کر دیکھئے ، ٓپھر ان کی آئیں ، بائیں ، شائیں دیکھئے ۔ الحمد للہ۔ یہ سوالات پاکستان ہی نہیں ، کسی بھی مذہبی عالم کے لئے ہیں۔ جو ان بنیادی سوالات کا مطلب نہیں جانتا ہو، وہ کہاں کا عالم؟ ٓ ان سب سوالوں کا ان کے پاس یہی جواب ہوگا کہ اس کا جواب قرآن میں نہیں ، جدید تالمود (کتب روایات ) میں ہے۔

اس سے یہ نا سمجھئے کہ خدا نا خواستہ ٓمیں رسول اکرم کی حدیث کا انکار کرتا ہوں۔ بالکہ یہ سمجھئے کہ صرف وہ روایات ہی اصل میں حدیث رسول اکرم ہیں جو قرآن ثابت ہوتی ہوںٓ۔ نا کہ تالمود سے؟ ان احادیث نبوی پر جو قرآن حکیم کے مخالف نہں ہٓیں ، میرا مکمل ایمان ہے۔

اگر یہ علماء ان بنیادی سوالات کے ماخذ نہیں جانتے تو پھر کیا جانتے ہیں؟ٓ
کیا اسے نام نہاد قابل لوگ، علماء کہلائے جانے کے مستحق ہیں؟

والسلام

یہ ایک ایسے آدمی کا حال ہے جو کتاب اللہ کی اوٹ میں کتب احادیث و متعلقہ کو تلمود جدید کا نام دے رہا ہے۔کہنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن اخلاقیات کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں آپ جیسے اندھے حضرات دن چڑھے چراغ ہتھیلی پہ لیے لوگوں سے پوچھ رہے ہوتے کہ لوگو بتاؤ سورج کی روشنی کہاں ہے ؟؟؟ جب لوگ کہتے کہ یہ سارا اجالا دن کا ہی تو ہے پھر یہ ہمائےفلاسفہ فرماتے ہیں کہ نہیں یہ تو میری ہتھیلی کے چراغ کی روشنی ہے ۔اب آپ ہی بتائیں ایسے بزعم خود مذہب شناس اور بےبصر فلاسفہ کو کوئی کیا سمجھائے گا۔
 
آخری تدوین:

سید عمران

محفلین
یاقوت بھائی ایک طرح سے انیس جان بھائی کی بات بھی درست ہے اور آپ کی بھی۔۔۔
قرآن سے ایک طبقہ مہر شدہ بھی ثابت ہے جن کے دلوں پر ان کے نفرت انگیز اعمال کے سبب مہر لگ گئی۔۔۔
ان کے سامنے جتنا قرآن حدیث پیش کیا جاتا ہے دلوں کی نفرت اور بغض مزید جاتا ہے۔۔۔
ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں موتوا بغیضکم اپنے بغض و حسد کی آگ میں جل مرو۔۔۔
اور آپ کی بات بھی درست ہے کہ باطل کے مقابلہ میں حق بات پیش کرتے رہنی چاہیے تاکہ صاف ذہن والے گمراہ نہ ہوں!!!
 
ٓ
ٓ33:59 اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے بیرونی لباس (جلابیب) اپنے اوپر لمبے (لٹکے) رکھیں ٓ، یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ پہچانی جائیں پھر نہ ستائی جائیں اور الله بخشنے والا نہایت رحم والا ہے

اس آیت میں صرف اور جلباب یا صرف قمیص ٓلمبی رکھنے کا حکم ہے۔ ریفرنس موجود ہے، مزیدٓ اس آٓیت میں منہ کے نقاب کا اضافہ ملاؤں نے اپنے تالمودی ایمان کی وجہ سے کیا ہے۔ جبکہ اس آیت میں لفظ "ان عورتوں کی جلابیب" استعمال ہوا ہے۔ جانتے بوجھتے ہوئے اتنی بڑی بے ایمانی؟ عورتوں پر مکمل کنٹرٓول کے لئے ، واکہ وہ اپنے خاندانوں کی کفالت نا کرسکیں؟

سوالات اپنی جگہ ہیں۔ جوآب کا انتظار ہے ملاء ٹولے سے ۔ پہلے جواب دیجئے اور پھر کردار کشی کیجئے۔ آپ اتنے بڑے بڑے عالم، صرف سات بنیادی سوالات کے جواب ٓنہیں دے سکتے؟ اور رکھتے ہیں اس عظیم کتاب کے سامنے من گھڑت روایات؟ رسول صٌعم کی کوئی بھی حدیث، اس کتاب قرآن حکیم کے مخالف نہیں ، صرف اور صرف وہ ہی احادیث نبوی ہیں جو قرآن حکیٓم کے مطابق ہیں۔ تو کیوں خلاف قرآن تالمودی روایات کو مسلمانوں پر تھوپا جاتا ہے؟ اگر کوئی خاتون، اپنے منہ کو آپ ڈھانپنا چاہتی ہیں تو یہ ان کا فیصلہ ہے اور درست ہے، ٓلیکن اگر ملاء عورتوں پر بردے کے نام پہر نقاب، اور یہ سب کچھ تھوپتے ہیں تو یہ ناجائز ہے

جوابات پہلے کردار کشی بعد میں۔ اب تو یہ آپ سب کا بھی امتحان ہے۔ ٓ
یہودی عورتوں کے برقع کے بارے میں جانئے۔ اسرائیلیات سے اللہ بچائے۔

والسلام
 
آخری تدوین:
اگر ایسے لوگوں کو جواب نہ دیا جائے تو یہ اچھل اچھل کر کپے ہو جائیں گے کہ دیکھو ہم نہ کہتے تھے کہ ان کے پاس جواب ہی نہ ہے۔ایسی ضال طبائع مہر زدہ ہوتی ہیں مجھے علم ہے لیکن آپ حضرات کی خاموشی بہت سارے اور لوگوں کے اذہان میں شکوک و شبہات کا پیش خیمہ بنے گی۔ایک چیز کا علم نہ تو الگ بات ہے جب علم ہے اور ایک شخص حق کو للکار رہا ہے تو کیا حق کو بغیر کسی وجہ کے چپ کرنی چاہیے؟؟؟؟؟؟؟

یاقوت، ان سات سوالوں کے جواب دیجئے اور ۔ پلیز، ایسے بھاشن بند ٓ کیجئے۔ حق وہ ہے جو ٓقرآن حکیم میں ہے۔ تو کیوں ڈرتے ہیں؟ ، سامنے لائیے،

جلباب کی دکان
 
آخری تدوین:

یاقوت

محفلین
یاقوت، ان سات سوالوں کے جواب دو ۔ پلیز، ایسے بھاشن بند کرو۔ حق وہ ہے جو ٓقرآن حکیم میں ہے۔ تو کیوں ڈرتے ہیں؟ ، سامنے لائیے،

مطلب یہ ہے کہ 14 سو سالوں میں صحابہؓ ،تابعین ،تبع تابعین محدثین ،فقہاء،علماء جنہوں نے اپنی زندگیاں ہی دین مبین کیلئے وقف کردیں انہوں نے اللہ کے نبی ﷺ سے سنا اور آگے ہم تک پہنچانے کیلئے اپنے گھر اور اپنی زندگیاں تیاگ دیں وہ دین کو نہیں سمجھ پائے 14 سو سالوں کے بعد آپ پر کتاب اللہ کے اسرار منکشف ہوتے ہیں۔اگر احادیث یونہی بے وقعت ہیں تو آج تک کا اسلام کا سفر تو بس ایویں ہی ہے۔باقی رہی آپ کی قرآن فہمی تو یہ آپ جیسے جدیدیوں کا طریق واردات ہے کہ قرآن پاک میں تو احکام و فرائض بیان ہوئے ہیں جبکہ تفصیل اللہ کے نبی نے بیان کی ہے تو سب سے پہلے احادیث کے متعلق لوگوں میں شکوک پیدا کرو یہ عوام کے اندر حدیث کے بارے میں شکوک پیدا ہوگئے تو انہیں جہاں چاہے لے جاؤ۔باقی رہی آپ کی قران فہمی تو بہت کچھ ایسا ہے جسے آپ قرآن سے ثابت نہیں کر پائیں گے تو کہاں جائیں گے۔
 
ٓ

یہی تو ہم بھی کہتے ہیں کہ احادیث کو الگ کرکے محض قرآن سے احکامات نہیں سمجھے جاسکتے۔۔۔
آئیں بائیں شائیں ہم نہیں کرتے، ہمارے پاس تو واضح اور محکم دلائل ہیں۔۔۔
بغلیں تو آپ جھانکتے ہیں جب ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ ظہر کی نماز میں چار رکعات کیوں پڑھی جاتی ہیں؟ ظہر کی نماز کا وقت کب شروع ہوتا ہے اور کب ختم ہوتا ہے؟
بھائی ایک الگ دھاگہ کھول کر وہ حدیث نقل کردیجئے جس میں رسول اکرم کے قول کے مطابق نماز کا طریقہ کار اور ایسے سوالات کا جوٓاب دیا گیا ہے۔ یہ بات میں 12 سال سے یہاں سن رہا ہوں لیکن ایسے دعوے کرنے والے ابھی تک مکمل روایت جس میں نماز کا طریقہ کار مکمل قول نبوی کی شکل میں درج ہو ، سامنے نہیں لائے۔ تو مہربانی کیجئے، عنایت کیجئے اور معلمات فراہم کیجئے۔

نماز ، سنت نبوی کے مطابق رسول اکرم کے وقت سے پڑھی جاتی ہے، ان کو ادا کرتے ہوئے مسلمانوں نے دیکھا اور آگے بڑھایا۔ اللہ تعالی ان صحابہ سے راضی ہوا۔ اس نکتے یا دلیل سے ان کتابوں کی تالمودی روایات کو درست ثابت کرنے کی کوشش کیوں؟
 
آخری تدوین:
مطلب یہ ہے کہ 14 سو سالوں میں صحابہؓ ،تابعین ،تبع تابعین محدثین ،فقہاء،علماء جنہوں نے اپنی زندگیاں ہی دین مبین کیلئے وقف کردیں انہوں نے اللہ کے نبی ﷺ سے سنا اور آگے ہم تک پہنچانے کیلئے اپنے گھر اور اپنی زندگیاں تیاگ دیں وہ دین کو نہیں سمجھ پائے 14 سو سالوں کے بعد آپ پر کتاب اللہ کے اسرار منکشف ہوتے ہیں۔اگر احادیث یونہی بے وقعت ہیں تو آج تک کا اسلام کا سفر تو بس ایویں ہی ہے۔باقی رہی آپ کی قرآن فہمی تو یہ آپ جیسے جدیدیوں کا طریق واردات ہے کہ قرآن پاک میں تو احکام و فرائض بیان ہوئے ہیں جبکہ تفصیل اللہ کے نبی نے بیان کی ہے تو سب سے پہلے احادیث کے متعلق لوگوں میں شکوک پیدا کرو یہ عوام کے اندر حدیث کے بارے میں شکوک پیدا ہوگئے تو انہیں جہاں چاہے لے جاؤ۔باقی رہی آپ کی قران فہمی تو بہت کچھ ایسا ہے جسے آپ قرآن سے ثابت نہیں کر پائیں گے تو کہاں جائیں گے۔

سوالات کے جوابات بھائی۔ اور اگر نہیں معلوم تو کسی نا کسی نے آپ کو تاریکی میں رکھا ہوا ہے۔ جواب تو موجود ٓ ہیں، جاننے والے کم۔ رسول اکرم کی احادیث مبارک، درست قول و فعل رسول قرآن سے ثابت ہیں۔ اور وہ ٓ جو نہیں ثابت ہے بلکہ مخالف ہے وہ سامنے ہے۔ باقی جو کہی سنی ہے ، وہ بھی سامنے ہے۔ بس یہ کہی سنی قرآن کی کسوٹی پر پوری نہیں اترتی۔ اس لئے کہ ملاء ٹولے کے ٓحلوے مانڈوں کا تعلق ان ہی سنی سنائی سے ہے، اصل حدیث رسول سے نہیں۔ یہ سب یہ نام نہاد علماء خود بھی جانتے ہیں۔ کہ ان کا وحد مقصد ایک ایسی حکومت کا قیام ہے جس میں ان کا مکمل کنٹرول ہو ۔ ٓقڑان کا نکتہء نظر اس کے بالکل مخالف ہے۔ تھوڑی ریسرچ کیجئے، برادر من۔ کتاب آپ کے سامنے ہے۔ اور آپ کو دعوت ہے اس کا مطالعہ کرنے کے لئے۔
 
Top