1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $418.00
    اعلان ختم کریں

فرانس کے بعد نیدرلینڈ میں بھی برقع پہننے پر پابندی

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 2, 2019

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,320
    فرانس کے بعد نیدرلینڈ میں بھی برقع پہننے پر پابندی
    برقع یا کسی بھی چیز سے چہرہ چھپانے پر150یورو جرمانہ ادا کرنا ہوگا
    [​IMG] سجاد قادر جمعہ 2 اگست 2019
    [​IMG]
    لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 اگست2019ء) مغرب نے ہمیشہ ہی اسلام مخالف اقدامات کیے ہیں۔انہیں خود ساختہ اسلامو فوبیہ ہے جس سے وہ کبھی بھی نکل نہیں سکیں گے۔اسی لیے وہ اکثر بے جا پابندیاں لگاتے نظر آتے ہیں۔ پھر جب اسلام کے منافی پابندیں عائد کرتے ہیں تو مسلمان قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں جہاں سے غیر مسلم ان کے ساتھ برا رویہ اپناتے نظر آتے ہیں اور تشدد کی لہر چلتی ہے۔فرانس میں کافی عرصے سے حجاب لینے پر پابندی عائد کی گئی ہے لہٰذا اب اس کی دیکھا دیکھی دیگر ممالک بھی ایساہی کرنے لگے ہیں۔حال ہی میں نیدرلینڈز میں برقع سمیت چہرہ ڈھانپنے والے ہر قسم کے کپڑے پر پابندی عائد کردی گئی ہے تاہم اس پر عملدرآمد کے حوالے سے شکوک و شبہات ظاہر کیے گئے ہیں۔
    پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق نئی قانون سازی کے بعد اب عوامی سطح پر یعنی اسکول، کالج، ہسپتال، یونیورسٹی، شاپنگ مال سمیت تمام مقامات پر کسی بھی طرح سے چہرہ ڈھانپنے یا برقع لینے پر پابندی ہو گی۔

    اس قانون کے تحت برقع، نقاب، موٹر سائیکل ہیلمٹ اور ماسک لینے پر بھی پابندی ہو گی اور خلاف ورزی کرنے پر 150یورو جرمانہ عائد کیا جائے گا۔البتہ خواتین کو سر پر اسکارف لینے کی اجازت ہو گی لیکن اس میں بھی یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ ان کا چہرہ واضح طور پر نظرآنا چاہیے۔پولیس کے مطابق عوامی مقامات یا سرکاری اداروں میں اس قانون پر عملدرآمد کرانے کی کوشش کی جائے گی اور مذکورہ افراد سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے چہروں سے نقاب ہٹائیں یا پھر مذکورہ مقام سے چلے جائیں۔نیدرلینڈز میں عموماً کسی بھی قانون کا پانچ سال تک عملدرآمد کے بعد جائزہ لیا جاتا ہے لیکن اس قانون کا تین سال کے بعد ہی جائزہ لیا جائے گا۔یہ قانون گزشتہ سال جون میں منظور کیا گیا تھا اور اس وقت ایک اندازے کے مطابق نیدرلینڈز کی ایک کروڑ 70لاکھ کی آبادی میں محض کل 200 سے 400خواتین نقاب کرتی تھیں۔اس قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے عوام کی حفاظت اور لوگوں کو پہنچاننے میں مدد ملے گی۔یاد رہے کہ یورپ کے متعدد ملکوں میں اسی طرح کی پابندی عائد ہے جن میں فرانس، جرمنی، بیلجیئم، سوئٹزرلینڈ اور ڈنمارک شامل ہیں۔فرانس میں یہ قانون 2011 سے لاگو ہے جس کی خلاف ورزی پر وہاں بھی 150یورو جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔گزشتہ سال اکتوبر میں اقوام متحدہ نے اس پابندی کو خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے سبب خواتین اپنے گھروں تک محدود رہنے پر مجبور ہو جائیں گی۔
     
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,320
     
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,320
    تو کیا اب غیرمسلم اکثریت ممالک بھی اپنے قوانین مسلم اقلیت سے پوچھ کر بنائیں گے؟
     
  4. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    296
    موڈ:
    Breezy
    تو ہمارے ہاں اقلیتوں کے حقوق کی دہائی اور دھاڑ دھاڑ کیوں؟؟؟؟؟؟
    چہ چہ چہ چہ چہ ہر شخص کی انفرادی رائے محفوظ ہے۔ یہ محفوظ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • زبردست زبردست × 1
  5. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    296
    موڈ:
    Breezy
    سنتا جا شرماتا جا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    17,052
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں۔۔۔۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 5
  7. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,630
    عملی طور پر، ایسا کچھ نہیں ہے۔ نظری ابحاث کا معاملہ الگ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  8. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,678
    یہی بات آپ کو اس دن ہم نے سمجھانے کی پوری کوشش کی تھی، لیکن امید رکھتے ہیں اب سمجھ آ گئی ہو گی! :)
     
    آخری تدوین: ‏اگست 2, 2019
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    296
    موڈ:
    Breezy
    معذرت خواہ ہوں اپنی کم استعدادی کے سبب آپ کے مراسلے کا مافی الضمیر سمجھنے میں ناکام رہا ہوں اگر آپ ذرا وضاحت کی روشنی ڈال دیں تو ذرہ نوازی ہوگی۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  10. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    296
    موڈ:
    Breezy
    اللہ آپ کی زبان مبارک کریں لیکن مجموعیات پکار پکار کر کہہ رہی ہیں ایں خیال است و محال است و جنوں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,320
    ظاہر ہے یہ خبر شائع کرنے والے پاکستانی مسلمان ہیں جنہیں شدید تکلیف ہے کہ ان کے ہم مذہبوں پر فرانس کے بعد نیدر لینڈ میں مذہبی پابندیوں کیوں لگائی جائی رہی ہیں۔ اسے باقاعدہ اسلاموفوبیا قرار دے رہے ہیں۔
    البتہ ان کے اپنے وطن پاکستان میں قادیانی اقلیت پر مذہبی پابندیاں ہیں۔ جسے یہ شدت سے سپورٹ کرتے ہیں۔ اور اس کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرتے۔
    جبکہ مغربی ممالک میں اس سے متعلق متضاد رویہ رکھتے ہیں کہ غیر مسلم اکثریت کی طرف سے نافذ کردہ ان مذہبی پابندیوں کی مسلم اقلیت پابند نہیں۔ :)
     
    آخری تدوین: ‏اگست 2, 2019
  12. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    296
    موڈ:
    Breezy
    نہ تو میں اسے کم از کم (اپنی ذات کی حد تک) اسلامو فوبیا قرار دیتا ہوں اور نہ اس سے مجھے کوئی تکلیف ہے میں تو ہمیشہ سے کہتا ہوں کہ مغرب دورخا ہے۔اگر مغرب سیکولر ہے اور وہاں ہر طرح کی اقلیت اپنی مرضی سے رہ سکتی ہے تو نقاب پر پابندی کیوں آخر یہ بھی تو وہاں کی اقلیوں میں سے ایک اقلیت کا مذہبی معاملہ ہے اگر نہیں تو پھر کم از کم اپنے چہرے سے ہرطبقے کی اقدار کے احترام کا غازہ اتارے اور صاف صاف سامنے آجائے اسمیں دکھ کی کونسی بات ہے؟؟؟؟؟؟؟ رہی بات قادیانیت کی تو پاکستان سیکولر نہیں ہے اگر ہوتا تو آپ بات کرتے باقی قادیانیت پر آپ سے سیر حاصل بات ہوچکی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  13. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,320
    اگر آپ یہ نیا قانون پڑھنے کی زحمت کرتے تو یہ بات نہ کہتے۔ دراصل انہوں نے پابندی صرف اسلامی نقاب پر نہیں بلکہ ہر چہرہ ڈھانپنے والی چیز پر لگائی ہے۔ جس میں غیر مذہبی ہیلمٹ بھی شامل ہے۔
    اس قانون کا بنیادی مقصد پبلک میں شناخت کی غرض سے ہر چہرے کو ظاہر کرنا ہے۔ دیگر اسلامی پردوں جیسے سکارف یا دوپٹّے پر کوئی پابندی نہیں کہ اس میں چہرہ نہیں چھپتا۔
    یوں سیکولر تہذیب کا تشخص قائم ہے البتہ مسلمانوں کی دل آزاری پھر بھی ہو گی۔
     
  14. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    10,591
    جھنڈا:
    Pakistan
    بقول آپ کے قادیانی مسلمان نہیں اقلیت ہیں۔۔۔
    وہ خود اپنے کو غیر مسلم ڈکلئیر کرکے حقیقی معنوں میں اقلیت تسلیم کریں اور اپنے حقوق لے لیں۔۔۔
    یہ خود کو مسلمان کہتے ہیں اور مسلمان انہیں مسلمان نہیں کہتے۔۔۔
    پھر حقوق کا معاملہ کیسے طے ہو؟؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  15. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    296
    موڈ:
    Breezy
    چلیں جی فرانس اور دیگر یورپی ممالک نے بھی صرف ""چہرہ چھپانے"" پر پابندی لگائی ہوگی۔لیکن اتنے پڑھے لکھے اور اعلی تعلیم یافتہ قانونی ماہرین یا قانون سازوں کو یہ نہیں سوچنا چاہییے تھا کہ ایک واضح اقلیت کا مذہبی معاملہ بھی اس سے متعلق ہے؟؟؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  16. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    10,591
    جھنڈا:
    Pakistan
    کفار کی حکومت ہے جو چاہے بل بنائے اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔۔۔
    جس کو یہ قانون پسند نہیں وہ ملک چھوڑ دے۔۔۔
    مگر کفار کو بھی چاہیے کہ اسلامی احکامات پر تنقید چھوڑ دیں۔۔۔
    اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو دوسری جانب سے بھی ایسی توقعات نہ پالیں!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  17. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,320
    یہ ان کا مسئلہ نہیں۔ مغربی جمہوری نمائندے اپنے قوانین مفاد عامہ کو سامنے رکھتے ہوئے پاس کرتے ہیں۔
    جیسے پاکستان میں اکثریت کے دباؤ پر قادیانیوں کے جذبات کی پرواہ کئے بغیر مذہبی پابندیاں لگا دی گئی تھی۔ یہی کچھ آجکل مغرب میں چل رہا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں مسلمان اقلیت ہیں۔
     
  18. م حمزہ

    م حمزہ محفلین

    مراسلے:
    4,474
    موڈ:
    Cool
    کب تک آپ قادیانیوں پر لگائی گئی پابندیوں کا رونا روتے رہیں گے؟

    ایک مخلصانہ گزارش ہے۔ مسلمان ہوجائیے۔ یقین جانیے یہ اس عاجز کی دلی خواہش ہے۔ کوئی طنز نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 1
  19. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,165
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    ملک کی آبادی 17000000
    مسلمان آبادی 850000
    مسلمان خواتین شاید 400000
    نقابی خواتین 400

    یعنی ایک ہزار مسلم خواتین میں سے ایک نقاب یا برقعہ پہنتی ہے
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  20. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,320
    میں نے قادیانی اقلیت کو محض بطور مثال موازنہ کیلئے پیش کیا ہے۔ یہ سمجھانے کیلئے کہ جب مغرب میں مسلم اقلیتوں پر مذہبی پابندیاں لگتی ہیں تو اس بنیاد پر مسلمانوں کو مغرب کے خلاف بے جا پراپگنڈہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ پہلے اپنے گریبانوں میں جھانکنا ضروری ہے کہ ان کے اپنے مسلم اکثریتی ممالک میں اقلیتوں کے ساتھ کیسا رویہ ہے۔
     

اس صفحے کی تشہیر