فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن۔ ایک شعوری کوشش؟

اگر اس غزل کو اس بحر میں تبدیل کر دیا جائے تو ۔۔۔
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فعلن
نہ میں شہزادہ کہیں کا، نہ پری میرے لیے
وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت منکوح سو ہے
استادِ محترم ۔ ایک شعوری کوشش جو شاید زیادہ کامیاب نہیں ہورہی؟
شک نہیں اس میں کہ پیاری ہے ہماری بیوی​
’’وہ جو رکھتے تھے ہم اِک حسرتِ منکوح سو ہے‘‘​
ہے رگ و پے میں سراپا میں وہی تو جاری​
گنگناتی ہے جسے آج مری روح سو ہے​
وہ تڑپنا، وہ پھڑکنا ، وہی اندازِ جنوں​
جیسی کل تھی وہی اب حالتِ مذبوح سو ہے​
اس زمیں کو مئے خونناب سے رنگین کیا​
وہی مسجودِ خلائق،وہی ممدوح سو ہے​
وہ جسے آج تلک ڈھونڈ نہ پائے عشاق​
وہ کتابوں میں کہیں آج بھی مشروح سو ہے​
 

الف عین

لائبریرین
واہ میاں خلیل، اس مصرع کی شان بڑھانے کا شکریہ جو تمہارے اشعار میں ایک ہی موضوع کے اعادے سے ذہن میں آیا تھا۔
زمین کے مشکل ہونے کا واضح احساس ہو رہا ہے اس غزل میں۔بہر حال اچھی غزل نکالی ہے۔
 
Top