غز ل کے اشعار ا

نفر ی

محفلین
ہے پڑی ہر شے وہیں چھوڑاجہاں
کچھ نہیں،کچھ بھی نہیں بدلہ یہاں

روپ دیکھا ہے وہ جیون کا 'کہ اب
زندگی کا حوصلہ ہی 'ہے کہاں

ایک پہلو تو کھلا ہجرت کا ' یہ
دور تک میرا نہیں کوئی یہاں

لوگ ا ب بھی یاد اسکو کر تے ہیں
اس کے جیسا پھر ہواکوئی کہاں
 

الف عین

لائبریرین
خوش آمدید @نفری
ماشاء اللہ، اچھی غزل ہے جو ذرا بہتر ہو سکتی ہے۔
مثلاً قوافی ایسے چنے گئے ہیں کہ محض تین قوافی یہاں کہاں اور جہاں استعمال ہو سکے ہیں۔ ذرا بہتر زمین منتخب کیا کرو

ہے پڑی ہر شے وہیں چھوڑاجہاں

کچھ نہیں،کچھ بھی نہیں بدلہ یہاں

//شے مونث ہے، چھوڑی جہاں کا محل ہے، پہلا مصرع رواں بھی نہیں۔

ہے وہیں پر چیز۔ چھوڑی تھی جہاں

بہتر شکل ہو سکتی ہے


روپ دیکھا ہے وہ جیون کا 'کہ اب

زندگی کا حوصلہ ہی 'ہے کہاں

//جیون ذرا مس فٹ ہے یہاں

زیست کی وہ شکل دیکھی ہے ، کہ ہے

زندگی کا حوصلہ ہی اب کہاں

یا

زندگی جینے/کرنے کی ہمت اب کہاں


ایک پہلو تو کھلا ہجرت کا ' یہ

دور تک میرا نہیں کوئی یہاں

//بہتر ہو کہ پہلے مصرع میں ’تو‘ کی جگہ ’بھی‘ لاؤم بہتر اور زیادہ چست مصرع ہو گا

ایک پہلو یہ بھی ہجرت کا کھلا


لوگ ا ب بھی یاد اسکو کر تے ہیں

اس کے جیسا پھر ہواکوئی کہاں

//لوگ اب بھی یاد کرتے ہیں اسے

زیادہ رواں نہیں؟ ایسے چست مصرع کہا کرو، جس میں حروف کا اسقاط کم سے کم ہو
 

نفر ی

محفلین
آداب
آپ کی رائے کا انتظار رہتا ہے۔آپ نے اپنے قیمتی وقت میں سے میرے لیے وقت نکالا اور میری کوشش پر اپنی قیمتی رائے سے نوازا جس کے لے میں آپ کا حد درجہ شکرگزارہوں۔
 
Top