غزل

اپنی رائے سے نوازیں

  • میری غزل پر اپنے رائے سے نوازیں

    Votes: 0 0.0%
  • آپ سب دوستوں سے گزارش ہے

    Votes: 0 0.0%

  • Total voters
    0

راسخ شاہد

محفلین
کیا ملے آج غمِ یار کے مارے ہوئے لوگ؟
کیسے ہیں! عشق کے بازار کے مارے ہوئے لوگ؟

غم نہ تھا عشق میں گر جان بھی جاتی ، لیکن
ہم رہے عشق میں انکار کے مارے ہوئے لوگ

ہم سے دنیا کے مسائل کی خبر مت پوچھو
ہم تو ہیں عالمِ اسرار کے مارے ہوئے لوگ

دردِ دل ان سے نہ پوچھو ، نہ سمجھ آئے گا
جو نہ ہیں یار نہ اغیار کے مارے ہوئے لوگ

دشمنِ جان نہ اِس پار نہ اُس پار کوئی
ہم تو ہیں بیچ کی دیوار کے مارے ہوئے لوگ

کتنی حسرت وہ نگاہوں میں لئے پھرتے ہیں
ہائے ! وہ وعدۂ دیدار کے مارے ہوئے لوگ

اپنے ہاتھوں سے جو خود اپنا گلا گھونٹتے ہیں
ہیں خدایا ! تیرے سنسار کے مارے ہوئے لوگ

جن کی نظروں میں کوئی راہ نہ منزل کوئی
ان کو ہی کہتے ہیں رفتار کے مارے ہوئے لوگ

سانحے روز گزرتے ہیں مگر اب راسؔخ
دیکھئیے شہر میں غم خوار کے مارے ہوئے لوگ


|| راسؔخ شاہد ||
 
کیا ملے آج غمِ یار کے مارے ہوئے لوگ؟
کیسے ہیں! عشق کے بازار کے مارے ہوئے لوگ؟

غم نہ تھا عشق میں گر جان بھی جاتی ، لیکن
ہم رہے عشق میں انکار کے مارے ہوئے لوگ

ہم سے دنیا کے مسائل کی خبر مت پوچھو
ہم تو ہیں عالمِ اسرار کے مارے ہوئے لوگ

دردِ دل ان سے نہ پوچھو ، نہ سمجھ آئے گا
جو نہ ہیں یار نہ اغیار کے مارے ہوئے لوگ

دشمنِ جان نہ اِس پار نہ اُس پار کوئی
ہم تو ہیں بیچ کی دیوار کے مارے ہوئے لوگ

کتنی حسرت وہ نگاہوں میں لئے پھرتے ہیں
ہائے ! وہ وعدۂ دیدار کے مارے ہوئے لوگ

اپنے ہاتھوں سے جو خود اپنا گلا گھونٹتے ہیں
ہیں خدایا ! تیرے سنسار کے مارے ہوئے لوگ

جن کی نظروں میں کوئی راہ نہ منزل کوئی
ان کو ہی کہتے ہیں رفتار کے مارے ہوئے لوگ

سانحے روز گزرتے ہیں مگر اب راسؔخ
دیکھئیے شہر میں غم خوار کے مارے ہوئے لوگ


|| راسؔخ شاہد ||
ہندوستانی کشمیر سے ایک خوبصورت آواز۔ کیا اچھی غزل ہے ! بہت سی داد!

اردو محفل میں خوش آمدید!
 

الف عین

لائبریرین
ماشاء اللہ بہت اچھی غزل ہے۔ اور کشمیر کے تناظر میں یہ شعر زبردست ہے
دشمنِ جان نہ اِس پار نہ اُس پار کوئی
ہم تو ہیں بیچ کی دیوار کے مارے ہوئے لوگ
اگر برا نہ مانیں تو بہتری کی خاطر یہ کہہ دوں کہ 'جان نہ' میں تنافر کی کیفیت ہے
دشمنِ جاں ہے نہ اس پار...
سے بہتر ہو سکتا ہے میرے خیال میں
 

راسخ شاہد

محفلین
B
ماشاء اللہ بہت اچھی غزل ہے۔ اور کشمیر کے تناظر میں یہ شعر زبردست ہے

اگر برا نہ مانیں تو بہتری کی خاطر یہ کہہ دوں کہ 'جان نہ' میں تنافر کی کیفیت ہے
دشمنِ جاں ہے نہ اس پار...
سے بہتر ہو سکتا ہے میرے خیال میں
بہت شکریہ سر
 
کیا ملے آج غمِ یار کے مارے ہوئے لوگ؟
کیسے ہیں! عشق کے بازار کے مارے ہوئے لوگ؟

غم نہ تھا عشق میں گر جان بھی جاتی ، لیکن
ہم رہے عشق میں انکار کے مارے ہوئے لوگ

ہم سے دنیا کے مسائل کی خبر مت پوچھو
ہم تو ہیں عالمِ اسرار کے مارے ہوئے لوگ

دردِ دل ان سے نہ پوچھو ، نہ سمجھ آئے گا
جو نہ ہیں یار نہ اغیار کے مارے ہوئے لوگ

دشمنِ جان نہ اِس پار نہ اُس پار کوئی
ہم تو ہیں بیچ کی دیوار کے مارے ہوئے لوگ

کتنی حسرت وہ نگاہوں میں لئے پھرتے ہیں
ہائے ! وہ وعدۂ دیدار کے مارے ہوئے لوگ

اپنے ہاتھوں سے جو خود اپنا گلا گھونٹتے ہیں
ہیں خدایا ! تیرے سنسار کے مارے ہوئے لوگ

جن کی نظروں میں کوئی راہ نہ منزل کوئی
ان کو ہی کہتے ہیں رفتار کے مارے ہوئے لوگ

سانحے روز گزرتے ہیں مگر اب راسؔخ
دیکھئیے شہر میں غم خوار کے مارے ہوئے لوگ


|| راسؔخ شاہد ||

راسخ صاحب ، آداب عرض ہے!

مجھے خود اِس بزم میں آئے ہوئے کچھ عرصہ ہی ہوا ہے، لیکن چونکہ آپ میرے بعد آئے ہیں، میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں .

آپ کی غزل پسند آئی . داد قبول فرمائیے .

نیازمند،
عرفان عؔابد
 
Top