غزل

معظم علی کاظمی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 7, 2018

  1. معظم علی کاظمی

    معظم علی کاظمی محفلین

    مراسلے:
    148
    ہائے شکوہ جو ابد تک نہ لبوں پر آیا
    واہ صد لاکھ جوازوں کا اکٹھا کرنا
    دم لیا قبر کو زندان بنا کر، ظالم
    وہ ترا سامنے آنا مجھے زندہ کرنا
    بس کہ محروم تھا میں خاک سے برتر نہ رہا
    ہوا ممکن سو مجھے آگ سے پیدا کرنا
    کام تیرا تھا ہر اک رند یہاں پر لانا
    فرض میرا ہوا فردوس کو دنیا کرنا
    بزم عشاق، چراغاں، ستمِ خود بینی
    تیرا یکجا ہی تو کرنا ہوا تنہا کرنا
    چار دن اور رہیں کون و مکاں تو اچھا
    پھر کسی روز مرے عشق کا چرچا کرنا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. معظم علی کاظمی

    معظم علی کاظمی محفلین

    مراسلے:
    148
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,290
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    درست ہے غزل
     
    آخری تدوین: ‏اگست 13, 2018
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر