غزل --- (2023-12-08)

ایک عزیز ہستی کی موت پر لکھی غزل پیش ِخدمت ہےاصلاح کی درخواست کے ساتھ:
الف عین ، ظہیراحمدظہیر ، سید عاطف علی ، محمد احسن سمیع راحلؔ ، یاسر شاہ
قضا نے جو کیا ہم پر ستم اب تک نہیں بھولے
ترا ہم سے بچھڑ جانے کا غم اب تک نہیں بھولے

جھٹک کر سر نگاہِ ناز سے وہ دیکھنا تیرا
سنہری گیسوؤں کے پیچ و خم اب تک نہیں بھولے

ملائم نرم لہجے میں سبھی سے گفتگو کرنا
ترے لہجے کا وہ ریشم بھی ہم اب تک نہیں بھولے

حسیں چہرے کا پہرے دار تھا رخسار پر جو تِل
دمکتا موتیوں سا تل صنم اب تک نہیں بھولے

نزاکت میں نفاست میں ترا ثانی نہ تھا کوئی
مگر تیرے نصیبوں کے الم اب تک نہیں بھولے

حیا پاکیزگی بن کر جھلکتا تھا اُن آنکھوں سے
کبھی ناں لڑکھڑائے جو قدم اب تک نہیں بھولے

دعائے مغفرت کرنا کہ تیرا گھر ہو جنت میں
مرا معمول ہے تیری قسم اب تک نہیں بھولے

بنی تسکین کا باعث ہمیشہ ہی تری باتیں
ترے خورشید پر لطف و کرم اب تک نہیں بھولے
 

الف عین

لائبریرین
حسیں چہرے کا پہرے دار تھا رخسار پر جو تِل
دمکتا موتیوں سا تل صنم اب تک نہیں بھولے
تل کادونوں مصرعوں میں دہرایا جانا اچھا نہیں لگتا
حسیں چہرے پہ جو رہتا تھا پہرےدار کی صورت
نزاکت میں نفاست میں ترا ثانی نہ تھا کوئی
مگر تیرے نصیبوں کے الم اب تک نہیں بھولے
دو لختِ لگ رہا ہے
حیا پاکیزگی بن کر جھلکتا تھا اُن آنکھوں سے
کبھی ناں لڑکھڑائے جو قدم اب تک نہیں بھولے
یہ بھی دو لخت لگ رہا ہے۔ اردو میں "ناں" کوئی لفظ نہیں، نفی کے لیے نہ اور تاکید کے لئے نا درست استعمال ہیں
باقی اشعار درست ہین
 
حسیں چہرے کا پہرے دار تھا رخسار پر جو تِل
دمکتا موتیوں سا تل صنم اب تک نہیں بھولے

تل کادونوں مصرعوں میں دہرایا جانا اچھا نہیں لگتا
حسیں چہرے پہ جو رہتا تھا پہرےدار کی صورت
حسیں چہرے پہ رہتا تھا جو پہرےدار کی صورت
دمکتا موتیوں سا تل صنم اب تک نہیں بھولے

نزاکت میں نفاست میں ترا ثانی نہ تھا کوئی
مگر تیرے نصیبوں کے الم اب تک نہیں بھولے

دو لختِ لگ رہا ہے
سر الف عین صاحب! یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ ایک نازک اور نفیس (جو اچھی زندگی کا مستحق تھا)کو تکالیف بھری زندگی گذارنی پڑی
حیا پاکیزگی بن کر جھلکتا تھا اُن آنکھوں سے
کبھی ناں لڑکھڑائے جو قدم اب تک نہیں بھولے

یہ بھی دو لخت لگ رہا ہے۔ اردو میں "ناں" کوئی لفظ نہیں، نفی کے لیے نہ اور تاکید کے لئے نا درست استعمال ہیں
حیا پاکیزگی بن کر جھلکتا تھا اُن آنکھوں سے
نہیں بہکے کبھی تھے جو قدم اب تک نہیں بھولے
 

سیما علی

لائبریرین
تل کادونوں مصرعوں میں دہرایا جانا اچھا نہیں لگتا
حسیں چہرے پہ جو رہتا تھا پہرےدار کی صورت

دو لختِ لگ رہا ہے

یہ بھی دو لخت لگ رہا ہے۔ اردو میں "ناں" کوئی لفظ نہیں، نفی کے لیے نہ اور تاکید کے لئے نا درست استعمال ہیں
باقی اشعار درست ہین
بڑی نوازش استاد محترم ۔۔بات اس خوبصورتی سے سمجھانے کے لئے ۔۔۔🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻
 
نزاکت میں نفاست میں ترا ثانی نہ تھا کوئی
مگر تیرے نصیبوں کے الم اب تک نہیں بھولے
باقی دونوں درست ہو گئے لیکن الم والے شعر میں تمہارا خیال ظاہر نہیں ہو رہا
سر الف عین صاحب! ایک اور کوشش۔
تجھے رب نے عطا کی تھی نزاکت بھی نفاست بھی
مگر تیرے نصیبوں کے الم اب تک نہیں بھولے
 
Top