عرفان صدیقی غزل ۔ مروتوں پہ وفا کا گماں بھی رکھتا تھا ۔ عرفان صدیقی

محمداحمد

لائبریرین
غزل​
​
مروتوں پہ وفا کا گماں بھی رکھتا تھا​
وہ آدمی تھا غلط فہمیاں بھی رکھتا تھا​
​
بہت دنوں میں یہ بادل ادھر سے گزرا ہے​
مرا مکان کبھی سائباں بھی رکھتا تھا​
​
عجیب شخص تھا، بچتا بھی تھا حوادث سے​
پھر اپنے جسم پہ الزامِ جاں بھی رکھتا تھا​
​
ڈبو دیا ہے تو اب اس کا کیا گلہ کیجے​
یہی بہاؤ سفینے رواں بھی رکھتا تھا​
​
تو یہ نہ دیکھ کہ سب ٹہنیاں سلامت ہیں​
کہ یہ درخت تھا اور پتیاں بھی رکھتا تھا​
​
ہر ایک ذرہ تھا گردش میں آسماں کی طرح​
میں اپنا پاؤں زمیں پر جہاں بھی رکھتا تھا​
​
لپٹ بھی جاتا تھا اکثر وہ میرے سینے سے​
اور ایک فاصلہ سا درمیاں بھی رکھتا تھا​
​
عرفان صدیقی​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top