غزل ۔ زخم کھانا تو اپنی عادت ہے ۔ احمد راہی

محمداحمد

لائبریرین
غزل ​
​
زخم کھانا تو اپنی عادت ہے​
مسکرانا تو اپنی عادت ہے​
​
روشنی ہو کہ گھپ اندھیرا ہو​
دل جلانا تو اپنی عادت ہے​
​
آپ کب تک سنبھالیے گا ہمیں ​
لڑکھڑانا تو اپنی عادت ہے​
​
دوستوں کے دیے ہوئے طعنے ​
بھول جانا تو اپنی عادت ہے​
​
اُن کی آنکھوں سے کیا گلہ راہی​
ڈوب جانا تو اپنی عادت ہے​
​
احمد راہی​
 
روشنی ہو کہ گھپ اندھیرا ہو​
دل جلانا تو اپنی عادت ہے
گویا دل بھی مانندِ چراغ ہو گیا کہ جسکا کام ازل سے جلنا ہی مقدر ٹھہرا ۔ :)
اچھا انتخاب ہے احمد میاں ۔جیتے رہیں ۔​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top