غزل ۔ رات درکار تھا سنبھالا مجھے ۔ رسا چغتائی

محمداحمد

لائبریرین
غزل​
​
رات درکار تھا سنبھالا مجھے​
دیکھتا ہی رہا پیالہ مجھے​
​
جانے کس شام کا ستارہ ہوں​
جانے کس آنکھ نے اُجالا مجھے​
​
میرے دل سے اُتار دے نہ کہیں​
ایک دن یہ ترا حوالہ مجھے​
​
کس طرح میں زمیں کا رزق ہوا​
کس طرح اس زمیں نے پالا مجھے​
​
اور کتنی ہے زندگی میری​
اور کرنا ہے کیا ازالہ مجھے​
​
اس سے پہلے نظر نہیں آیا ​
اس طرح چاند کا یہ ہالا مجھے​
​
آدمی کس کمال کا ہوگا​
جس نے تصویر سے نکالا مجھے​
​
میں تجھے آنکھ بھر کے دیکھ سکوں​
اتنا کافی ہے بس اُجالا مجھے​
​
اُس نے منظر بدل دیا یکسر​
چاہیے تھا ذرا سنبھالا مجھے​
​
اور کچھ یوں ہوا کہ بچوں نے​
چھینا جھپٹی میں توڑ ڈالا مجھے​
​
یاد ہیں آج بھی رساؔ وہ ہاتھ​
اور روٹی کا وہ نوالہ مجھے​
​
رسا چغتائی​
​
 

شیزان

لائبریرین
میرے دل سے اُتار دے نہ کہیں
ایک دن یہ ترا حوالہ مجھے
بہت خوب جناب
 

محمداحمد

لائبریرین
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top