عرفان صدیقی غزل ۔ خوشبو کی طرح ساتھ لگا لے گئی ہم کو ۔ عرفان صدیقی

محمداحمد

لائبریرین
غزل​
​
خوشبو کی طرح ساتھ لگا لے گئی ہم کو​
کوچے سے ترے بادِ صبا لے گئی ہم کو​
​
پتھر تھے کہ گوہر تھے، اب اس بات کا کیا ذکر​
اک موج بہرحال بہا لے گئی ہم کو​
​
پھر چھوڑ دیا ریگِ سرِ راہ سمجھ کر​
کچھ دور تو موسم کی ہوا لے گئی ہم کو​
​
تم کیسے گرے آندھی میں چھتنار درختو؟​
ہم لوگ تو پتے تھے، اُڑا لے گئی ہم کو​
​
ہم کون شناور تھے کہ یوں پار اُترتے​
سوکھے ہوئے ہونٹوں کی دعا لے گئی ہم کو​
​
اس شہر میں غارت گرِ ایماں تو بہت تھے​
کچھ گھر کی شرافت ہی بچا لے گئی ہم کو​
​
عرفان صدیقی​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top