احمد مشتاق غزل ۔ خود چل کے قریب آ گیا تھا ۔ احمد مشتاق

محمداحمد

لائبریرین
غزل​
​
خود چل کے قریب آ گیا تھا​
میں دُور سے جس کو دیکھتا تھا​
​
گزری ہوئی بُلبُلوں کا سایہ​
اک شاخِ گلاب پر پڑا تھا​
​
سبزہ ہو مراقبے میں گویا​
خاموش تھا اور جُھکا ہوا تھا​
​
بیٹھا تھا کوئی مِرے مقابل​
اور آپ سے آپ ہنس رہا تھا​
​
دِل صبح سے مضطرب ہے میرا​
یہ خواب اگر نہ تھا تو کیا تھا​
​
احمد مشتاق​
 
گزری ہوئی بُلبُلوں کا سایہ​
اک شاخِ گلاب پر پڑا تھا​
سبزہ ہو مراقبے میں گویا​
خاموش تھا اور جُھکا ہوا تھا​
بہت عمدہ شئیرنگ جناب خوش رہیے۔​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top