غزل: ہم مطمئن ہیں سن کے یہ چرچے جہاں بھی ہیں ٭ نعیم صدیقیؒ

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 14, 2019

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,624
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ہم مطمئن ہیں سن کے یہ چرچے جہاں بھی ہیں
    رونق پہ میکدہ ہے، ہمارے بغیر بھی

    کیوں ڈس رہا ہے قلب کو اندیشۂ وداع
    کاٹی ہے ایک عمر، تمھارے بغیر بھی

    کیسی یہ ناؤ، کاہے کی پتوار؟ ناخدا!
    یاں تیرتے ہیں لوگ سہارے بغیر بھی

    قربان ان کی خاص توجہ کے جائیے
    سنتے ہیں وہ پکار، پکارے بغیر بھی

    داؤں لگائے جاؤ بساطِ حیات پر
    جیتا ہے بازیاں کوئی ہارے بغیر بھی

    ٭٭٭
    نعیم صدیقیؒ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر