صبا اکبر آبادی غزل : ہم بھی تھے نظر والے ہم بھی تھے جواں صاحب - صبا اکبر آبادی

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 21, 2019

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,143
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    ہم بھی تھے نظر والے ہم بھی تھے جواں صاحب
    اب ذکرِ تمنا بھی دل پر ہے گراں صاحب

    اب کس کو بتائیں ہم اپنا غمِ جاں صاحب
    اب لوگ محبت کی دنیا میں کہاں صاحب

    کرتے تھے محبت ہم ہر طرح دل و جاں سے
    اب کس کی طرف دیکھیں اب دل ہے نہ جاں صاحب

    کیا نام و نشاں ہم سے اب پوچھتے ہو لوگو
    ہم لوگ ہیں دنیا میں بے نام و نشاں صاحب

    تم آنکھوں میں آئے ہو دل محوِ نظارہ ہے
    کہہ دو کہ ٹہر جائے اب عصرِ رواں صاحب

    کوئی نہیں بھولے گا کوئی نہیں بھٹکے گا
    ہیں آپ کے قدموں کے راہوں میں نشاں صاحب

    ایوانِ محبت کی عظمت کوئی کیا جانے
    تم جس کے مکیں ٹہرے دل ہے وہ مکاں صاحب

    دنیا میں کسی کا بھی ہم درد نہیں کوئی
    پھر آپ کی جانب ہے دنیا نگراں صاحب

    جب بزمِ محبت میں تم صاحبِ مسند ہو
    پھر اور کہاں جائے یہ ہیچمداں صاحب
    صبا اکبر آبادی
    1962ء
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. سردار محمد نعیم

    سردار محمد نعیم محفلین

    مراسلے:
    1,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive

اس صفحے کی تشہیر