خورشید رضوی غزل : ہمیں رکھتی ہے یوں قیدِ مقام آزردہ - خورشید رضوی

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 11, 2019

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,109
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    ہمیں رکھتی ہے یوں قیدِ مقام آزردہ
    کہ جیسے تیغ کو رکھّے نیام آزردہ

    ہے جانے کس لئے ماہِ تمام آزردہ
    کھڑا ہے دیر سے بالائے بام آزردہ

    گریباں چاک کر لیتی ہیں کلیاں سُن کر
    ہوائے صبح لاتی ہے پیام آزردہ

    بتا اے زندگی یہ کون سی منزل ہے
    ہے خواب آنکھوں سے اور لب سے کلام آزردہ

    یہ خاکِ سُست رَو اس کے ہیں اپنے عنصر
    نہ ہو اس سے ہوائے تیز گام آزردہ

    گری ہے تاک پر شاید چمن میں بجلی
    پڑے ہیں سر نگوں مینا و جام آزردہ

    غزل کس بحر میں خورشیدؔ یہ لکھ ڈالی
    نہ کر محفل کو یوں اے کج خرام آزردہ
    خورشید رضوی
     
    آخری تدوین: ‏مئی 11, 2019
  2. منذر رضا

    منذر رضا محفلین

    مراسلے:
    333
    جھنڈا:
    Pakistan
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,109
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    بہت شکریہ پیارے بھائی :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. عباد اللہ

    عباد اللہ محفلین

    مراسلے:
    1,268
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    سوچنے کی بات ہے ;):)
     

اس صفحے کی تشہیر