1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $413.00
    اعلان ختم کریں

جون ایلیا غزل : کیا کہوں کیا ہے مرے کشکول میں - جون ایلیا

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 14, 2018

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,056
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    کیا کہوں کیا ہے مرے کشکول میں
    ترکِ دنیا ہے مرے کشکول میں

    قیس اور لیلیٰ ہیں محمل میں سوار
    اور صحرا ہے، مرے کشکول میں

    جون! اب میں کچھ نہیں ہوں لا سوا
    اب فقط لا ہے،مرے کشکول میں

    وہ جو ہے ہاں اور نہیں کے درمیاں
    بس وہی ’یا‘ ہےمرے کشکول میں

    اے مغاں! بھر دو اسے یعنی کہ اک
    ناف پیالہ ہے، مرے کشکول میں

    شش جہت کی دھوپ ہے میرا نصیب
    اور سایہ ہے،مرے کشکول میں

    بول اے یوسف! جو سودا ہو قبول
    اِک زلیخا ہے مرے کشکول میں

    اب صداکوئی مرے لب پر نہیں
    پر وہ لب وا ہے، مرے کشکول میں

    ساری دنیا کاگدا پیشہ ہوں میں
    ساری دنیا ہے، مرے کشکول میں

    ہوں میں اک سائل مگر تیرے لیے
    ایک پڑیا ہے، مرے کشکول میں
    جون ایلیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر