غزل:کوئی دیوار ہماری تھی نہ چھت اپنی تھی -اختر عثمان

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 20, 2019

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,109
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    کوئی دیوار ہماری تھی نہ چھت اپنی تھی
    اپنے سائے میں جیے ہم یہ سکت اپنی تھی

    تہ بہ تہ ہم نے قرینوں سے کیے تیرے سخن
    مستعاری نہ تھے ، ایک ایک جہت اپنی تھی

    اپنی آہستہ روی ہے کوئی واماندگی نئیں
    لہر اپنی تھی بَن اپنا تھا ، چلت اپنی تھی

    اب جو دیکھیں تو گلہ تک نہیں بنتا کہ دلا!
    فیصلے سارے ترے تھے ، تجھے مت اپنی تھی

    ہم نے جی بھر کے چُرایا ہے خیالات کا متن
    صرف اتنا ہے کہ ہر بار بنت اپنی تھی

    ہم نے ایک ایک کو پامال کیا جی بھر کے
    اس کے احساس میں جو جو بھی صفت اپنی تھی
    اختر عثمان
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    واہ-کیا خوب -اختر عثمان اچھے شاعر ہیں -
     

اس صفحے کی تشہیر