غزل:کوئی دیوار ہماری تھی نہ چھت اپنی تھی -اختر عثمان

غزل
کوئی دیوار ہماری تھی نہ چھت اپنی تھی
اپنے سائے میں جیے ہم یہ سکت اپنی تھی

تہ بہ تہ ہم نے قرینوں سے کیے تیرے سخن
مستعاری نہ تھے ، ایک ایک جہت اپنی تھی

اپنی آہستہ روی ہے کوئی واماندگی نئیں
لہر اپنی تھی بَن اپنا تھا ، چلت اپنی تھی

اب جو دیکھیں تو گلہ تک نہیں بنتا کہ دلا!
فیصلے سارے ترے تھے ، تجھے مت اپنی تھی

ہم نے جی بھر کے چُرایا ہے خیالات کا متن
صرف اتنا ہے کہ ہر بار بنت اپنی تھی

ہم نے ایک ایک کو پامال کیا جی بھر کے
اس کے احساس میں جو جو بھی صفت اپنی تھی
اختر عثمان
 
Top