غزل: واقفِ راز کوئی ہے ہی نہیں ٭ نصر اللہ خان عزیز

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 15, 2020 4:29 صبح

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,317
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    واقفِ راز کوئی ہے ہی نہیں
    موت ڈرنے کی ورنہ شَے ہی نہیں

    جلوۂ حق ہے ہر طرف پیدا
    اور کوئی جہاں میں ہے ہی نہیں

    ہے محبت میں بھی عجیب سرور
    نشہ آور جہاں میں مَے ہی نہیں

    کفر کے حق میں جو ہو نغمہ سرا
    مجھ کو حق سے ملی وہ نَے ہی نہیں

    چھیڑ اس شوخ سے چلی جائے
    قصہ یہ مستحقِ طَے ہی نہیں

    زنده باد اے دعائے نیم شبی
    خوشتر اس لَے سے کوئی لَے ہی نہیں

    اب وہ تسکین کس کو دیں گے عزیزؔ
    میرے سینے میں دل تو ہے ہی نہیں

    ٭٭٭
    ملک نصر اللہ خان عزیز
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر