غزل: قصیدہ لکھ رہا ہوں میں

غزل

قصیدہ لکھ رہا ہوں میں
خدا کا لکھ رہا ہوں میں

وہ بالکل ایسا ہی ہوگا
کہ جیسا لکھ رہا ہوں میں

مجھے اک نام لکھنا تھا
یہ کیا کیا لکھ رہا ہوں میں

قلم کی روشنائی سے
اجالا لکھ رہا ہوں میں

تمہاری زرد رنگت کو
سنہرا لکھ رہا ہوں میں

مقدس موت مرنے کو
قرینہ لکھ رہا ہوں میں

خدا کے ساتھ خود کو بھی
اکیلا لکھ رہا ہوں میں

نقابوں والے لوگوں کو
برہنہ لکھ رہا ہوں میں

تمہاری ہر عبادت کو
دکھاوا لکھ رہا ہوں میں

تمہارا ظرف چھوٹا ہے
سو تھوڑا لکھ رہا ہوں میں

جوانی میں حجازؔ اپنا
بڑھاپا لکھ رہا ہوں میں

مہدی نقوی حجازؔ
 
آخری تدوین:

نایاب

لائبریرین
واہہہہہہہہہہہ
بہت خوب لکھ رہے ہیں نقوی بھائی
جوانی میں بڑھاپا
بہت سی دعاؤں بھری داد
جوانی میں حجازؔ اپنا
بڑھاپا لکھ رہا ہوں میں
 

فلک شیر

محفلین
مہدیِ شعر، حجاز نقوی! اب ہم کیا کہیں ، اتنا خوب لکھی جا رہے ہیں قبلہ :)
بہت خوب ، کل غزل ہی عمدہ ہے، پر تیسرا شعر سادگی اورپُرکار ی کی کیا خوب مثال ہے۔
 
Top