غزل:زبانیں کاٹ بھی دو گے تو حق محصور نہ ہوگا...

عزیزان من آداب،
ایک پرانی غزل آپ سب کی بصارتوں کی نذر ... گر قبول افتد زہے عزو شرف...

(باوجود نہ دو حرفی در ردیف🙏)

................................................................
زبانیں کاٹ بھی دو گے تو حق محصور نہ ہوگا
یہ دستور زباں بندی تو اب منظور نہ ہوگا

جھکاؤ گے نہ جب تک سر یونہی مقہور ٹھہرو گے
کہ آسانی سے غداری کا تمغہ دور نہ ہوگا!

وہ جو ڈالی سے ٹوٹے پھول تک کا غم مناتا تھا
ترے مٹنے پہ کیونکر وہ بھلا رنجور نہ ہوگا؟

ہوائیں جانی پہچانی سی خوشبو لا رہی ہیں اب
زہے قسمت نشاں منزل کا اب کچھ دور نہ ہوگا.

ترے پہلو میں رہ کر بھی نہ تیرا ساتھ مل پایا!
مرے جیسا کوئی بھی دہر میں مہجور نہ ہوگا

یہ شوقِ انقلاب اس کو مبارک ہو، وہی پالے
کبھی جو بھوک کے ہاتھوں ہوا مجبور نہ ہوگا

ضرورت گر پڑی، ہم خون دے کر لو بڑھائیں گے
چراغِ آخرِشب صبح تک بے نور نہ ہوگا

وہ جس محفل میں ہو راحل ترا، اور اس کی غزلیں ہوں
کوئی بدذوق ہی ہوگا جو واں مسحور نہ ہوگا!

............
 
آخری تدوین:

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
عزیزان من آداب،
ایک پرانی غزل آپ سب کی بصارتوں کی نذر ... گر قبول افتد زہے عزو شرف...

(باوجود نہ دو حرفی در ردیف🙏)

................................................................
زبانیں کاٹ بھی دو گے تو حق محصور نہ ہوگا
یہ دستور زباں بندی تو اب منظور نہ ہوگا

جھکاؤ گے نہ جب تک سر یونہی مقہور ٹھہرو گے
کہ آسانی سے غداری کا تمغہ دور نہ ہوگا!

وہ جو ڈالی سے ٹوٹے پھول تک کا غم مناتا تھا
ترے مٹنے پہ کیونکر وہ بھلا رنجور نہ ہوگا؟

ہوائیں جانی پہچانی سی خوشبو لا رہی ہیں اب
زہے قسمت نشاں منزل کا اب کچھ دور نہ ہوگا.

ترے پہلو میں رہ کر بھی نہ تیرا ساتھ مل پایا!
مرے جیسا دہر میں کوئی بھی مہجور نہ ہوگا

یہ شوقِ انقلاب اس کو مبارک ہو، وہی پالے
کبھی جو بھوک کے ہاتھوں ہوا مجبور نہ ہوگا

ضرورت گر پڑی، ہم خون دے کر لو بڑھائیں گے
چراغِ آخرِشب صبح تک بے نور نہ ہوگا

وہ جس محفل میں ہو راحل ترا، اور اس کی غزلیں ہوں
کوئی بدذوق ہی ہوگا جو واں مسحور نہ ہوگا!

............
واہ! بہت خوب ، راحل! اچھے اشعار ہیں ۔
پانچویں شعر کو پھر دیکھ لیجیے گا ۔ "دہر" کا تلفظ بروزن فاع ہے ۔

(باوجود نہ دو حرفی در ردیف🙏)
فارسی میں معافی مانگنے کی کوشش سے کیا معافی آسانی سے مل جاتی ہے؟!:unsure::unsure:

:D:D:D
 

ارشد رشید

محفلین
زبانیں کاٹ بھی دو گے تو حق محصور نہ ہوگا
یہ دستور زباں بندی تو اب منظور نہ ہوگا

جھکاؤ گے نہ جب تک سر یونہی مقہور ٹھہرو گے
کہ آسانی سے غداری کا تمغہ دور نہ ہوگا!

وہ جو ڈالی سے ٹوٹے پھول تک کا غم مناتا تھا
ترے مٹنے پہ کیونکر وہ بھلا رنجور نہ ہوگا؟

ہوائیں جانی پہچانی سی خوشبو لا رہی ہیں اب
زہے قسمت نشاں منزل کا اب کچھ دور نہ ہوگا.

ترے پہلو میں رہ کر بھی نہ تیرا ساتھ مل پایا!
مرے جیسا دہر میں کوئی بھی مہجور نہ ہوگا

یہ شوقِ انقلاب اس کو مبارک ہو، وہی پالے
کبھی جو بھوک کے ہاتھوں ہوا مجبور نہ ہوگا

ضرورت گر پڑی، ہم خون دے کر لو بڑھائیں گے
چراغِ آخرِشب صبح تک بے نور نہ ہوگا

وہ جس محفل میں ہو راحل ترا، اور اس کی غزلیں ہوں
کوئی بدذوق ہی ہوگا جو واں مسحور نہ ہوگا!
جناب غزل اچھی ہے اور مزید بھی اچھی ہو سکتی ہے -
کچھ باتیں مجھے سمجھ نہیں آئیں - اگر جسارت نہ سمجھیں تو پوچھ لیتا ہوں؟

سب سے پہلے تو آپ یہ بتائیں کہ کیا آپ بھی اس بات کے قائل ہیں کے لفظ "نہ" کو سبب خفیف یعنی دو حرفی باندھا جس سکتا ہے ؟ آپ کی ردیف میں "نہ ہوگا" کا نہ دو حرفی بندھ رہا ہے - میں نے اساتذہ کے ہاں ایسا کبھی نہیں دیکھا-

زبانیں کاٹ بھی دو گے تو حق محصور نہ ہوگا
یہ دستور زباں بندی تو اب منظور نہ ہوگا
== زبانیں کاٹنے کا حق کے محصور ہونے سے کیا براہ راست تعلق ہے - یہاں تو کچھ ایسا ہونا چاہیئے تھا جو کاٹنے کے عمل سے متعلق ہو جیسے زبانیں کاٹنے سے حق گونگا نہیں ہوگا وغیرہ کے قسم کی کوئی چیز - اور "تو اب منظور نہ ہوگا" کا کیا مطلب ہوا - کیا آپ کہہ رہے ہیں پہلے تو منظور تھا اب نہیں ہوگا؟-

جھکاؤ گے نہ جب تک سر یونہی مقہور ٹھہرو گے
کہ آسانی سے غداری کا تمغہ دور نہ ہوگا!
== جناب مقہور کا مطلب ہے جس پر قہر کیا گیا - تو کوئی شخص مقہور ہوتا ہے یا نہیں ہوتا - اسے مقہہور ٹھہرایا نہیں جاتا - مقہور ہونا الزام نہیں ہے کہ ملزم ٹھہرایا بھی جا سکتا ہے اور نہیں بھی -
اسی طرح تمضہ کوئئ الزام نہیں ہے کی اسے دور کیا جا سکے - غداری کا تمضہ یا تو اتارا جاتا سکتا ہے یا پھینکا جا سکتا ہے اسے دور نہیں کیا جا سکتا یہ غلط اصطلاح ہے

وہ جو ڈالی سے ٹوٹے پھول تک کا غم مناتا تھا
ترے مٹنے پہ کیونکر وہ بھلا رنجور نہ ہوگا؟
== جناب بھلا کا مطلب ہی کیونکر ہوتا ہے - یہاں بھلا اور کیونکر میں سے ایک اضافی ہے -

ہوائیں جانی پہچانی سی خوشبو لا رہی ہیں اب
زہے قسمت نشاں منزل کا اب کچھ دور نہ ہوگا۔
== زہے قسمت تو جب کہتے ہیں جب کوئئ چیز مل جائے یا کنفرم ہوجاے- آپ تو ایک
امکان کی بات کر رہے ہیں - اس کے ساتھ زہے قسمت نہیں آئیگا یا کم از کم اس طرح نہیں آئیگا -

ترے پہلو میں رہ کر بھی نہ تیرا ساتھ مل پایا!
مرے جیسا دہر میں کوئی بھی مہجور نہ ہوگا
== یہاں تو ظہیر صاحب نے بتایا ہے کہ دہر غلط باندھا گیا ہے

یہ شوقِ انقلاب اس کو مبارک ہو، وہی پالے
کبھی جو بھوک کے ہاتھوں ہوا مجبور نہ ہوگا
== اس شعر میں بس ایک کمی ہے کہ مرکب افعال کو توڑ کر لکھنا غیر فصیح ہوتا ہے -


ضرورت گر پڑی، ہم خون دے کر لو بڑھائیں گے
چراغِ آخرِشب صبح تک بے نور نہ ہوگا
== اچھا ہے
وہ جس محفل میں ہو راحل ترا، اور اس کی غزلیں ہوں
کوئی بدذوق ہی ہوگا جو واں مسحور نہ ہوگا!
== اچھا ہے -
 
واہ! بہت خوب ، راحل! اچھے اشعار ہیں ۔
پانچویں شعر کو پھر دیکھ لیجیے گا ۔ "دہر" کا تلفظ بروزن فاع ہے ۔
بہت شکریہ ظہیر بھائی، جزاک اللہ خیر.
دہر والا شعر لکھنے میں غلطی ہوگئی ... یہ مصرع اصل میں یوں تھا
مرے جیسا کوئی بھی دہر میں مہجور نہ ہوگا ...
توجہ دلانے کے لیے شکرگزار ہوں.
 
جناب غزل اچھی ہے اور مزید بھی اچھی ہو سکتی ہے -
کچھ باتیں مجھے سمجھ نہیں آئیں - اگر جسارت نہ سمجھیں تو پوچھ لیتا ہوں؟

سب سے پہلے تو آپ یہ بتائیں کہ کیا آپ بھی اس بات کے قائل ہیں کے لفظ "نہ" کو سبب خفیف یعنی دو حرفی باندھا جس سکتا ہے ؟ آپ کی ردیف میں "نہ ہوگا" کا نہ دو حرفی بندھ رہا ہے - میں نے اساتذہ کے ہاں ایسا کبھی نہیں دیکھا-

زبانیں کاٹ بھی دو گے تو حق محصور نہ ہوگا
یہ دستور زباں بندی تو اب منظور نہ ہوگا
== زبانیں کاٹنے کا حق کے محصور ہونے سے کیا براہ راست تعلق ہے - یہاں تو کچھ ایسا ہونا چاہیئے تھا جو کاٹنے کے عمل سے متعلق ہو جیسے زبانیں کاٹنے سے حق گونگا نہیں ہوگا وغیرہ کے قسم کی کوئی چیز - اور "تو اب منظور نہ ہوگا" کا کیا مطلب ہوا - کیا آپ کہہ رہے ہیں پہلے تو منظور تھا اب نہیں ہوگا؟-

جھکاؤ گے نہ جب تک سر یونہی مقہور ٹھہرو گے
کہ آسانی سے غداری کا تمغہ دور نہ ہوگا!
== جناب مقہور کا مطلب ہے جس پر قہر کیا گیا - تو کوئی شخص مقہور ہوتا ہے یا نہیں ہوتا - اسے مقہہور ٹھہرایا نہیں جاتا - مقہور ہونا الزام نہیں ہے کہ ملزم ٹھہرایا بھی جا سکتا ہے اور نہیں بھی -
اسی طرح تمضہ کوئئ الزام نہیں ہے کی اسے دور کیا جا سکے - غداری کا تمضہ یا تو اتارا جاتا سکتا ہے یا پھینکا جا سکتا ہے اسے دور نہیں کیا جا سکتا یہ غلط اصطلاح ہے

وہ جو ڈالی سے ٹوٹے پھول تک کا غم مناتا تھا
ترے مٹنے پہ کیونکر وہ بھلا رنجور نہ ہوگا؟
== جناب بھلا کا مطلب ہی کیونکر ہوتا ہے - یہاں بھلا اور کیونکر میں سے ایک اضافی ہے -

ہوائیں جانی پہچانی سی خوشبو لا رہی ہیں اب
زہے قسمت نشاں منزل کا اب کچھ دور نہ ہوگا۔
== زہے قسمت تو جب کہتے ہیں جب کوئئ چیز مل جائے یا کنفرم ہوجاے- آپ تو ایک
امکان کی بات کر رہے ہیں - اس کے ساتھ زہے قسمت نہیں آئیگا یا کم از کم اس طرح نہیں آئیگا -

ترے پہلو میں رہ کر بھی نہ تیرا ساتھ مل پایا!
مرے جیسا دہر میں کوئی بھی مہجور نہ ہوگا
== یہاں تو ظہیر صاحب نے بتایا ہے کہ دہر غلط باندھا گیا ہے

یہ شوقِ انقلاب اس کو مبارک ہو، وہی پالے
کبھی جو بھوک کے ہاتھوں ہوا مجبور نہ ہوگا
== اس شعر میں بس ایک کمی ہے کہ مرکب افعال کو توڑ کر لکھنا غیر فصیح ہوتا ہے -


ضرورت گر پڑی، ہم خون دے کر لو بڑھائیں گے
چراغِ آخرِشب صبح تک بے نور نہ ہوگا
== اچھا ہے
وہ جس محفل میں ہو راحل ترا، اور اس کی غزلیں ہوں
کوئی بدذوق ہی ہوگا جو واں مسحور نہ ہوگا!
== اچھا ہے -
مکرمی ارشد صاحب آداب.
آپ کی توجہ اور اظہار پسندیدگی کے لیے ممنون و متشکر ہوں.
نہ کو دو حرفی باندھنے کو میں بھی بدعت سمجھتا ہوں، کبھی کبھار یہ بدعت سرزد ہو جاتی ہے ... شعر اگر مناسب محسوس ہو رکھ لیتا ہوں، شعوری کوشش یہی ہوتی ہے کہ اس سے بچا جائے.
آپ نے جو دیگر نکات اٹھائے ہیں،وہ دلچسپ ہیں. مستقبل میں کوشش رہے گی کہ جہا‍ں تک ممکن ہو ان کی رعایت رکھوں.

دعا گو،
راحل.
 
عزیزان من آداب،
ایک پرانی غزل آپ سب کی بصارتوں کی نذر ... گر قبول افتد زہے عزو شرف...

(باوجود نہ دو حرفی در ردیف🙏)

................................................................
زبانیں کاٹ بھی دو گے تو حق محصور نہ ہوگا
یہ دستور زباں بندی تو اب منظور نہ ہوگا

جھکاؤ گے نہ جب تک سر یونہی مقہور ٹھہرو گے
کہ آسانی سے غداری کا تمغہ دور نہ ہوگا!

وہ جو ڈالی سے ٹوٹے پھول تک کا غم مناتا تھا
ترے مٹنے پہ کیونکر وہ بھلا رنجور نہ ہوگا؟

ہوائیں جانی پہچانی سی خوشبو لا رہی ہیں اب
زہے قسمت نشاں منزل کا اب کچھ دور نہ ہوگا.

ترے پہلو میں رہ کر بھی نہ تیرا ساتھ مل پایا!
مرے جیسا کوئی بھی دہر میں مہجور نہ ہوگا

یہ شوقِ انقلاب اس کو مبارک ہو، وہی پالے
کبھی جو بھوک کے ہاتھوں ہوا مجبور نہ ہوگا

ضرورت گر پڑی، ہم خون دے کر لو بڑھائیں گے
چراغِ آخرِشب صبح تک بے نور نہ ہوگا

وہ جس محفل میں ہو راحل ترا، اور اس کی غزلیں ہوں
کوئی بدذوق ہی ہوگا جو واں مسحور نہ ہوگا!

............
راحل صاحب ، آپ اتنے دنوں بعد غزل سرا ہوئے ، اور اِس كے با وجود پرانی غزل میں ٹرخا گئے . :) مذاق بر طرف ، غزل عمومی طور پر اچھی ہے . داد حاضر ہے . کہیں کہیں بہتری کی گنجائش ہے ، لیکن وہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں . میں صرف لفظ ’نہ‘ پر کچھ عرض کروں گا . یہ تو آپ خود بھی جانتے ہیں کہ ’نہ‘ کو اس طرح دو حرفی باندھنا فصیح نہیں جیسا آپ نے باندھا ہے . اِس لفظ کی جدید شاعری میں ایک شکل استعمال ہو رہی ہے جسے ’نئیں‘ لکھتے ہیں اور بوزن ’نیں‘ باندھتے ہیں ، مثلاً :

اے سادہ لوح تو یاں کامیاب نئیں ہوگا
ترے وجود میں تھوڑی منافقت بھی نہیں (ابراہیم نوری)

اگر کوئی اور چارہ نہ ہو اور لفظ ’نہ‘ کی دو حرفی صورت استعمال کرنی پڑ جائے تو ’نئیں‘ پر غور کیا جا سکتا ہے . لیکن یہ لفظ مصرعے كے دیگر الفاظ میں کھپنا چاہئے . اگر یہ لفظ بہت فصیح الفاظ كے ساتھ استعمال کیا گیا تو مخمل میں ٹاٹ كے پَیوند کی طرح لگے گا . :)
 
وہ جو ڈالی سے ٹوٹے پھول تک کا غم مناتا تھا
ترے مٹنے پہ کیونکر وہ بھلا رنجور نہ ہوگا؟
== جناب بھلا کا مطلب ہی کیونکر ہوتا ہے - یہاں بھلا اور کیونکر میں سے ایک اضافی ہے -
ارشد صاحب ، مداخلت كے لیے معذرت . بصد احترام عرض ہے کہ آپ سے یہاں تسامح سرزد ہو گیا ہے . ’بھلا‘ کلمۂ تنبیہ و تاکید ہے ، اور ’کیونکر‘ كے ساتھ اِس كے استعمال میں کوئی مضایقہ نہیں . چند مثالیں دیکھیے :

وصل ہوتا نہیں بھلا کیونکر
اپنی ہستی سے تو گزر دیکھو ( میر حسن )

کٹتا بھلا کیونکر شبِ فرقت کا اندھیرا
پلکوں پہ چراغاں جو سَرِ شام نہ ہوتا ( جگناتھ آزاد )

وہ دریا موتیوں کا ہَم سے روٹھا ہو تو پِھر یارو
بھلا کیونکر نہ برسا دے ہماری چشمِ تر موتی ( نظیر اکبرآبادی )
 

ارشد رشید

محفلین
ارشد صاحب ، مداخلت كے لیے معذرت . بصد احترام عرض ہے کہ آپ سے یہاں تسامح سرزد ہو گیا ہے . ’بھلا‘ کلمۂ تنبیہ و تاکید ہے ، اور ’کیونکر‘ كے ساتھ اِس كے استعمال میں کوئی مضایقہ نہیں . چند مثالیں دیکھیے :

وصل ہوتا نہیں بھلا کیونکر
اپنی ہستی سے تو گزر دیکھو ( میر حسن )

کٹتا بھلا کیونکر شبِ فرقت کا اندھیرا
پلکوں پہ چراغاں جو سَرِ شام نہ ہوتا ( جگناتھ آزاد )

وہ دریا موتیوں کا ہَم سے روٹھا ہو تو پِھر یارو
بھلا کیونکر نہ برسا دے ہماری چشمِ تر موتی ( نظیر اکبرآبادی )
جناب آپ بہت اچھی مثالیں لائے ہیں - دل خوش ہوا - مگر ایک بات پہ غور کیجئے-
آپ کی ہر مثال میں ہے " بھلا کیونکر " جبکہ مذکورہ شعر میں ہے
ترے مٹنے پہ کیونکر وہ بھلا رنجور نہ ہوگا؟

تو جب آپ نے کیونکر لکھدیا اب بھلا نہیں آئیگا - اس لیئے کہ اب دونوں کا ایک ہی مطلب ہو گیا - جبکہ بھلا کیونکر جو آپ نے مثالیں پیش کی ہیں وہ ایک مختلف ترکیب ہے اور صحیح ہے -
لیکن جناب میری اردو دانی اتنا ہی کہتی ہے ہو سکتا ہے میں غلط ہوں آپ کیونکر بھلا کی بھی مثالیں دے کر مجھے قائل کر لیجیئے - شکریہ سر -
 

محمد وارث

لائبریرین
. اِس لفظ کی جدید شاعری میں ایک شکل استعمال ہو رہی ہے جسے ’نئیں‘ لکھتے ہیں اور بوزن ’نیں‘ باندھتے ہیں ، مثلاً :
اے سادہ لوح تو یاں کامیاب نئیں ہوگا
ترے وجود میں تھوڑی منافقت بھی نہیں (ابراہیم نوری)
اگر کوئی اور چارہ نہ ہو اور لفظ ’نہ‘ کی دو حرفی صورت استعمال کرنی پڑ جائے تو ’نئیں‘ پر غور کیا جا سکتا ہے . لیکن یہ لفظ مصرعے كے دیگر الفاظ میں کھپنا چاہئے . اگر یہ لفظ بہت فصیح الفاظ كے ساتھ استعمال کیا گیا تو مخمل میں ٹاٹ كے پَیوند کی طرح لگے گا . :)
علوی صاحب دخل در معقولات کے لیے معذرت، نئیں آج کل خوب پھل پھول رہا ہے لیکن میں اس شعر میں "اے" کو یک حرفی باندھنے پر کھٹکا ہوں۔ کیا اس کی کوئی مثال کسی استاد سے مل سکتی ہے۔ اور یہ بات پہلے واضح کر دوں کہ یہ فقط اپنی معلومات کے لیے پوچھ رہا ہوں کیونکہ اس لفظ کے متعلق مجھے ہمیشہ تردد ہی رہتا ہے۔
 
راحل صاحب ، آپ اتنے دنوں بعد غزل سرا ہوئے ، اور اِس كے با وجود پرانی غزل میں ٹرخا گئے . :) مذاق بر طرف ، غزل عمومی طور پر اچھی ہے . داد حاضر ہے . کہیں کہیں بہتری کی گنجائش ہے ، لیکن وہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں . میں صرف لفظ ’نہ‘ پر کچھ عرض کروں گا . یہ تو آپ خود بھی جانتے ہیں کہ ’نہ‘ کو اس طرح دو حرفی باندھنا فصیح نہیں جیسا آپ نے باندھا ہے . اِس لفظ کی جدید شاعری میں ایک شکل استعمال ہو رہی ہے جسے ’نئیں‘ لکھتے ہیں اور بوزن ’نیں‘ باندھتے ہیں ، مثلاً :

اے سادہ لوح تو یاں کامیاب نئیں ہوگا
ترے وجود میں تھوڑی منافقت بھی نہیں (ابراہیم نوری)

اگر کوئی اور چارہ نہ ہو اور لفظ ’نہ‘ کی دو حرفی صورت استعمال کرنی پڑ جائے تو ’نئیں‘ پر غور کیا جا سکتا ہے . لیکن یہ لفظ مصرعے كے دیگر الفاظ میں کھپنا چاہئے . اگر یہ لفظ بہت فصیح الفاظ كے ساتھ استعمال کیا گیا تو مخمل میں ٹاٹ كے پَیوند کی طرح لگے گا . :)
بہت شکریہ عرفان بھائی ... کیا کروں، آج کل حالات کچھ ایسے ہیں کہ آورد تک نہیں ہوتی، آمد کا تو ذکر ہی کیا :)
 

محمد وارث

لائبریرین
بھائی جون کی کرپا سے .... جون ایلیا کی چائنا کاپیز کی بھرمار جو ہے مارکٹ میں :)
ویسے یہ بات بھی ہے کہ نئیں پنجابی میں "نہیں"کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے نہ کہ "نہ" کے معنوں میں۔ نہ کے لیے پنجابی میں "ناں" ہے جو کہ اچھا بھلا دو حرفی ہے۔ :)
 

محمداحمد

لائبریرین
وہ جو ڈالی سے ٹوٹے پھول تک کا غم مناتا تھا
ترے مٹنے پہ کیونکر وہ بھلا رنجور نہ ہوگا؟

ترے پہلو میں رہ کر بھی نہ تیرا ساتھ مل پایا!
مرے جیسا کوئی بھی دہر میں مہجور نہ ہوگا
بہت خوب راحل بھائی!

اچھی غزل ہے! بہت سی داد قبول فرمائیے۔
 

ارشد رشید

محفلین
کیوں کر بھلا لگے نہ وہ دل دار دور سے
دونی بہار دیوے ہے گلزار دور سے

میر حسن
علی وقار صاحب - بہت خوب - آپ ایک کیونکر بھلا نکال لائے :)
اب راحل صاحب یہ آپ پر ہے کہ آپ اسے استعمال کرتے ہیں یا نہیں -
میرے نزدیک تو یہ اب بھی صحیح نہیں ہے - یہ مثال بہت پرانی ہے اور ایسی مثالیں بھی خال خال ہی ملتی ہیں -
اور کیونکر اور بھلا کے بیچ میں وہ اور بھی کَھلتا ہے -
شائد اب مسئلہ اپنی اپنی پسند ناپسند کا ہے - میں کیونکر بھلا کو یہی کہوں گا کہ معروف نہیں ہے اس سے پرہیز بہتر ہے مگر شاعر کی اب اپنی مرضی ہے -
شکریہ-
 

علی وقار

محفلین
آپ ایک کیونکر بھلا نکال لائے

یہ مثال بہت پرانی ہے اور ایسی مثالیں بھی خال خال ہی ملتی ہیں -
یہاں سرخاب کا پر جس کسی کو بھی لگے گا وہ
کسی ہم جنس سے کیونکر بھلا آنکھیں ملائے گا

ماجد صدیقی
 

ارشد رشید

محفلین
یہ دیکھیئے کی غالب نے بھی شہزادہ جواں بخت کے سہرے میں بھلا کیونکر ہی استعمال کیا تھا -

جب کہ اپنے میں سماویں نہ خوشی کے مارے
گوندھے پُھولوں کا بھلا پھر کوئی کیونکر سِہرا
 
Top