غزل: رات دل نشیں رہی

غزل

رات دل نشیں رہی
صبح در کمیں رہی

وہ کبھی کہاں رہی
اور کبھی کہیں رہی

میں بھی ہم نہیں رہا
تو بھی تم نہیں رہی

دل سے سب اتر گئے
ایک مہ جبیں رہی

پھول چن لیا گیا
شاخ عمبریں رہی

غم بھی سوگ میں رہا
آس بھی حزیں رہی

جان رہ گئی مگر
جانِ جاں نہیں رہی

ناز اٹھا لیے گئے
خوئے نازنیں رہی

خاک جائداد تھی
صرف اک زمیں رہی

ایک گھنٹہ ہو گیا
اور گھڑی وہیں رہی

میں خموش ہو گیا
آبرو دریں رہی

میں بھی لپٹا ہی رہا
وہ بھی آتشیں رہی

ہو گئے حجاز شل
چست وہ حسیں رہی

مہدی نقوی حجاز
 

ابن رضا

لائبریرین
خوب است.

وقت نے کیا کیا حسیں ستم
تم رھے نہ تم ھم رھے نہ ھم


عمبریں یا عنبریں؟ ٹائپو هے مهدی بھائی شاید
 
آخری تدوین:
Top