غزل---دل ہےتو دھر مرے کلام پہ کان

منذر رضا نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 26, 2020

  1. منذر رضا

    منذر رضا محفلین

    مراسلے:
    364
    جھنڈا:
    Pakistan
    السلام علیکم!
    اہلِ محفل کی خدمت میں ایک غزل پیش کر رہا ہوں، ملاحظہ ہو:

    ایسے بن کو چمن نہ سمجھا جائے
    اس زماں کا چلن نہ سمجھا جائے
    دل ہے تو دھر مرے کلام پہ کان
    عقل سے یہ سخن نہ سمجھا جائے
    وہی الفت، وفا، نبھانے کی بات
    دل کا طرزِ کہن نہ سمجھا جائے
    تیری پلکیں ہیں، کوئی تیر نہیں
    پھر بھی دل میں چبھن، نہ سمجھا جائے!
    عشق ہے یہ، بتوں کا عشق!، اسے
    عام سی اک لگن نہ سمجھا جائے
    منذر اس قدر بیدلی ! توبہ!
    رازِ رنج و محن نہ سمجھا جائے!
     
    آخری تدوین: ‏فروری 26, 2020
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    482
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    ماشاء اللہ، حسبِ سابق اچھی غزل ہے۔
    مجھے بس مطلع دولخت محسوس ہوا، اور پلکوں کی نرمی پر بھی متردد ہوں، پلکیں تو عموماً نازکی سے موصوف ہوتی ہیں؟ :)

    زبردست!

    دعاگو،
    راحلؔ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. منذر رضا

    منذر رضا محفلین

    مراسلے:
    364
    جھنڈا:
    Pakistan
    پلکوں والا مصرع تبدیل کر دیا راحل صاحب، شکریہ !
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. Wajih Bukhari

    Wajih Bukhari محفلین

    مراسلے:
    118
    اچھی غزل ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,279
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اچھی غزل ہے پسند آئی۔ لیکن
    منذر اس قدر بیدلی ! توبہ!
    رازِ رنج و محن نہ سمجھا جائے!
    یہاں قدر کا تلفظ غلط قدر کا لگ گیا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. منذر رضا

    منذر رضا محفلین

    مراسلے:
    364
    جھنڈا:
    Pakistan
    الف عین
    حضرت میری نظر میں تو مبارک شاہ آبرو کا یہ شعر تھا:
    افسوس اوں کی قدر کوں تم پوچھتے نہیں
    پہچان جانتے نہیں تم دل کے دوستدار
     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,279
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یہاں بھی قدر کے معنی عزت و تکریم کے ہیں جو درست ہے، لیکن کس قدر، جس قدر وغیرہ میں مقدار کے معنی میں ہے، جو مفتوح دال کے ساتھ ہوتا ہے۔
    غالب
    شرحِ اسبابِ گرفتاریِ خاطر مت پوچھ
    اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
    اور قدر بمعنی تکریم، غالب :
    دلِ حسرت زدہ تھا مائدۂ لذتِ درد
    کام یاروں کا بہ قدرِ لب و دنداں نکلا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  8. منذر رضا

    منذر رضا محفلین

    مراسلے:
    364
    جھنڈا:
    Pakistan
    صحیح حضور، رہنمائی کا شکریہ الف عین صاحب
     
  9. Wajih Bukhari

    Wajih Bukhari محفلین

    مراسلے:
    118
    شکریہ۔ یہ فرمائیے کہ کیا قدَر بمعنی مقدار ایک غلط العام تلفظ ہے اور اصل تلفظ قدر (دال ساکن) تھا؟
     
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,279
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    قدر، دال ساکن، بمعنی مقدار کی مثال دیں۔ اگر ' اس قدَر'، دال مفتوح، کو دال ساکن بولا جاتا یو تو تمہاری بات مانتا ہوں، ورنہ میں نے تو کبھی دال ساکن نہیں سنا اس یا کس کے ساتھ!
     
  11. Wajih Bukhari

    Wajih Bukhari محفلین

    مراسلے:
    118
    میں نے لغت میں ایسا لکھا دیکھا کہ قدر کے دونوں تلفظات کے تحت اس کے معانی میں تکریم اور مقدار درج تھے۔ آپ اس لغت میں ملاحظہ فرمائیے۔
    Urdu Lughat
     

اس صفحے کی تشہیر