غزل : حاصلِ کُن ہوں بقا کے سلسلے میں قید ہوں ۔ فاتح الدین بشیرؔ

فاتح

لائبریرین
واہ واہ فاتح بھائی ! زبردست!! کیا بات ہے اس غزل کی!
جسمِ خاکی حدّتِ جذبات سے جلنے لگا
آگ ہے میری سرشت اور کوئلے میں قید ہوں
کیا خوبصورت کہا ہے !! کیا سلیقہ ہے ! واہ!! شاد و آباد رہیئے !!
بہت شکریہ ظہیر بھائی۔ محبت ہے آپ کی۔
دراصل یہ غزل ایک فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لیے لکھی تھی۔ وہاں ہمارے دو بہت اچھے دوست شعرا بھی غزل لکھ رہے تھے اور ہم ساتھ ساتھ گفتگو بھی کر رہے تھے تو "کوئلے" کا قافیہ زیر بحث آیا اور اس پر ان دونوں دوست شعرا کی متفقہ رائے تھی کہ "کوئلے میں قید ہوں" کو باندھا تو جا سکتا ہے لیکن اس پر کوئی اچھا شعر نہیں نکل سکتا اور میرا خیال تھا کہ یہ صرف باندھنے پر موقوف ہے کہ کیسے باندھا جاتا ہے۔ اور یوں یہ شعر ہوا۔
 

اکمل زیدی

محفلین
میں کہ یزداں کے لگائے قہقہے میں قید ہوں
فاتح بھائی غزل تو بلاشبہ لاجواب ہے ....درخواست ہے کے quoted مصرع کی تشریح کردیں اور دوسرے اپنی کوئی تازہ بہ تازہ غزل ارسال کریں ...کافی غزلیں دیکھیں مگر اتنے عمدہ تبصرے تھے کے صرف پڑھ کے رہ گیا ....
 

فاتح

لائبریرین
فاتح بھائی غزل تو بلاشبہ لاجواب ہے ....درخواست ہے کے quoted مصرع کی تشریح کردیں اور دوسرے اپنی کوئی تازہ بہ تازہ غزل ارسال کریں ...کافی غزلیں دیکھیں مگر اتنے عمدہ تبصرے تھے کے صرف پڑھ کے رہ گیا ....
بہت شکریہ اکمل بھائی۔ محبت ہے آپ کی۔ تازہ غزل کی بابت تو ابھی ظہیر بھائی کو جواب لکھا تھا کہ
یہ ان پرانی غزلوں میں سے ہے جو محفل پر ارسال ہونے سے رہ گئی ہیں ورنہ قلم کی روشنائی اگر نہیں بھی سوکھی تو اس دور سے ضرور گزر رہا ہوں جسے شعرا قلمی بانجھ پن کہتے ہیں اور یہ دور کتنا طویل یا مختصر ہو گا کسی کو نہیں معلوم۔ آپ خود ایک با کمال شاعر ہیں اور ایسے عہد سے ضرور گزرتے ہوں گے تو آپ کے لیے سمجھنا آسان ہے۔
رہی بات تشریح کی تو یہ کام قاری اور نقاد کا ہے کہ کس جانب لے کر جاتے ہیں۔ شاعر اپنے شعر کا حیطہ اتنا وسیع رکھتا ہے مختلف سوچ کے حامل افراد اپنی اپنی سوچ کے مطابق اس کا لطف اٹھا سکیں۔
 

اکمل زیدی

محفلین
بہت شکریہ اکمل بھائی۔ محبت ہے آپ کی۔ تازہ غزل کی بابت تو ابھی ظہیر بھائی کو جواب لکھا تھا کہ

رہی بات تشریح کی تو یہ کام قاری اور نقاد کا ہے کہ کس جانب لے کر جاتے ہیں۔ شاعر اپنے شعر کا حیطہ اتنا وسیع رکھتا ہے مختلف سوچ کے حامل افراد اپنی اپنی سوچ کے مطابق اس کا لطف اٹھا سکیں۔
جی سمجھ آگئی ...آپ کی بات ...مطلب آپ کی نہ لکھنے کی وجہ کو اگر آج کل کی اصطلاح میں بیان کیا جائے تو آپ پر بھی شاہد آفریدی والی کیفیت ہے .....:D
 

جاسمن

لائبریرین
یہ شاید کسی لے کا نام ہے۔۔۔۔۔اور شاید ہندی لفظ ہے۔

یہ شاید برائی یا الیوین۔۔۔۔۔۔
ویسے شاعر سے کسی شعر کا مطلب دریافت کرنا یا اسے" بطور لغت لینا" بہت غلط بات ہے۔ لیکن۔۔۔۔شعر حسین نظر آتا ہے اگر فاتح کا ہو،حسین ترین نظر آتا ہے اگر سمجھ بھی آ جائے۔۔۔:D
 

فاتح

لائبریرین
یہ شاید کسی لے کا نام ہے۔۔۔۔۔اور شاید ہندی لفظ ہے۔


یہ شاید برائی یا الیوین۔۔۔۔۔۔
ویسے شاعر سے کسی شعر کا مطلب دریافت کرنا یا اسے" بطور لغت لینا" بہت غلط بات ہے۔ لیکن۔۔۔۔شعر حسین نظر آتا ہے اگر فاتح کا ہو،حسین ترین نظر آتا ہے اگر سمجھ بھی آ جائے۔۔۔:D
بلمپت: کسی راگ کو دھیمی لے میں لمبا لمبا کھینچ کے گانا۔
اہرمن: زرتشتیوں کے نزدیک شر کا خالق، بدی کادیوتا، شیطان، ابلیس، یزداں کے بالمقابل
 

فاتح

لائبریرین
اور اس طرح اشاروں کنایوں میں بھی بات کرنا غلط ہے ...:D. ہم نے کون سا کسی کنیا سے اس کی عمر دریافت کی ......تھی ...:unsure:
اشاروں کنایوں میں تو کئی مقامات پر خدا بھی بات کر رہا ہوتا ہے۔ وہاں آپ کو اعتراض نہیں ہوتا بلکہ اسے خوبی کے طور پر لیتے ہیں۔ یہاں آپ اشاروں کنایوں میں بات کرنے پر غلط کا ٹھپا لگا رہے ہیں۔
 

جاسمن

لائبریرین
ہجر کی گھڑیاں ہوئی ہیں سب زمانوں پر محیط
وقت رک جائے جہاں اس ثانیے میں قید ہوں
حقیقت ہے۔۔۔بعض اوقات ہم واقعی اک ثانیے میں قید رہتے ہیں۔ آہ!

کَل نِبھا لوں گا تعلق روح کا میں، آج تو
عارضی سے عارضوں کے عارضے میں قید ہوں
مزہ آ گیا۔ بہت خوبصورتی سے یہ لفظ الگ الگ معنوں میں استعمال کیا ہے۔ کبھی کبھی کسی کلاسک شاعر کا کوئی شعر ایسا پڑھتے تھے۔ اب عرصے بعد اس طرح کا شعر پڑھنے،محسوس کرنے کو ملا ہے۔ بہت ہی خوب!عارضہ! ہا! لطف آ گیا۔۔۔واہ واہ!

چاکِ ہَست و بُود کے کب دائرے میں قید ہوں
میں ازَل سے اک نظر کے زاویے میں قید ہوں
بہت ہی محسوس کیا جانے والا شعر۔۔۔۔بہت خوب!
حاصلِ کُن ہوں بقا کے سلسلے میں قید ہوں
میں کہ یزداں کے لگائے قہقہے میں قید ہوں
دوسرے مصرع کے مضمون سے ملتا جلتا کسی کلاسک شاعر کا بھی شعر ہے شاید۔ بہت خوب!
 

جاسمن

لائبریرین

اکمل زیدی

محفلین
اشاروں کنایوں میں تو کئی مقامات پر خدا بھی بات کر رہا ہوتا ہے۔ وہاں آپ کو اعتراض نہیں ہوتا بلکہ اسے خوبی کے طور پر لیتے ہیں۔ یہاں آپ اشاروں کنایوں میں بات کرنے پر غلط کا ٹھپا لگا رہے ہیں۔
ارے فاتح بھائی .... محترمہ جاسمن صاحبہ کو آپ سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں جانتا میں .... ایسے ہی مزاقاً لکھا تھا ....
 

جاسمن

لائبریرین
جاسمن بہن، یہ آپ کی محبت ہے کہ ان مدفون غزلیات کو نکال کر لے آتی ہیں ورنہ اب تو یہ عالم ہے کہ بعض اوقات اپنا شعر بھی سنوں تو یہ پوچھتا ہوں کہ "کچھ سنا سنا سا لگ رہا ہے، کس کا شعر ہے؟"
اللہ آپ کو آسانیاں عطا کرے۔ آمین!
کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے فاتح بھائی کہ کسی نثر نگار کی صرف ایک تحریر سے آپ اتنے متاثر ہوتے ہیں کہ پھر اُسے پڑھتے رہنا چاہتے ہیں۔۔۔جیسے محفل پہ نیرنگ خیال اور راحیل فاروق کی نثر نگاری مجھے بہت پسند ہے۔ اسی طرح کسی شاعر کی ایک غزل آپ کے دل میں اتر جاتی ہے اور آپ کا جی چاہتا ہے کہ اب اس شاعر کی کا کوئی "فن پارہ" آپ کی آنکھوں سے اوجھل نہ رہ جائے۔میں نے آپ کی ایک غزل پڑھی تھی کافی عرصہ پہلے ۔۔۔یہ اُن دنوں کی بات ہے جب آپ کے فن مجھے صرف"اکھاڑے" میں نظر آتے تھے:D بڑی حیران ہوئی۔۔۔ایک شخص کے اللہ پیارے نے کیا کیا روپ رکھے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے۔ یہ شخص اتنی خوبصورت شاعری کرتا ہے۔۔میں اس کی شاعری ضرور پڑھوں گی۔۔۔اور بھی خوبصورت اشعار ملیں گے۔۔۔(بس یہی لفظ مل رہا ہے خوبصورت)
تب سے میرا ارادہ تھا جو کبھی میری اپنی مصروفیات کی نظر ہو جاتا اور کبھی محفل گردی میں ایویں ادھر ادھر کی مٹر گشت میں:)
ایک اور وجہ بھی رہتی ہے کہ تھوڑا کلام پڑھوں ۔۔۔پہلے ایک کو تو محسوس کروں۔۔۔پھر اگلے کلام کی باری آئے۔۔کبھی جب کئی غزلیں پڑھ بیٹھتی ہوں تو پھر سے پڑھتی ہون کہ یہ کیا کر لیا۔۔۔اوں ہون ایک ایک کر کے بھلی مانس!
 
آخری تدوین:

فاتح

لائبریرین
ارے فاتح بھائی .... محترمہ جاسمن صاحبہ کو آپ سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں جانتا میں .... ایسے ہی مزاقاً لکھا تھا ....
آپ کے اس جملے سے آپ کے جاسمن کو کم یا زیادہ جاننے کا کیا تعلق ہے؟
اور اس طرح اشاروں کنایوں میں بھی بات کرنا غلط ہے ...:D. ہم نے کون سا کسی کنیا سے اس کی عمر دریافت کی ......تھی ...:unsure:
آپ نے مجھ سے ہی مصرع کی تشریح دریافت کی تھی۔ اور اس کا جواب میں نے ہی یہ دیا تھا کہ شاعر اپنے شعر میں مفہوم و معانی کا دائرہ وسیع رکھتا ہے
 

نمرہ

محفلین
ایک تازہ غزل آپ احباب کی بصارتوں کی نذر
حاصلِ کُن ہوں بقا کے سلسلے میں قید ہوں
میں کہ یزداں کے لگائے قہقہے میں قید ہوں

چاکِ ہَست و بُود کے کب دائرے میں قید ہوں
میں ازَل سے اک نظر کے زاویے میں قید ہوں

نفسِ مضموں کھُل نہ پایا کیوں کسی پر ذات کا
"بے معانی ہوں ابھی تک حاشیے میں قید ہوں"

اختیار و جبر گویا ہیں بلمپَت لَے میں راگ
سازِ استبداد کے ہر زمزمے میں قید ہوں

ہجر کی گھڑیاں ہوئی ہیں سب زمانوں پر محیط
وقت رک جائے جہاں اس ثانیے میں قید ہوں

میں خداؤں کا ہوں مسکن اور خدائی کا ثبوت
گو مثالِ اہرمَن ہوں، بت کدے میں قید ہوں

کَل نِبھا لوں گا تعلق روح کا میں، آج تو
عارضی سے عارضوں کے عارضے میں قید ہوں

جسمِ خاکی حدّتِ جذبات سے جلنے لگا
آگ ہے میری سرشت اور کوئلے میں قید ہوں

فاتح الدین بشیرؔ​
یہ غزل پڑھنے کے بعد میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اگر کبھی اردو شاعری کی کوئی کتاب پڑھی تو وہ آپ کی ہو گی☺
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
بہت شکریہ ظہیر بھائی۔ محبت ہے آپ کی۔
دراصل یہ غزل ایک فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لیے لکھی تھی۔ وہاں ہمارے دو بہت اچھے دوست شعرا بھی غزل لکھ رہے تھے اور ہم ساتھ ساتھ گفتگو بھی کر رہے تھے تو "کوئلے" کا قافیہ زیر بحث آیا اور اس پر ان دونوں دوست شعرا کی متفقہ رائے تھی کہ "کوئلے میں قید ہوں" کو باندھا تو جا سکتا ہے لیکن اس پر کوئی اچھا شعر نہیں نکل سکتا اور میرا خیال تھا کہ یہ صرف باندھنے پر موقوف ہے کہ کیسے باندھا جاتا ہے۔ اور یوں یہ شعر ہوا۔

بلاشبہ بہت سلیقے سے باندھا ہے آپ نے یہ قافیہ ! میں آپ سے متفق ہوں کہ بذاتہ لفظ شاعرانہ یا غیر شاعرانہ نہیں ہوتا بلکہ یہ اسکے استعمال پر منحصر ہے۔ اردو شاعری میں بلاوجہ ہی بہت سارے الفاظ کو بالخصوص غزل سےدیس نکالا ملا ہوا ہے ۔ حالانکہ کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ موضوعات کے ساتھ ساتھ لفظیات میں بھی کچھ تازگی پیدا کی جائے ۔ میری رائے میں اس کے لئے قافیہ کی کشادگی بہت ضروری ہے ۔
 

فاتح

لائبریرین
اللہ آپ کو آسانیاں عطا کرے۔ آمین!
کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے فاتح بھائی کہ کسی نثر نگار کی صرف ایک تحریر سے آپ اتنے متاثر ہوتے ہیں کہ پھر اُسے پڑھتے رہنا چاہتے ہیں۔۔۔جیسے محفل پہ نیرنگ خیال اور راحیل فاروق کی نثر نگاری مجھے بہت پسند ہے۔ اسی طرح کسی شاعر کی ایک غزل آپ کے دل میں اتر جاتی ہے اور آپ کا جی چاہتا ہے کہ اب اس شاعر کی کا کوئی "فن پارہ" آپ کی آنکھوں سے اوجھل نہ رہ جائے۔میں نے آپ کی ایک غزل پڑھی تھی کافی عرصہ پہلے ۔۔۔یہ اُن دنوں کی بات ہے جب آپ کے فن مجھے صرف"اکھاڑے" میں نظر آتے تھے:D بڑی حیران ہوئی۔۔۔ایک شخص کے اللہ پیارے نے کیا کیا روپ رکھے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے۔ یہ شخص اتنی خوبصورت شاعری کرتا ہے۔۔میں اس کی شاعری ضرور پڑھوں گی۔۔۔اور بھی خوبصورت اشعار ملیں گے۔۔۔(بس یہی لفظ مل رہا ہے خوبصورت)
تب سے میرا ارادہ تھا جو کبھی میری اپنی مصروفیات کی نظر ہو جاتا اور کبھی محفل گردی میں ایویں ادھر ادھر کی مٹر گشت میں:)
ایک اور وجہ بھی رہتی ہے کہ تھوڑا کلام پڑھوں ۔۔۔پہلے ایک کو تو محسوس کروں۔۔۔پھر اگلے کلام کی باری آئے۔۔کبھی جب کئی غزلیں پڑھ بیٹھتی ہوں تو پھر سے پڑھتی ہون کہ یہ کیا کر لیا۔۔۔اوں ہون ایک ایک کر کے بھلی مانس!
یہ سراسر آپ کی محبت اور ذرہ نوازی ہے جاسمن بہن۔
ہر انسان کی شخصیت کے کئی روپ ہوتے ہیں اور ہر روپ ایک الگ دنیا لیے ہوئے ہوتا ہے۔ ابن انشا کی شاعری پڑھیں تو وہ ایک مختلف انسان نظر آتا ہے اور اگر اس کی نثر پڑھیں تو لگتا ہی نہیں کہ یہ اسی شاعر ابن انشا نے لکھی ہے۔
 
Top