غزل تنہا تنہا اتنے تھے دونوں کہ تنہائی نہ پوچھ

ندیم مراد

محفلین
غزل

تنہا تنہا اتنے تھے دونوں کہ تنہائی نہ پوچھ
کون تھا اس سارے افسانے میں ہرجائی نہ پوچھ

دل ہمارا ہے سمندر اسکی گہرائی نہ پوچھ
اور اس گہرائی میں کتنی ہے تنہائی نہ پوچھ

ہم نے چاہا تھا تمہیں کہ چاہتے تھے ہم تمہیں
اتنی سی ہی تو خطا تھی ، اتنی رسوائی ، نہ پوچھ

ایک تجھ سے آشنا ہونے سے دیکھو کیا ہوا
کتنے لوگوں سے ہوئی میری شناسائی نہ پوچھ

اک مسیحا کی محبت میں بہت گھائل ہوئے
وہ تدارک کو نہ آیا کچھ مسیحائی نہ پوچھ

موت کے منظر کو کوئی دیکھتا ہے غور سے
اُس کا کہنا " تجھ سے ملنے کو نہ آ پائی " نہ پوچھ

ایک میلا ہے مرے چاروں طرف گر دیکھیئے
اک ترے نا ہونے سے کتنی ہے تنہائی نہ پوچھ

تھی خبر تجھ تک پہنچنے میں ہیں نا ہمواریاں
کیا خبر تھی اتنی ہوگی آبلہ پائی نہ پوچھ

عشق کا شعلہ جواں ہوتے ہی دل میں جل اُٹھا
مسئلہ یہ ہے کہ کس نے آگ بھڑکائی، نہ پوچھ

دل نہ کوئی ٹوٹ جائے اس لیئے خاموش ہوں
جھوٹ سے حاصل نہیں کچھ اور سچائی نہ پوچھ

جستجوئے نقص ہے شیوا مرا نقاد میں
مجھ سے میرے اپنے بارے میں بھی اچھائی نہ پوچھ

زندگی کچھ کٹ گئی کچھ کاٹ ہی لیں گے مگر
بن ترے کٹتی ہے کیسے ، روح فرسائی نہ پوچھ

کوئی مخلص دوست چارہ گر تو لاؤ ڈھونڈ کر
چاروں جانب دیکھو کتنے ہیں تماشائی نہ پوچھ

جو بھی گزری ہم نے بن پوچھے بتا ڈالا ندؔیم
اس سے اچھا کیوں نہیں کہہ پائے ہم بھائی، نہ پوچھ
ندیم مراد
 

طارق شاہ

محفلین
غزل
تنہا تنہا اتنے تھے دونوں کہ، تنہائی نہ پُوچھ
کون تھا اس سارے افسانے میں ہرجائی، نہ پُوچھ

دل ہمارا ہے سمندر، اِس کی گہرائی نہ پوچھ
اور اِس گہرائی میں کتنی ہے تنہائی نہ پوچھ

ہم نے چاہا تھا تمہیں، کہ چاہتے تھے ہم تمہیں
اتنی سی ہی تو خطا تھی ، اتنی رسوائی ، نہ پوچھ

ایک تجھ سے آشنا ہونے سے دیکھو کیا ہُوا
کتنے لوگوں سے ہوئی میری شناسائی نہ پوچھ

اک مسیحا کی محبّت میں بہت گھائل ہوئے !
وہ تدارُک کو نہ آیا، کچھ مسیحائی نہ پوچھ

موت کے منظر کو کوئی دیکھتا ہے غور سے !
اُس کا کہنا " تجھ سے مِلنے کو نہ آ پائی " نہ پوچھ

ایک میلا ہے مِرے چاروں طرف گر دیکھیئے
اک تِرے نا ہونے سے کتنی ہے تنہائی نہ پوچھ

تھی خبر تجھ تک پہنچنے میں ہیں نا ہمواریاں
کیا خبر تھی اتنی ہوگی آبلہ پائی نہ پوچھ

عشق کا شعلہ جواں ہوتے ہی دل میں جل اُٹھا
مسئلہ یہ ہے کہ کس نے آگ بھڑکائی، نہ پوچھ

دل نہ کوئی ٹوٹ جائے اس لیئے خاموش ہوں
جھوٹ سے حاصل نہیں کچھ ، اور سچائی نہ پوچھ

جستجوئے نقص ہے شیوا مرا، نقاد میں
مجھ سے میرے اپنے بارے میں بھی اچھائی نہ پوچھ

زندگی کچھ کٹ گئی، کچھ کاٹ ہی لیں گے مگر
بن ترے کٹتی ہے کیسے ، روح فرسائی نہ پوچھ

کوئی مخلص دوست چارہ گر تو لاؤ ڈھونڈ کر
چاروں جانب دیکھو کتنے ہیں تماشائی نہ پوچھ

جو بھی گزری ہم نے بِن پوچھے بتا ڈالا ندؔیم
اس سے اچھا کیوں نہیں کہہ پائے ہم بھائی، نہ پوچھ


ندیم مراد
جناب ندیم مراد صاحب !
ایک بہت اچھی اور کامیاب غزل پر بہت سی داد قبول کیجئے
ایک آدھ نظر میں یا عجلت میں اپنی رائے دے دینا آپ کی غزل کے لئے انصاف پر مبنی اور نہ ہی آساں ہوگا،
کیونکہ جتنی بار پڑھا ہے میں نے اِسے، اتنی بار مفہوم کا مجھ پر واضح ہونے نے مزہ یا لطف اندوز کروایا
سو تفصیلی لکھنے کے لئے اسے تفصیلی (غور ، اور انہماک سے ) پڑھنا ہوگا
چند ایک اشعار تو غضب کے ہیں۔ جسے بار بار پڑھ کر کیا ہی لطف اندوز ہوا
جیسے کہ یہ اشعار

زندگی کچھ کٹ گئی، کچھ کاٹ ہی لیں گے مگر !
بن ترے کٹتی ہے کیسے ، رُوح فرسائی نہ پُوچھ


جُستجوئے نقص ہے شیوا مِرا، نقاد میں
مجھ سے، میرے اپنے بارے میں بھی اچھّائی نہ پُوچھ


دل نہ کوئی ٹُوٹ جائے، اِس لِئے خاموش ہُوں
جُھوٹ سے حاصل نہیں کچُھ ، اور سچائی نہ پُوچھ

ہم نے چاہا تھا تمہیں، کہ چاہتے تھے ہم تمہیں
اِتنی سی ہی تو خطا تھی، اِتنی رُسوائی نہ پُوچھ


کیا کہنے صاحب ان اشعار کے، کیا ہی مزہ دیا جناب واہ

غزل کے مطلع اور ایک آدھ شعر سے کسی راوی یا قصّہ گو کی زبانی حال یا اس طرز پر گمان ہوتا ہے
کہ کوئی دو کا حال کسی تیسرے کو کہا جا رہا ہے، اور کبھی ہمزاد سے خطاب بھی نظر آتا ہے
کسی جگہ ردیف مضبوط حصہ نہیں نظر آیا ، کہیں کسی شعر میں تبدیلی نا گریز نظر آئی
ہوسکتا ہے میری فہم کا قصور ہو یا جیسا یہ کہ اسے مزید تحقیقی یا بہ نگاہ ناقد دیکھنے کی ضرورت ہے
مثلاّ مطلع
تنہا تنہا اتنے تھے دونوں کہ، تنہائی نہ پُوچھ
کون تھا اس سارے افسانے میں ہرجائی، نہ پُوچھ


میں "اس سارے" میں اس یا سارے ہی کافی تھا دونوں کا ساتھ آنا اس مفہوم اور بیان کے لئے ضروری نہیں
تنہا تنہا اتنے تھے دونوں کہ، تنہائی نہ پُوچھ
کون تھا در اصْل افسانے میں ہرجائی، نہ پُوچھ


کچھ بھی آپ بہتر سوچ ہی لیں گے

دل ہمارا ہے سمندر، اِس کی گہرائی نہ پوچھ
اور اِس گہرائی میں کتنی ہے تنہائی نہ پوچھ

دوسرا مصرع کچھ اس طرح کا بہتر لگتا کہ

اور گہرائی لئے ہے کتنی تنہائی نہ پُوچھ

تھی خبر تجھ تک پہنچنے میں ہیں نا ہمواریاں
کیا خبر تھی اتنی ہوگی آبلہ پائی نہ پوچھ

کیا کہوں کتنی ہوئی ہے آبلہ پائی نہ پوچھ

مجموعی طور پر غزل بہت اچھی ہے
داد پھر سے آپ کے حضور

بہت خوش رہیں اور لکھتے رہیں :):)
 
آخری تدوین:

ندیم مراد

محفلین
آداب
بہزاد صاحب کی غزل کے تحت آپ کا آخری جواب کافی حوصلہ افزا تھا
ورنہ میں نے تو سوچ لیا تھا، اس سے پہلے کہ میں دوسروں کے لئے تقلیف دہ بنوں، پتلی گلی سے راہ فراز اختیار کر جاؤں تو اچھا ہے، پھر آپ نے مزید کرم فرما دیا کہ میری ادنیٰ سی کاوش پر اتنا سیر حاصل تبصرہ بھی فرما دیا، جتنا شکریہ ادا کر وں کم ہے،
اگر آپ کو میرا ایک شعر بھی پسند آجاتاتومیرے لئے سرمایاافتخار ہوتا،
آپ کو تو میرے کئی شعر بھاگئے ، واہ آج کل یہاں کوئی کسی کا ایک شعر سننا پسند نہیں کرتا اپ نے میرے کئی شعر کئی کئی بار پڑھے۔ محض عنایت اور کرم کامعاملہ فرمایا آپ نے ،
جناب ندیم مراد صاحب !
ایک بہت اچھی اور کامیاب غزل پر بہت سی داد قبول کیجئے
ایک آدھ نظر میں یا عجلت میں اپنی رائے دے دینا آپ کی غزل کے لئے انصاف پر مبنی اور نہ ہی آساں ہوگا،
کیونکہ جتنی بار پڑھا ہے میں نے اِسے، اتنی بار مفہوم کا مجھ پر واضح ہونے نے مزہ یا لطف اندوز کروایا
سو تفصیلی لکھنے کے لئے اسے تفصیلی (غور ، اور انہماک سے ) پڑھنا ہوگا
چند ایک اشعار تو غضب کے ہیں۔ جسے بار بار پڑھ کر کیا ہی لطف اندوز ہوا
جیسے کہ یہ اشعار

زندگی کچھ کٹ گئی، کچھ کاٹ ہی لیں گے مگر !
بن ترے کٹتی ہے کیسے ، رُوح فرسائی نہ پُوچھ


جُستجوئے نقص ہے شیوا مِرا، نقاد میں
مجھ سے، میرے اپنے بارے میں بھی اچھّائی نہ پُوچھ


دل نہ کوئی ٹُوٹ جائے، اِس لِئے خاموش ہُوں
جُھوٹ سے حاصل نہیں کچُھ ، اور سچائی نہ پُوچھ

ہم نے چاہا تھا تمہیں، کہ چاہتے تھے ہم تمہیں
اِتنی سی ہی تو خطا تھی، اِتنی رُسوائی نہ پُوچھ


کیا کہنے صاحب ان اشعار کے، کیا ہی مزہ دیا جناب واہ

غزل کے مطلع اور ایک آدھ شعر سے کسی راوی یا قصّہ گو کی زبانی حال یا اس طرز پر گمان ہوتا ہے
کہ کوئی دو کا حال کسی تیسرے کو کہا جا رہا ہے، اور کبھی ہمزاد سے خطاب بھی نظر آتا ہے
کسی جگہ ردیف مضبوط حصہ نہیں نظر آیا ، کہیں کسی شعر میں تبدیلی نا گریز نظر آئی
ہوسکتا ہے میری فہم کا قصور ہو یا جیسا یہ کہ اسے مزید تحقیقی یا بہ نگاہ ناقد دیکھنے کی ضرورت ہے
مثلاّ مطلع
تنہا تنہا اتنے تھے دونوں کہ، تنہائی نہ پُوچھ
کون تھا اس سارے افسانے میں ہرجائی، نہ پُوچھ


میں "اس سارے" میں اس یا سارے ہی کافی تھا دونوں کا ساتھ آنا اس مفہوم اور بیان کے لئے ضروری نہیں
تنہا تنہا اتنے تھے دونوں کہ، تنہائی نہ پُوچھ
کون تھا در اصْل افسانے میں ہرجائی، نہ پُوچھ


کچھ بھی آپ بہتر سوچ ہی لیں گے

دل ہمارا ہے سمندر، اِس کی گہرائی نہ پوچھ
اور اِس گہرائی میں کتنی ہے تنہائی نہ پوچھ

دوسرا مصرع کچھ اس طرح کا بہتر لگتا کہ

اور گہرائی لئے ہے کتنی تنہائی نہ پُوچھ

تھی خبر تجھ تک پہنچنے میں ہیں نا ہمواریاں
کیا خبر تھی اتنی ہوگی آبلہ پائی نہ پوچھ

کیا کہوں کتنی ہوئی ہے آبلہ پائی نہ پوچھ

مجموعی طور پر غزل بہت اچھی ہے
داد پھر سے آپ کے حضور

بہت خوش رہیں اور لکھتے رہیں :):)
جناب ندیم مراد صاحب !
ایک بہت اچھی اور کامیاب غزل پر بہت سی داد قبول کیجئے
ایک آدھ نظر میں یا عجلت میں اپنی رائے دے دینا آپ کی غزل کے لئے انصاف پر مبنی اور نہ ہی آساں ہوگا،
کیونکہ جتنی بار پڑھا ہے میں نے اِسے، اتنی بار مفہوم کا مجھ پر واضح ہونے نے مزہ یا لطف اندوز کروایا
سو تفصیلی لکھنے کے لئے اسے تفصیلی (غور ، اور انہماک سے ) پڑھنا ہوگا
چند ایک اشعار تو غضب کے ہیں۔ جسے بار بار پڑھ کر کیا ہی لطف اندوز ہوا
جیسے کہ یہ اشعار

زندگی کچھ کٹ گئی، کچھ کاٹ ہی لیں گے مگر !
بن ترے کٹتی ہے کیسے ، رُوح فرسائی نہ پُوچھ


جُستجوئے نقص ہے شیوا مِرا، نقاد میں
مجھ سے، میرے اپنے بارے میں بھی اچھّائی نہ پُوچھ


دل نہ کوئی ٹُوٹ جائے، اِس لِئے خاموش ہُوں
جُھوٹ سے حاصل نہیں کچُھ ، اور سچائی نہ پُوچھ

ہم نے چاہا تھا تمہیں، کہ چاہتے تھے ہم تمہیں
اِتنی سی ہی تو خطا تھی، اِتنی رُسوائی نہ پُوچھ


کیا کہنے صاحب ان اشعار کے، کیا ہی مزہ دیا جناب واہ

غزل کے مطلع اور ایک آدھ شعر سے کسی راوی یا قصّہ گو کی زبانی حال یا اس طرز پر گمان ہوتا ہے
کہ کوئی دو کا حال کسی تیسرے کو کہا جا رہا ہے، اور کبھی ہمزاد سے خطاب بھی نظر آتا ہے
کسی جگہ ردیف مضبوط حصہ نہیں نظر آیا ، کہیں کسی شعر میں تبدیلی نا گریز نظر آئی
ہوسکتا ہے میری فہم کا قصور ہو یا جیسا یہ کہ اسے مزید تحقیقی یا بہ نگاہ ناقد دیکھنے کی ضرورت ہے
مثلاّ مطلع
تنہا تنہا اتنے تھے دونوں کہ، تنہائی نہ پُوچھ
کون تھا اس سارے افسانے میں ہرجائی، نہ پُوچھ


میں "اس سارے" میں اس یا سارے ہی کافی تھا دونوں کا ساتھ آنا اس مفہوم اور بیان کے لئے ضروری نہیں
تنہا تنہا اتنے تھے دونوں کہ، تنہائی نہ پُوچھ
کون تھا در اصْل افسانے میں ہرجائی، نہ پُوچھ


کچھ بھی آپ بہتر سوچ ہی لیں گے

دل ہمارا ہے سمندر، اِس کی گہرائی نہ پوچھ
اور اِس گہرائی میں کتنی ہے تنہائی نہ پوچھ

دوسرا مصرع کچھ اس طرح کا بہتر لگتا کہ

اور گہرائی لئے ہے کتنی تنہائی نہ پُوچھ

تھی خبر تجھ تک پہنچنے میں ہیں نا ہمواریاں
کیا خبر تھی اتنی ہوگی آبلہ پائی نہ پوچھ

کیا کہوں کتنی ہوئی ہے آبلہ پائی نہ پوچھ

مجموعی طور پر غزل بہت اچھی ہے
داد پھر سے آپ کے حضور

بہت خوش رہیں اور لکھتے رہیں :):)
 

ندیم مراد

محفلین
اگرچہ کہ ضروری نہیں کہ میں آپ کی تنقید سے متفق بھی ہوں
مگر کیا کروں تنقید ہے ہی اتنی بجا کہ پیشانی پہ لکیر یں بنانے کی گنجایش بھی نہیں چھوڑی آپ نے
خاص طور پھر مطلع میں جہاں دو سین جمع ہو رہے ہیں ، اس سارے
ایک مرتبہ پھر شکریہ
امید ہے آئندہ بھی حوصلہ افزائی فرماتے رہیں گے۔
وسلام
 

طارق شاہ

محفلین
آداب
بہزاد صاحب کی غزل کے تحت آپ کا آخری جواب کافی حوصلہ افزا تھا
ورنہ میں نے تو سوچ لیا تھا، اس سے پہلے کہ میں دوسروں کے لئے تقلیف دہ بنوں، پتلی گلی سے راہ فراز اختیار کر جاؤں تو اچھا ہے، پھر آپ نے مزید کرم فرما دیا کہ میری ادنیٰ سی کاوش پر اتنا سیر حاصل تبصرہ بھی فرما دیا، جتنا شکریہ ادا کر وں کم ہے،
اگر آپ کو میرا ایک شعر بھی پسند آجاتاتومیرے لئے سرمایاافتخار ہوتا،
آپ کو تو میرے کئی شعر بھاگئے ، واہ آج کل یہاں کوئی کسی کا ایک شعر سننا پسند نہیں کرتا اپ نے میرے کئی شعر کئی کئی بار پڑھے۔ محض عنایت اور کرم کامعاملہ فرمایا آپ نے ،
مراد صاحب اگر بغیر کچھ کہے چپکے سے نکل جاتے تو بڑا غضب نہیں کرتے کیا۔
کہ ہم کیاکیا نہ سوچ کے رنجیدہ اور خفا رہتے کہ یہ کیا اور کیوں ہُوا ، خود کو کوستے :)

ارے صاحب آپ نے کہاں ہمارے کسی پلاٹ یا املاک پر قبضہ کرلیا ہے ، جو آپ سے خفگی رہتی :)
علم ادب کی باتیں ہیں کچھ آپ سے سیکھیں گے ، اور اپنی دانست میں اگرکچھ صحیح جانیں گے تو آپ
سے کہہ دینگے کہ متفق ہونے کی شرط پر تو آج کل کوئی گفتگو نہیں کرتا ۔

اشعار یا غزل پر آپ کو داد ایک بار پھر سے
انشااللہ محفل کو منفرد اور منفعل پائیں گے ، صاحب لکھتے رہیں !
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ،
تشکّر جواب کے لئے !
بہت خوش رہیں :):)
 
آخری تدوین:

ندیم مراد

محفلین
Top