غزل: تم بھی عینِ خمار ہو گئی ہو

تازہ غزل:

تم بھی عینِ خمار ہو گئی ہو
میرے سر پر سوار ہو گئی ہو

ہاں، مرا اعتبار کوئی نہیں
تم مرا اعتبار ہو گئی ہو

کیا عجب کوئی رہ گزر ہو وہاں
دل سے تم آر پار ہو گئی ہو

اب میں سمجھا کہ صرف میں ہی نہیں
تم بھی میں کا شکار ہو گئی ہو

چھین کر میرا پیار مجھ سے تم
خود بھی میرا ادھار ہو گئی ہو

جب سے میں ہو گیا ہوں خاموشی
تم مجسم پکار ہو گئی ہو

میری تاریخ کی تو جیسے تم
جانِ عالم فگار ہو گئی ہو

ایک ہی بار تو ہوئی ہو مری
کونسا بار بار ہو گئی ہو

تم غزل ہو حجازؔ کی لیکن
تم بہت شاہکار ہو گئی

مہدی نقوی حجازؔ
 

ظفری

لائبریرین
ایک ہی بار تو ہوئی ہو مری
کونسا بار بار ہو گئی ہو

واہ بہت خوب برخوردار ۔ مجھے تو جون ایلیا کی روح تم میں نظر آرہی ہے ۔ ;)
 
کچھ مزید شعر:

راستہ ڈھونڈتے ہوئے میرا
تم اسی کا غبار ہو گئی ہو

آگ تھی، پھر ہری بھری ہو گئی
کیا تم اب سبزہ زار ہو گئی ہو

پھول تھی، میں تھا خار، اور اب تم
خار کے ساتھ خار ہو گئی ہو

منحصر تو نہیں ہوئی ہو تم
ہاں مگر انحصار ہو گئی ہو

سچ بتانا کہ قصہ گو ہی ہو
یا فسانہ نگار ہو گئی ہو

مجھ کو لُوٹے، ہوئے ہیں کچھ دن اور
میرا دار و مدار ہو گئی ہو

سبز راتوں میں نیلگوں بارش
اور سرخ آبشار ہو گئی ہو
 
ایک ہی بار تو ہوئی ہو مری
کونسا بار بار ہو گئی ہو

واہ بہت خوب برخوردار ۔ مجھے تو جون ایلیا کی روح تم میں نظر آرہی ہے ۔ ;)
حضورِ والیٰ جون سے مجھے بہت لگاؤ اور محبت ہے، محبت رنگ تو لاتی ہے نا! :) چاہے آپ لاکھ کوشش کیجیے کہ دور رہیں، میرا ایک شعر تھا اس بارے کہ:
جو اتاروں تو مرے منہ سے اترتا بھی نہیں
ترا لہجہ بھی ہو گویا مری موٹی چمڑی
 
Top