1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

رئیس امروہوی غزل : بے حجابی پردۂ دیدار ہو کر رہ گئی ! - رئیس امروہوی

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 18, 2018

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,095
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    بے حجابی پردۂ دیدار ہو کر رہ گئی !
    آنکھ ملتے ہی نظر بیکار ہو کر رہ گئی

    غیر کو زلفِ ہلالی پر ہے کیا کیا دسترس؟
    میری قسمت سے وہی تلوار ہو کر رہ گئی

    کہہ گئی آہستہ آہستہ یہ کیا موجِ نسیم ؟
    ہر گلی گویا لبِ گفتار ہو کر رہ گئی

    شیخ کہتا تھا کہ ہے تسبیح دست آویز خلد
    پھر وہ کیوں ہم رشتۂ زنار ہو کر رہ گئی

    زندگی آزردۂ آزار ہجر و وصل کیا ؟
    زندگی خود مستقل آزار ہو کر رہ گئی

    بوئے گل آوارگی سے ہو گئی اقبال مند
    میری آشفتہ سری ادبار ہو کر رہ گئی

    یادِ ماضی سے دلِ حساس آخر کیا ملا؟
    ایک مبہم سی خلش بیدار ہو کر رہ گئی

    فکرِ فن فکرِ سخن فکرِ جہاں فکرِ معاش
    نوجوانی شکوۂ افکار ہو کر رہ گئی

    صبح کو سورج اُبھر کر بدلیوں میں چھپ کیا
    دھوپ نذرِ سایۂ دیوار ہو کر رہ گئی
    رئیس امروہوی
    1940ء
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر