تہمت کا کہیں بغض و رقابت کا درندہ
ہرموڑ پہ بیٹھا ہے جہالت کا درندہ

بچے کئی معصوم نگلتا ہے یہ ہر روز
جو شہر میں پھرتا ہے محبت کا درندہ

ڈرتا ہوں کہیں کھنیچ نہ لے روح بدن سے
تنہائی کے جنگل میں یہ وحشت کا درندہ

جاں بخشے یہی رن میں، یہی جاں لے حرم میں
فطرت میں تو انسان ہے، خصلت کا درندہ

آنکھوں سے مری خواب وہی نوچ رہا ہے
گھس آیا جو ان میں تری صورت کا درندہ

گلشن میں پرئے پھول سے رہنے لگی بلبل
جنگل سے نکل آیا ہے نفرت کا درندہ

قمری کا بیابان میں ہے اب کے بسیرا
گلشن میں ہے بپھرا ہوا نفرت کا درندہ

مجبور کا فن بیچ کے بازار میں اب تو
شہرت کے تعاقب میں ہے دولت کا درندہ
 

فرقان احمد

محفلین
محترم الف عین صاحب
آپ کی توجہ کا منتظر رہوں گا۔براہ مہربانی شفقت فرمائیے گا۔
سرفرازاحمدسحر بھائی! ٹیگ کرنے کے لیے نام سے پہلے @ کا اضافہ کیا کیجیے تاکہ ٹیگ کیے جانے والے فرد کو اطلاع موصول ہو سکے۔ جیسے اگر آپ نے محترم الف عین کو ٹیگ کرنا ہو تو ان کا نام تحریر کرنے سے پہلے @ ٹائپ کیجیے۔ شکریہ!
 
Top