غزل براے اصلاح

عظیم خواجہ

محفلین
اب مرے سوالوں کا بس جواب باقی ہے
نیند ہی نہی آتی پورا خواب باقی ہے

خشکیوں پہ رہ کر بھی گھِر گئے تلاطم میں
زیست کی مسافت اب زیر آب باقی ہے!

اِس جہان و محشر میں فرق صرف اتنا ہے
اک عذاب سے گذرے، اک عذاب باقی ہے

چن لیا ہےمقتل پھر ہم نے اپنی مرضی کا
صرف ایک قاتل کا انتخاب باقی ہے

تم نے جس اجالےکو امن کی سحر سجھا
وہ تو اس شب غم کا ماہتاب باقی ہے

ہر خطا پہ دل میرا خون خون روتا ہے
پھر مرے گناہوں کا کیا حساب باقی ہے؟
 

شکیب

محفلین
نستعلیق فانٹ نہیں نظر آرہا آپ کے کلام پر، اس لیے یہ پوسٹ کر رہا ہوں۔
اب مرے سوالوں کا بس جواب باقی ہے
نیند ہی نہی آتی پورا خواب باقی ہے

خشکیوں پہ رہ کر بھی گھِر گئے تلاطم میں
زیست کی مسافت اب زیر آب باقی ہے!

اِس جہان و محشر میں فرق صرف اتنا ہے
اک عذاب سے گذرے، اک عذاب باقی ہے

چن لیا ہےمقتل پھر ہم نے اپنی مرضی کا
صرف ایک قاتل کا انتخاب باقی ہے

تم نے جس اجالےکو امن کی سحر سجھا
وہ تو اس شب غم کا ماہتاب باقی ہے

ہر خطا پہ دل میرا خون خون روتا ہے
پھر مرے گناہوں کا کیا حساب باقی ہے؟
 

شکیب

محفلین
خوبصورت کلام پر ڈھیروں داد قبول کیجیے۔ ایک شعر کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا
تم نے جس اجالےکو امن کی سحر سجھا
وہ تو اس شب غم کا ماہتاب باقی ہے
”وہ تو “ بھرتی کا لگ رہا ہے۔ یا پھر ”وہ “ کا اشارہ اجالےکی طرف ہے؟ بنیادی طور پر اس شعر کا مطلب پوری طرح سمجھ نہیں پایا۔ اگر کمی ہے تو پوری کریں، بصورتِ دیگر میرے سمجھنے کی غلطی کو دور کردیجیے۔
ایک بار پھر بھرپور داد۔
 

عظیم خواجہ

محفلین
خوبصورت کلام پر ڈھیروں داد قبول کیجیے۔ ایک شعر کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا

”وہ تو “ بھرتی کا لگ رہا ہے۔ یا پھر ”وہ “ کا اشارہ اجالےکی طرف ہے؟ بنیادی طور پر اس شعر کا مطلب پوری طرح سمجھ نہیں پایا۔ اگر کمی ہے تو پوری کریں، بصورتِ دیگر میرے سمجھنے کی غلطی کو دور کردیجیے۔
ایک بار پھر بھرپور داد۔
واہ واہ، جناب کیا کہنے۔۔بہت خوب
واہ واہ، جناب کیا کہنے۔۔بہت خوب
سعید اسد بھائ بہت شکریہ۔
 

عظیم خواجہ

محفلین
خوبصورت کلام پر ڈھیروں داد قبول کیجیے۔ ایک شعر کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا

”وہ تو “ بھرتی کا لگ رہا ہے۔ یا پھر ”وہ “ کا اشارہ اجالےکی طرف ہے؟ بنیادی طور پر اس شعر کا مطلب پوری طرح سمجھ نہیں پایا۔ اگر کمی ہے تو پوری کریں، بصورتِ دیگر میرے سمجھنے کی غلطی کو دور کردیجیے۔
ایک بار پھر بھرپور داد۔
فقیر شکیب احمد بھائ حوصلہ افزائ کا شکریہ۔ دراسل شعر تھوڑا مہمل سا ہی ہے۔ اپنے جانتے یہ کہنا چاہا ہے کہ ظلم کی رات ختم نہیں ہوئ ہےاور سحر ایک غلط فہمی ہے۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
عظیم بھائی ۔ واہ واہ ! اچھی تخلیقی کاوش ہے ۔ ایک دو جگہوں پر ٹائپو ہیں انہیں درست کرلیجئے۔ جہاں کسرہء اضافت کی ضرورت ہے ضرور لگائیے ۔
اس جہان و محشر درست نہیں ہے۔ لفظ "اس" لگانے کی وجہ سے اس جہان اور محشر میں درست ہوگا ۔
خون خون رونا فصیح زبان نہیں ہے۔ باقی سب ٹھیک ہے۔ کوئی عروضی غلطی نظر نہیں آتی۔
 

عظیم خواجہ

محفلین
عظیم بھائی ۔ واہ واہ ! اچھی تخلیقی کاوش ہے ۔ ایک دو جگہوں پر ٹائپو ہیں انہیں درست کرلیجئے۔ جہاں کسرہء اضافت کی ضرورت ہے ضرور لگائیے ۔
اس جہان و محشر درست نہیں ہے۔ لفظ "اس" لگانے کی وجہ سے اس جہان اور محشر میں درست ہوگا ۔
خون خون رونا فصیح زبان نہیں ہے۔ باقی سب ٹھیک ہے۔ کوئی عروضی غلطی نظر نہیں آتی۔
ظہیر احمد بھائ غزل پسند کرنے کا شکریہ۔ ان باریکیوں کی نشاندہی کا بےحد مومنوں ہوں۔ میں غلطیاں دور کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
 
Top