غزل برائے تنقید و تبصرہ و اصلاح

مانی عباسی

محفلین
الف عین محمد وارث
محمد یعقوب آسی @ مزمل شیخ بسمل

درد پیتا ھوں مگر جام پی کر
کیا پھرے ھو تم سر عام پی کر

ساقی آنکھوں سے تری جام پی کر،
پینے کا کرتا ھوں میں کام پی کر.

کہہ رہے ھیں تارے اک دوسرے سے
چمکیں گے ہم آج کی شام پی کر

اشک کو آبِ بقا مان کے پی
عشق میں ملتا ھے آرام پی کر

منتظر ھوں اب کے اے موت ترا
جی رہا ھوں بس ترا نام پی کر

ہوگی وہ بھی چودھویں کی شب ہی
چاند نکلا جب درِ بام پی کر

شعر سن کر مانی کے کہنے لگے
کیوں مچاتا ھے یہ کہرام پی کر...........
 
غالب، اقبال اور پروین شاکر تو آپ کو پسند ہیں ہی! عمدہ بات ہے۔

میں نئے لکھنے والوں کو مشورہ دیا کرتا ہوں کہ وہ ناصر کاظمی اور احمد فراز کی شاعری پڑھا کریں اور پڑھیں چاہے تحت اللفظ یا گنگنا کر جیسے بھی، تاہم آواز اتنی ضرور ہو کہ خود پڑھنے والے کے کانوں تک پہنچے۔

راولپنڈی اسلام آباد کے ادبی حلقے خاصے سرگرم ہیں، وہاں جایا کیجئے۔ جیسی تربیت ادبی اور تنقیدی اجلاسوں اور اس کے بعد ہونے والی غیر رسمی نشستوں میں ہوتی ہے، کہیں اور نہیں ہوتی۔ ’’حلقہ اربابِ ذوق‘‘ کے اجلاس راولپنڈی پریس کلب میں ہر ہفتے کی شام، اور اسلام آباد میں (جگہ کا ٹھیک علم نہیں ہے) ہر اتوار کی شام ہوتے ہیں۔ ’’جدید ادبی تنقیدی فورم‘‘ کے اجلاس کس دن کہاں ہوتے ہیں، حلقہ میں جائیں تو نوید ملک سے پوچھ لیجئے گا۔ ’’دائرہ‘‘ کے بارے میں مجھے اتنا نہیں معلوم کہ آپ کو کچھ بتا سکوں۔

مشاعروں میں شرکت کیجئے، تنقیدی نشستوں میں بیٹھا کیجئے (چاہے کچھ بھی نہ کہئے)۔ باقی باتیں بعد کی ہیں۔
 
شمال و جنوب کے مصارع دکھتے ہیں بادی النظر میں
دو اشعار یوں دیکھ لیجیے اور باقی خود کوشش کیجیے جب تک اساتذہ میں سے کوئی نہ کوئی متوجہ ہو ہی جائے گا

درد پیتا ھوں مگر جام پی کر​
کیا پھرے ھو تم سر عام پی کر​

درد پیتا ھوں مگر جام پی کر​
وحشت ہجر، سر عام پی کر

ساقی آنکھوں سے تری جام پی کر،​
پینے کا کرتا ھوں میں کام پی کر.​

تُم بھی پی لو تو پتی چل جائے​
کیسے ہوتے ہیں سبھی کام، پی کر​

یہ میری رائے ہے اور آپ کا متفق ہونا قطعا ضروری نہیں :angel:
 
درد پیتا ھوں مگر جام پی کر
کیا پھرے ھو تم سر عام پی کر

درد پیتا ھوں مگر جام پی کر
وحشت ہجر، سر عام پی کر​

ساقی آنکھوں سے تری جام پی کر،
پینے کا کرتا ھوں میں کام پی کر.

تُم بھی پی لو تو پتہ چل جائے

کیسے ہوتے ہیں سبھی کام، پی کر
 

مانی عباسی

محفلین
درد پیتا ھوں مگر جام پی کر
کیا پھرے ھو تم سر عام پی کر

درد پیتا ھوں مگر جام پی کر

وحشت ہجر، سر عام پی کر

ساقی آنکھوں سے تری جام پی کر،
پینے کا کرتا ھوں میں کام پی کر.

تُم بھی پی لو تو پتہ چل جائے

کیسے ہوتے ہیں سبھی کام، پی کر
شکریہ جناب ۔۔۔۔۔۔باقی شعروں کی بھی اصلاح ہو جائے تو نوازش ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
شکریہ جناب ۔۔۔ ۔۔۔ باقی شعروں کی بھی اصلاح ہو جائے تو نوازش ہو گی ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
اگر اپ کوشش کریں تو خود ہی دوبارہ لکھیے ، پھر جہاں مشکل پیش آئی اساتذہ ہیں نا رہنُمائی کے لیے، میں تو خود سیکھ رہا ہوں جناب
 

شوکت پرویز

محفلین
جناب عبّاسی صاحب! السّلام علیکم،
آپ کے خیالات اور الفاظ بہت اچّھے ہیں۔ صرف وزن کی متعلق کچھ کہنا چاہوں گا، اگر پسند نہ آئے تو نظر انداز کر دیجئے گا۔
استاد غالب کی یہ غزل دیکھئے
پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
دل، جگر تشنۂ فریاد آیا
آپ کی غزل اس وزن سے قریب ہے۔
اس کا وزن ہے:
فاعلن فاعلتن مفعولن
212 2112 222
پ(ہ)ر | م | ج(ہ)ے # دی | د | ء | تر # یا | (د) آ | یا
قوسین () کے حروف تقطیع میں شمار نہیں ہؤے، شاعر نے انہیں گرایا ہے۔
اور "یاد" کا "د" الف وصل کے اصول کے تحت "آیا" کے "آ" میں مل گیا ہے۔

آپ درج بالا تقطیع کے مطابق اپنی غزل کو پرکھئے، اس طرح آپ کی دلچسپی اور شوق بڑھے گا، اور آپ کے اشعار با وزن ہونے لگ جائیں گے۔ پھر اشاتذہ کرام کو بھی آسانی ہوگی آگے بات کرنے میں۔ اور یہ بات آپ کے حق میں بھی بہتر ہے۔

ایک اورضروری بات:
درج بالا وزن پر تقطیع کرنے کے بعد آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کی غزل کی ردیف میں آپ (پی کر) "ی" گرا رہے ہیں، جو کہ صحیح بات نہیں، شاید آپ کو ردیف تبدیل کرنا پڑے۔
 

مانی عباسی

محفلین
جناب عبّاسی صاحب! السّلام علیکم،
آپ کے خیالات اور الفاظ بہت اچّھے ہیں۔ صرف وزن کی متعلق کچھ کہنا چاہوں گا، اگر پسند نہ آئے تو نظر انداز کر دیجئے گا۔
استاد غالب کی یہ غزل دیکھئے
پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
دل، جگر تشنۂ فریاد آیا
آپ کی غزل اس وزن سے قریب ہے۔
اس کا وزن ہے:
فاعلن فاعلتن مفعولن
212 2112 222
پ(ہ)ر | م | ج(ہ)ے # دی | د | ء | تر # یا | (د) آ | یا
قوسین () کے حروف تقطیع میں شمار نہیں ہؤے، شاعر نے انہیں گرایا ہے۔
اور "یاد" کا "د" الف وصل کے اصول کے تحت "آیا" کے "آ" میں مل گیا ہے۔

آپ درج بالا تقطیع کے مطابق اپنی غزل کو پرکھئے، اس طرح آپ کی دلچسپی اور شوق بڑھے گا، اور آپ کے اشعار با وزن ہونے لگ جائیں گے۔ پھر اشاتذہ کرام کو بھی آسانی ہوگی آگے بات کرنے میں۔ اور یہ بات آپ کے حق میں بھی بہتر ہے۔

ایک اورضروری بات:
درج بالا وزن پر تقطیع کرنے کے بعد آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کی غزل کی ردیف میں آپ (پی کر) "ی" گرا رہے ہیں، جو کہ صحیح بات نہیں، شاید آپ کو ردیف تبدیل کرنا پڑے۔

آپ کی تجویز اور شفقت پر بہت شکریہ ادا کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
پہلے پہل یہ غزل اس بحر میں لکھی تھی
فاعلاتن فاعلاتن فعلن

مگر بھائی جاں آپ کی تجویز دیکھ کر مجھے درج ذیل بحر بہت موزوں لگی جس میں قافیہ اور ردیف دونوں یہی رہیں گیاور "پی" کی "ی" بھی نہیں گرے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔
فعولن فعولن فعولن فعولن
آپ کی رائے کا منتظر رہوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

شوکت پرویز

محفلین
آپ کی تجویز اور شفقت پر بہت شکریہ ادا کرتا ہوں ۔۔۔ ۔۔۔
پہلے پہل یہ غزل اس بحر میں لکھی تھی مگر
بھائیجاں آپ کی تجویز دیکھ کر مجھے درج ذیل بحر بہت موزوں لگی جس میں قافیہ اور ردیف دونوں یہی رہیں گیاور "پی" کی "ی" بھی نہیں گرے گی ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
فعولن فعولن فعولن فعولن
آپ کی رائے کا منتظر رہوں گا۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
بہت بہتر متبادل ہے، اس سے صرف ذرا سی کوشش سے اشعار با وزن ہوجائیں گے، اور ردیف قافیہ بھی ہاتھ سے نہیں جائے گا۔
 

مانی عباسی

محفلین
بہت بہتر متبادل ہے، اس سے صرف ذرا سی کوشش سے اشعار با وزن ہوجائیں گے، اور ردیف قافیہ بھی ہاتھ سے نہیں جائے گا۔
جی بالکل ایسا ہی ہے ۔۔۔۔۔۔
اس بحر میں لکھ کے آپ سب اساتذہ کو پھر تکلیف دوں گا ۔۔۔۔۔
امید کرتا ہوں آپ کی شفقت یوں ہی میسر رہے گی۔۔۔۔۔۔۔۔
 

شوکت پرویز

محفلین
جی بالکل ایسا ہی ہے ۔۔۔ ۔۔۔
اس بحر میں لکھ کے آپ سب اساتذہ کو پھر تکلیف دوں گا ۔۔۔ ۔۔
امید کرتا ہوں آپ کی شفقت یوں ہی میسر رہے گی۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
ہم کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب ہم نے
میں ابھی شاعر تک کہلانے کا اہل نہیں، اور آپ نے مجھے کیا کہہ دیا۔
یہ استاد لفظ بڑی ذمّہ داری والا ہے، میں چھوٹی سی جان، ابھی اس لائق نہیں کہ یہ منصب نبھا سکوں، معذرت خواہ ہوں۔
 

مانی عباسی

محفلین
شوکت پرویز
محمد اظہر نذیر
مزمل شیخ بسمل

اب کیا رائے ہے آپ سب احباب کی ؟؟؟؟؟؟؟؟
ملاقات ہوتی ہے کیا جام پی کر
پہن لیتے ہیں لوگ احرام پی کر

نکلنے لگا جب میں کل شام پی کر
ملا چاند مجھکو سرِ بام پی کر

پلانے سے پہلے نظر کیوں ملائی
تمام اب کے ہوگا مرا کام پی کر

ان اشکوں کو آبِ بقا مان کے پی
محبت میں ملتا ہے آرام پی کر

بہت منتظر ہوں اب اے موت تیرا
جیے جا رہا ہوں ترا نام پی کر

سنائیں جو مانی نے غزلیں تو بولے
خدارا مچاؤ نہ کہرام پی کر ..........
 
Top