غزل برائے اصلاح

رہتے ہیں یار آنکھوں میں
بن کہ وہ پیار آنکھوں میں

چبھ رہے ہیں سب کی ہی
تیرے بیمار آنکھوں میں

چاہئے اور کیا ہمیں
جب ہیں سرکار آنکھوں میں


وہ بیاں کیا ہو! ہے کیا
تیری ان یار آنکھوں میں

ہمشہ ہی رہتے ہیں میاں
صاھب کردار آنکھوں میں

پہلے تیرا چہرہ تھا
اب ہے دیوار آنکھوں میں

لب نہیں کر سکتے ہیں
جب ہو اظہار آنکھوں میں

حسرتوں کا ہےجو ہے
یار بازار آنکھوں میں

یہ ہدایت کس کی تھی
کیجیے گا وار آنکھوں میں
سر الف عین
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
کیا بحر ہے اس کی؟ یہ متعین ہو جائے تو آگے بڑھیں۔
رہتے۔ ہے یا۔ رانکو، مے
فعلن فعلن فعلن فع
لیکن صرف کچھ مصرعے اس وزن میں ہیں۔
 
Top