غزل برائے اصلاح

Qadeer khan نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 14, 2020 2:49 شام

  1. Qadeer khan

    Qadeer khan محفلین

    مراسلے:
    4
    خیال اپنا نہیں رہتا تمھارے آنے کے بعد
    تمھیں محسوس کرتا ہوں تمہارے جانے کے بعد
    تمھارے در گدا گر ہوں نظر کی آس لے کر
    نہیں ہو گی ضرورت کچھ تمہارے پانے کے بعد
    معافی کی طلب کرتے نظر آتے ہیں ظالم
    بڑی ہی دیر کردی ہے ستم کو ڈھانے کے بعد
    خفا ہونا نہیں اتنا برا لیکن ذرا سوچو
    بہار آتی نہیں جلدی خزاں کے چھانے کے بعد
    نظر کو دیدہ ور کر دیا تمہاری اک نظر نے
    اب اور کچھ راس نہ آئے تمہارے بھانے کے بعد




     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,122
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یہ کسی مستعمل بحر میں نہیں
     
  3. Qadeer khan

    Qadeer khan محفلین

    مراسلے:
    4
    اچھی بات ہے.مگر مجھے میرے مضامین پورے کرنے تھے.
    .آئندہ مستعمل بحر میں کہوں گا.وزن یہ ہے.
    مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن فعولن
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,122
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    'نے کے بعد' کو فعولن کس طرح بنایا جا سکتا ہے؟ 'ن کے بع' تو مکن ہے، لیکن آنے کی ے کو گرایا نہیں جا سکتا
     
  5. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    394
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    تمام ہی قوافی میں ے کا اسقاط ہورہا ہے، جو روانی کو متاثر کرتا ہے۔ آن کے بعد، جان کے بعد، ڈھان کے بعد ۔۔۔ اگر ہزج میں ہی شعر پڑھتے زبان اٹکنے لگے تو فائدہ!

    مطلع دولخت ہے۔ دونوں مصرعے مربوط نہیں، بلکہ ہر مصرعہ اپنے اندر الگ مضمون لئے ہوئے ہے۔ ایک شعر کے دو مصرعوں میں بیان کا تسلسل ہونا ضروری ہے، وگرنہ شعر معیوب گردانا جاتا ہے۔

    ’’تمہارے در گداگر‘‘ چہ معنی؟
    در کا گداگر ہونا چاہیئے ۔۔۔ بلکہ گداگر بھی نہیں ۔۔۔ شعری اصطلاح میں اس مفہوم کو نبھانے کے لئے محض گدا کہا جاتا ہے۔ گداگر سے عموماً پیشہ ور مانگنے والے مراد ہوتے ہیں۔
    مزید برآں، ’’تمہارے پانے کے بعد‘‘ بھی غلط اسلوب ہے ۔۔۔ ’’تمہیں پانے کے بعد‘‘ کہنا چاہیئے۔
    ’’کچھ ضرورت‘‘ سے بھی مفہوم مکمل ادا نہیں ہوتا ۔۔۔ یہاں ’’کچھ بھی‘‘ یا ’’کوئی بھی‘‘ کا محل ہے۔

    ’’معافی کی طلب‘‘ نہیں کی جاتی ۔۔۔ ’’معافی طلب‘‘ کرنا درست محاورہ ہے!
    نیز ’’ستم کو ڈھانا‘‘ بھی محاورے کے خلاف ہے ۔۔۔ ’’ستم ڈھانا‘‘ درست ہوتا ہے۔

    پہلا مصرعہ آپ کی چنیدہ بحر میں نہیں، بلک ہزج سالم میں ہے (مفاعیلن ضرب ۴)
    ایک بار پھر ۔۔۔ ’’خزاں کے چھانے‘‘ میں کے زائد ہے ۔۔۔ ’’خزاں چھانا‘‘ درست محاورہ ہے۔

    پہلا مصرعہ بحر سے خارج ہے۔ ’’کردیا‘‘ میں دیا کے الف کا اسقاط ٹھیک نہیں۔
    نظریں دیدہ ور کیسے ہوتی ہیں؟ یہ بات خود بھی قابلِ غور ہے!
    دوسرے مصرعے میں ’’نہ‘‘ کو دوحرفی باندھا گیا ہے، جو ناپسندیدہ ہے۔
    ’’اب اور‘‘ کو ’’ اَبُر‘‘ پڑھنا پڑھ رہا ہے، جو ٹھیک نہیں۔ وصالِ الف کے ساتھ بھی ’’ اب اور‘‘ کو ’’ اَ بَور‘‘ تقطیع کیا جائے گا، جس کی وجہ سے مصرعہ بحر سے خارج ہوجائے گا۔

    دعاگو،
    راحلؔ۔
     

اس صفحے کی تشہیر