غزل برائے اصلاح

محمد فائق نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 7, 2020

  1. محمد فائق

    محمد فائق محفلین

    مراسلے:
    327
    آئینہ سامنے ہو، ہاتھ میں پتھر نہ رہے
    اب مرے شہر میں پہلے سے وہ منظر نہ رہے

    نفرت و بغض کا پھیلا ہے اندھیرا ہر سو
    بجھ گئے دیپ محبت کے، منور نہ رہے

    ہم نے بھی سیکھ لیا وقت سے لڑنا آخر
    ہم سراسیمہ بھی محتاجِ مقدر نہ رہے

    بڑھ چکا عرض بہت دائرۂ وحشت کا
    چاہ کر بھی کوئی اس حلقے سے باہر نہ رہے

    بک چکے ہوں گے صحافت کے ادارے فائق
    ورنہ ماحول سیاست کا مکدر نہ رہے
     
  2. محمد فائق

    محمد فائق محفلین

    مراسلے:
    327
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,298
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دو معمولی سے اسقام محسوس ہوتے ہیں
    نفرت و بغض کا پھیلا ہے اندھیرا ہر سو
    بجھ گئے دیپ محبت کے، منور نہ رہے
    .. پھیلا ہے کی بجائے 'پھیل گیا' دوسرے مصرعے کے صیغہ سے زیادہ ہم آہنگ ہے، بجھ گئے اور نہ رہے کے افعال سے مطابقت رکھتے ہوئے
    دوسری بات ۔ دائرہ کا قطر یا نصف قطر ہوتا Radius/ Diameter ہے، طول و عرض نہیں
     
  4. محمد فائق

    محمد فائق محفلین

    مراسلے:
    327
    بہت شکریہ سر
    آپ کی بتائی ہوئی غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش کی ہے

    تیرگی پھیل گئی چاروں طرف نفرت کی
    یا
    تیرگی پھیل گئی بغض و حسد کی ہر سو
    بجھ گئے دیپ محبت کے، منور نہ رہے


    اس قدر بڑھ گیا اس دور میں وحشت کاحصار
    چاہ کر بھی کوئی اس حلقے سے باہر نہ رہے
    الف عین سر
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,298
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بغض و حسد کے ساتھ دیپ کا ہندی لفظ ذرا فٹ نہیں لگتا۔ نفرت کے ساتھ ٹھیک رہے گا۔
    حصار والا شعر درست ہو گیا
     

اس صفحے کی تشہیر