غزل برائے اصلاح

عمران سرگانی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 15, 2019

  1. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    337
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    سر الف عین
    سر عظیم
    اصلاح فرما دیجئے

    فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
    میرے جانے پر نہ جانے کیا کرے گا آسمان
    اس زمیں کا یہ خلا کیسے بھرے گا آسمان

    شام کی سرخی بدل کر پہنے گا کالا لباس
    تم کرو گے جس طرح ویسا کرے گا آسمان

    روز رکھ کر سینے پر جلتا ہوا اک آفتاب
    جب جلائے گا ہمیں ، خود بھی جلے گا آسمان

    کب تلک پتھروں کی بارش ہو گی جلتے جسم پر
    کب تلک میری زمیں سے یوں لڑے گا آسمان

    چاند سے بھی خوبصورت میں بناؤں گا تمہیں
    چاند اپنا چھوڑ کر تم پر مرے گا آسمان

    ہم ستونوں کے اگر پیروں تلے سے یہ زمین
    تم نے کھینچی تو زمیں پر گر پڑے گا آسمان

    یوں زمیں پر کھینچوں گا عمران میں نقش و نگار
    رو پڑے گا ، جب مرے غم کو پڑھے گا آسمان

    شکریہ
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 16, 2019
  2. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,628
    میرے جانے پر نہ جانے کیا کرے گا آسمان
    اس زمیں کا یہ خلا کیسے بھرے گا آسمان
    ۔۔ درست اور اچھا ہے

    شام کی سرخی بدل کر پہنے گا کالا لباس
    تم کرو گے جس طرح ویسا کرے گا آسمان
    ۔۔۔ پہنے میں ے کا اسقاط اچھا نہیں لگ رہا
    دوسرے میں ویسا کی بہ نسبت 'ویسے' بہتر لگتا ہے

    روز رکھ کر سینے پر جلتا ہوا اک آفتاب
    جب جلائے گا ہمیں ، خود بھی جلے گا آسمان
    ۔۔۔ سینے کی ے کا گرنا بھی اچھا نہیں۔

    کب تلک پتھروں کی بارش ہو گی جلتے جسم پر
    کب تلک میری زمیں سے یوں لڑے گا آسمان
    ۔۔۔ جلتا جسم کس کا ہے یہ واضح نہیں لگتا

    چاند سے بھی خوبصورت میں بناؤں گا تمہیں
    چاند اپنا چھوڑ کر تم پر مرے گا آسمان
    ۔۔۔ ٹھیک
    ابھی نظر پڑی ہے کہ ان قوافی کے ساتھ 'جلے' اور 'لڑے' قوافی درست نہیں رہیں گے۔
    مطلع میں کوئی ایک قافیہ تبدیل کر لیا جائے تو درست ہو سکتے ہیں

    ہم ستونوں کے اگر پیروں تلے سے یہ زمین
    تم نے کھینچی تو زمیں پر گر پڑے گا آسمان
    ۔۔۔۔ تم نے جب کھینچی زمیں پر گر پڑے گا آسمان
    بہتر ہو گا۔ مگر قافیہ غلط ہے

    یوں زمیں پر کھینچوں گا عمران میں نقش و نگار
    رو پڑے گا ، جب مرے غم کو پڑھے گا آسمان
    ۔۔۔۔ کھینچوں میں حروف کا اسقاط ناگوار ہے، اس کے علاوہ قافیہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    337
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    شکریہ سر مطلع کا ایک قافیہ ڑے میں کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
    یہ شعر دیکھیں
    روز رکھ کر ہاتھ پر جلتا ہوا اک آفتاب
    جب جلائے گا ہمیں ، خود بھی جلے گا آسمان
     
  4. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    337
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    یہ مطلع کیسا رہے گا
    مجھکو لے جا کر ستاروں میں جڑے گا آسمان
    پھر زمیں کا یہ خلا کیسے بھرے گا آسمان
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 16, 2019
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,720
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    درست قوافی کے لیے آخری متحرک حرف کے بعد کے حروف یکساں ہونے ضروری ہیں۔ یا تو سارے قوافی رے والے ہوں یا سارے ڑے پر ختم ہونے والے ہوں۔
    بہتر یہ ہے کہ ڑے والے قوافی کو بھی رے والوں سے بدلا جائے۔ یا ان کو محض ے والا کر دیا جائے.. جمے، لکھے، سنے، کہے، لے وغیرہ
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    337
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    غزل میں قوافی حرف ے کو ہی مدنظر رکھ کر لئے ہیں لیکن ر اور ڑ تکرار زیادہ ہے ایک قافیہ جلے مختلف ہے۔۔۔
    جڑے ، بھرے ، جلے ، کرے ، مرے ، پڑھے وغیرہ۔۔۔

    اگر کہیں تبدیلی کی ضرورت ہے تو سر اصلاح کر دیں۔۔۔
     
  7. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    337
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    کب تلک پتھروں کی بارش ہو گی میرے جسم پر
    کب تلک میری زمیں سے یوں لڑے گا آسمان
     
  8. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    337
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
    مجھکو لے جا کر ستاروں میں جڑے گا آسمان
    پھر زمیں کا یہ خلا کیسے بھرے گا آسمان

    شام کی سرخی پہن کر اور بن کر اک دلہن
    رات کی کالی سیاہی اوڑھ لے گا آسمان

    روز رکھ کر ہاتھ پر جلتا ہوا اک آفتاب
    جب جلائے گا ہمیں ، خود بھی جلے گا آسمان

    چاند سے بھی خوبصورت میں بناؤں گا تمہیں
    چاند اپنا چھوڑ کر تم پر مرے گا آسمان

    ہم ستونوں کے اگر پیروں تلے سے یہ زمین
    تم نے کھینچی تو زمیں پر آ لگے گا آسمان

    میں زمیں پر کھینچ ڈالوں کا کئی نقش و نگار
    رو پڑے گا ، جب مرے غم کو پڑھے گا آسمان

    کب تلک پتھروں کی بارش ہو گی میرے جسم پر
    کب تلک میری زمیں سے یوں لڑے گا آسمان

    جب ستارے ٹوٹ کر دیں گے گواہی درد کی
    دیکھنا عمران میری تب سنے گا آسمان
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 16, 2019
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,720
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    چاند سے بھی خوبصورت میں بناؤں گا تمہیں
    چاند اپنا چھوڑ کر تم پر مرے گا آسمان
    ... آسمان چاند پر مرتا ہے؟ عجیب شعر لگا

    ہم ستونوں کے اگر پیروں تلے سے یہ زمین
    تم نے کھینچی تو زمیں پر آ لگے گا آسمان
    ... ہم ستونوں سے فاعل محض ہم لگتا ہے جب کہ کہنا یہ تھا کہ ہم وہ ستون ہیں جن پر آسمان ٹھہرا ہے، شعر عجز بیان کا شکار ہے

    کب تلک پتھروں کی بارش ہو گی میرے جسم پر
    کب تلک میری زمیں سے یوں لڑے گا آسمان
    .. پتھروں کا درست تلفظ نہیں باندھا گیا
    باقی اشعار ٹھیک لگ رہے ہیں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    337
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    شکریہ سر۔۔۔
    یہ شعر کیسا ہے
    میں ستوں ہوں گر مرے پیروں تلے سے یہ زمین
    تم نے کھینچی تو زمیں پر آ لگے گا آسمان

    اور ' تم پر مرے گا آسمان ' کی جگہ ' تم سے جلے گا آسمان ' کر دیا جائے تو درست ہو جائے گا شعر
     
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,720
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پہلا مصرعہ بہتر ہو گیا
    دوسرے مصرعے کو
    کھینچ لی تم نے، زمیں... کر دو تو بہتر ہے

    مرے گا یا جلے گا دونوں ایک ہی بات ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    337
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    بہتر سر۔۔۔
    میں ستوں ہوں گر مرے پیروں تلے سے یہ زمین
    کھینچ لی تم نے ، زمیں پر آ لگے گا آسمان

    کب تلک ہوتی رہیں گے پتھروں کی بارشیں
    کب تلک میری زمیں سے یوں لڑے گا آسمان
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 17, 2019
  13. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,720
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اب درست ہو گئے اشعار
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  14. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    337
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    بہت شکریہ سر۔۔۔
     
  15. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    337
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    مجھکو لے جا کر ستاروں میں جڑے گا آسمان
    پھر زمیں کا یہ خلا کیسے بھرے گا آسمان

    شام کی سرخی پہن کر اور بن کر اک دلہن
    رات کی کالی سیاہی اوڑھ لے گا آسمان

    روز رکھ کر ہاتھ پر جلتا ہوا اک آفتاب
    جب جلائے گا ہمیں ، خود بھی جلے گا آسمان

    میں ستوں ہوں گر مرے پیروں تلے سے یہ زمین
    کھینچ لی تم نے ، زمیں پر آ لگے گا آسمان

    کب تلک ہوتی رہیں گے پتھروں کی بارشیں
    کب تلک میری زمیں سے یوں لڑے گا آسمان

    میں زمیں پر کھینچ ڈالوں کا کئی نقش و نگار
    رو پڑے گا ، جب مرے غم کو پڑھے گا آسمان

    جب ستارے ٹوٹ کر دیں گے گواہی درد کی
    دیکھنا عمران میری تب سنے گا آسمان
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر