غزل برائے اصلاح

الف عین
یاسر شاہ
عظیم
فلسفی
سر اصلاح کے لئے گذارش ہے

مجھے یوں کفن میں وہ دیکھ کر ہوئے اشکبار نہ پوچھیے
تہہِ خاک مَیں بھی ہوں مضطرب مرا اضطرار نہ پوچھیے

کوئی ایسا رستہ نکالیے مجھے ٹوٹنے سے بچائے جو
میں بکھر رہا ہوں گھڑی گھڑی مرا حالِ زار نہ پوچھیے

مری تلخیوں کو سمیٹ کر نئی زندگی مجھے دیجیے
ہوا عشق میں، جو مَیں کیا سے کیا یہی بار بار نہ پوچھیے

مجھے درد جو بھی ملا کئے وہ زبان تک نہیں آ سکے
رہی کس قدر مری موت بھی مری پاسدار نہ پوچھیے

کبھی مست مست وہ اٹکھیلیاں تمھیں سوجھتی تھیں پہیلیاں
وہ کہاں گئیں مری شوخیاں میں ہوں بیقرار نہ پوچھیے

کبھی کلفتوں میں گذر گئی کبھی ہمسفر تھیں اداسیاں
میں تو موسموں سے ہوں بے خبر ہے کہاں بہار نہ پوچھیے

کبھی جگنوؤں کو جو ہاتھ میں لئے کھیلتا تھا سعید جب
گئے دن کہاں وہ قرار کے مرے رازدار نہ پوچھیے
 

الف عین

لائبریرین
درست لگ رہی ہے غزل ایک دو خامیوں کو چھوڑ کر.
۔ لیکن نہ پوچھیے سے پہلے کوما لگا دیں ہرجگہ
میں بکھر رہا ہوں گھڑی گھڑی مرا حالِ زار نہ پوچھیے
.. ہر گھڑی بہتر ہو گا، بلکہ گھڑی کے بچانے
میں بکھر رہا ہوں جو مستقل، مرا حالِ زار نہ پوچھیے
بہتر ہے

کبھی مست مست وہ اٹکھیلیاں تمھیں سوجھتی تھیں پہیلیاں
بحر سے خارج ہو گیا اٹھکھیلیاں کی جگہ شوخیاں استعمال کریں
باقی شاید درست ہے
 
درست لگ رہی ہے غزل ایک دو خامیوں کو چھوڑ کر.
۔ لیکن نہ پوچھیے سے پہلے کوما لگا دیں ہرجگہ
میں بکھر رہا ہوں گھڑی گھڑی مرا حالِ زار نہ پوچھیے
.. ہر گھڑی بہتر ہو گا، بلکہ گھڑی کے بچانے
میں بکھر رہا ہوں جو مستقل، مرا حالِ زار نہ پوچھیے
بہتر ہے

کبھی مست مست وہ اٹکھیلیاں تمھیں سوجھتی تھیں پہیلیاں
بحر سے خارج ہو گیا اٹھکھیلیاں کی جگہ شوخیاں استعمال کریں
باقی شاید درست ہے

سر اگر یوں کر لوں
کبھی مست مست وہ شوخیاں تمھیں سوجھتی تھیں پہیلیاں۔
وہ کہاں گئیں مری راحتیں میں ہوں بےقرار نہ پوچھیے
 
Top