غزل برائے اصلاح

سر الف عین
یاسر شاہ
عظیم
فلسفی
محمد خلیل الرحمٰن


میری سوچیں نکھارنے والے
میری راہیں سدھارنے والے
.....................................
میں غریبِ وطن ہوں سن لینا
دل میں نشتر اتارنے والے
....................................
ہم مسافت سے ہیں بہت نالاں
دُور سے اے پکارنے والے
..................................
دل کی تعمیر روز کرتے ہیں
ہجر میں شب گزارنے والے
.....................................
اپنے جذبوں کو تم نہ کھو دینا.
میرے جذبے ابھآرنے والے
......................................
الجھنوں میں نہ تم الجھ جانا
میری حالت سنوارنے والے
......................................
عشق میں کامیاب ہوتے ہیں
اپنی ہستی کو مارنے والے
......................................
دکھ جوتم نے دئیے مجھے تاعمر
ہیں وہ اب مجھ سے ہارنے والے.
 

عظیم

محفلین
عشق میں کامیاب ہوتے ہیں
اپنی ہستی کو مارنے والے
۔۔۔ہستی کو مارنا جچ نہیں رہا، آپ اپنے کو مارنے والے کیا جا سکتا ہے
باقی غزل مجھے درست لگ رہی ہے۔ مطلع اور اگلا شعر اگر قطعہ ہے تو اس کا ذکر غزل کے شروع میں 'ق' کے نشان سے کرنا چاہیے۔ ورنہ مطلع صرف دو لائینیں ہی بن کر رہ جائے گا!
 
عشق میں کامیاب ہوتے ہیں
اپنی ہستی کو مارنے والے
۔۔۔ہستی کو مارنا جچ نہیں رہا، آپ اپنے کو مارنے والے کیا جا سکتا ہے
باقی غزل مجھے درست لگ رہی ہے۔ مطلع اور اگلا شعر اگر قطعہ ہے تو اس کا ذکر غزل کے شروع میں 'ق' کے نشان سے کرنا چاہیے۔ ورنہ مطلع صرف دو لائینیں ہی بن کر رہ جائے گا!
شکریہ عظیم بھائی
 

الف عین

لائبریرین
عظیم سے متفق ہوں
دل کی تعمیر روز کرتے ہیں
ہجر میں شب گزارنے والے
....................................
ابلاغ نہیں ہو سکا دونوں مصرعوں میں ربط نہیں لگتا
 
Top