غزل برائے اصلاح

الف عین ، عظیم
---------------
افاعیل--- فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
-------------
خود ذرا تم سوچ لو کیسی تری گفتار ہے
پھر بھی مجھ سے کہہ رہے ہو ہم کو تم سے پیار ہے
----------------
سب جہاں ناراض مجھ سے ساتھ تیرے دیکھ کر
پیار کر کے دکھ اُٹھائے یہ مرا کردار ہے
----------------------------
ساتھ چلنا اس جہاں کے اب رہا ممکن نہیں
لوگ سرپٹ بھاگتے ہیں یہ اُن کی رفتار ہے
---------------
بھوک سے مر رہے ہیں ، مال کچھ کے پاس ہے
سوچتا ہوں میں ہمیشہ ، کیسا یہ سنسار ہے
--------------------
دیکھتا ہوں میں اُسے ، وہ حسن پر مغرور ہے
وہ سمجھتا ہے یہی تو ، اس کا یہ دربار ہے
-----------------
چال دنیا چل رہی ہے کر دیں ہم کو وہ جدا
پیار کرنا اس طرح تو ہو گیا دشوار ہے
--------------------
پیار سب حالات میں بھی ، ہم تو دیں گے یار کو
ساتھ دے گا یار میرا ، وہ بڑا جی دار ہے
------------
پیار ارشد کر رہے ہو ، ڈر نہ جانا تم کبھی
جان جائے پیار میں تو ہم کو کب انکار ہے
---------------------
 

عظیم

محفلین
خود ذرا تم سوچ لو کیسی تری گفتار ہے
پھر بھی مجھ سے کہہ رہے ہو ہم کو تم سے پیار ہے
----------------شعر میں شتر گربہ سدھارتے سدھارتے ابب مصرع میں آنا شروع؟ پہلے مصرع پر آپ خود غور کریں

سب جہاں ناراض مجھ سے ساتھ تیرے دیکھ کر
پیار کر کے دکھ اُٹھائے یہ مرا کردار ہے
----------------------------'ناراض مجھ سے' کا حصہ کسی اور طرھ سے کہیں 'ہے' کی کمی ہے اور 'سب جہاں' بھی اچھا نہیں لگ رہا

ساتھ چلنا اس جہاں کے اب رہا ممکن نہیں
لوگ سرپٹ بھاگتے ہیں یہ اُن کی رفتار ہے
---------------'اب نہیں ممکن رہا' اور 'ان کی یہ رفتار ہے'

بھوک سے مر رہے ہیں ، مال کچھ کے پاس ہے
سوچتا ہوں میں ہمیشہ ، کیسا یہ سنسار ہے
--------------------شاید 'ہم' ٹائپ نہیں ہوا!۔ مال کچھ کے پاس بھی کوئی اچھا انداز بیان نہیں، اس مصرع کو بھی دوبارہ کہنے کی ضرورت ہے
دونوں مصرعوں کا اختتام ایک ہی جیسے لفظ پر ہو تو وہ اچھا نہیں لگتا 'ہے' آپ کی ردیف ہے تو پہلے مصرع کے خاتمے پر بھی 'ہے' ہی آ گیا ہے، ردیف کی طرح کا لفظ پہلے مصرع کے اختتام پر استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے

دیکھتا ہوں میں اُسے ، وہ حسن پر مغرور ہے
وہ سمجھتا ہے یہی تو ، اس کا یہ دربار ہے
-----------------دونوں مصرعوں کے اختتام پر 'ہے'

چال دنیا چل رہی ہے کر دیں ہم کو وہ جدا
پیار کرنا اس طرح تو ہو گیا دشوار ہے
--------------------کہ ہم کو جدا کر دیں، سے بات واضح ہوتی ہے۔ یعنی 'کہ' کی ضرورت ہے یا کسی اور طرح سے کہنے کی کوشش کریں

پیار سب حالات میں بھی ، ہم تو دیں گے یار کو
ساتھ دے گا یار میرا ، وہ بڑا جی دار ہے
------------الفاظ کی نشست بدل کر دوبارہ کہیں، مثلاً ہم کریں گے پیار سب. ۔

پیار ارشد کر رہے ہو ، ڈر نہ جانا تم کبھی
جان جائے پیار میں تو ہم کو کب انکار ہے
---------------------عشق کرتے ہو تم ارشد ڈر نہ جانا اب کبھی
بہتر مصرع ہے، اسی طرھ دوسرے مصرع کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کریں
 
@عظیم،الف عین
اصلاح کے بعد دوبارا حاضرِ خدمت
---------------------------
نفرتوں کا آج تیری بات میں اظہار ہے
سوچتا ہوں یہ تمارا کس طرح کا پیار ہے
--------------------
ساتھ تیرے دیکھ کر مجھ سے سبھی ناراض ہیں
پیار کر کے دکھ اُٹھائے یہ مرا کردار ہے
---------------------
ساتھ چلنا اس جہاں کے اب نہیں ممکن رہا
لوگ سرپٹ بھاگتے ہیں اُن کی یہ رفتار ہے
------------------
مال کچھ کے پاس ہے، ہم مر رہے ہیں بھوک سے
سوچتا ہوں میں ہمیشہ ، کیسا یہ سنسار ہے
-----------------
حسن پر مغرور ہے وہ ، دیکھتا ہوں جب اسے
وہ سمجھتا ہے یہی تو ، اس کا یہ دربار ہے
-----------------
غم جدائی کا ملا ہے چاہتا تھا یہ جہاں
پیار کرنا اس طرح تو ہو گیا دشوار ہے
--------------------
ہم کریں گے پیار دونوں جو بھی ہوں حالات اب
ساتھ دے گا یار میرا ، وہ بڑا جی دار ہے
-------------------------
عشق کرتے ہو تم ارشد ڈر نہ جانا اب کبھی
جان جائے عشق میں تو کب ہمیں انکار ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

عظیم

محفلین
نفرتوں کا آج تیری بات میں اظہار ہے
سوچتا ہوں یہ تمارا کس طرح کا پیار ہے
--------------------مطلع تو بہت اچھا اور رواں لے آئیں ہیں اب لیکن شتر گربہ نے جان نہیں چھوڑی۔ تیری اور تمہار
سوچتا ہوں میں کہ تیرا کس طرح کا پیار ہے
کیا جا سکتا ہے

ساتھ تیرے دیکھ کر مجھ سے سبھی ناراض ہیں
پیار کر کے دکھ اُٹھائے یہ مرا کردار ہے
---------------------'سبھی' کی جگہ 'ہیں سب' لے آئیں کسی طرح، باقی بہت بہتر ہو گیا ہے

ساتھ چلنا اس جہاں کے اب نہیں ممکن رہا
لوگ سرپٹ بھاگتے ہیں اُن کی یہ رفتار ہے
------------------'سرپٹ بھاگتے' میرے لیے نیا ہے اس لیے یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ درست ہے یا نہیں ۔ البتہ 'ان کی یہ رفتار' رواں تو ہو گیا ہے لیکن کچھ عجیب لگ رہا ہے مطلب سمجھ میں نہیں آ رہا

مال کچھ کے پاس ہے، ہم مر رہے ہیں بھوک سے
سوچتا ہوں میں ہمیشہ ، کیسا یہ سنسار ہے
-----------------پہلا مصرع ابھی بھی رواں نہیں الفاظ کی نشست بدل کر دوبارہ کوشش کریں
دوسرے مصرع میں 'کیسا' کا الف گرنا بھی اچھا نہیں لگ رہا

حسن پر مغرور ہے وہ ، دیکھتا ہوں جب اسے
وہ سمجھتا ہے یہی تو ، اس کا یہ دربار ہے
-----------------لیکن کس چیز کو وہ دربار سمجھ رہا ہے ؟ میرا خیال ہے کہ اس کو دوبارہ ہی کہہ لیں

غم جدائی کا ملا ہے چاہتا تھا یہ جہاں
پیار کرنا اس طرح تو ہو گیا دشوار ہے
--------------------'یہی چاہتا تھا جہاں' کا محل ہے اور دوسرا مصرع بھی رواں نہیں ہے شاید 'تو' کے طویل کھچنے کی وجہ سے!

ہم کریں گے پیار دونوں جو بھی ہوں حالات اب
ساتھ دے گا یار میرا ، وہ بڑا جی دار ہے
-------------------------دو لخت، دوسرے مصرع میں خطاب کس سے ہے؟

عشق کرتے ہو تم ارشد ڈر نہ جانا اب کبھی
جان جائے عشق میں تو کب ہمیں انکار ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جان بھی جائے اگر عاشق کی کب انکار ہے
لیکن دونوں مصرعے میرے ہی ہو جائیں گے
 

الف عین

لائبریرین
نفرتوں کا آج تیری بات میں اظہار ہے
سوچتا ہوں یہ تمارا کس طرح کا پیار ہے
-------------------- شتر گربہ

ساتھ تیرے دیکھ کر مجھ سے سبھی ناراض ہیں
پیار کر کے دکھ اُٹھائے یہ مرا کردار ہے
--------------------- یہ کردار کی خوبی ہے؟

ساتھ چلنا اس جہاں کے اب نہیں ممکن رہا
لوگ سرپٹ بھاگتے ہیں اُن کی یہ رفتار ہے
------------------ درست، لیکن خیال کوئی خاص نہیں

مال کچھ کے پاس ہے، ہم مر رہے ہیں بھوک سے
سوچتا ہوں میں ہمیشہ ، کیسا یہ سنسار ہے
----------------- کچھ مر رہے.... بہتر ہو گا
دوسرے مصرعے کا پہلا ٹکڑا بے ربط ہے، کچھ ایسا ہو تو جس سے یہ تضاد واضح ہو

حسن پر مغرور ہے وہ ، دیکھتا ہوں جب اسے
وہ سمجھتا ہے یہی تو ، اس کا یہ دربار ہے
----------------- دربار شاہوں کا ہوتا ہے، اس مناسبت سے کچھ پہلا مصرع ہونا تھا۔ دیکھتا ہوں... والا ٹکڑا بھرتی کا ہے

غم جدائی کا ملا ہے چاہتا تھا یہ جہاں
پیار کرنا اس طرح تو ہو گیا دشوار ہے
-------------------- دو لخت ہے

ہم کریں گے پیار دونوں جو بھی ہوں حالات اب
ساتھ دے گا یار میرا ، وہ بڑا جی دار ہے
------------------------ پیار میں ساتھ دینا جی داری کی بات ہے؟

عشق کرتے ہو تم ارشد ڈر نہ جانا اب کبھی
جان جائے عشق میں تو کب ہمیں انکار ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شتر گربہ
 
الف عین، عظیم
ایک بار پھر بڑے بھائی اور چھوٹے بھائی کی خدمت میں
-----------------------
نفرتوں کا آج تیری بات میں اظہار ہے
یار مجھ کو یہ بتا کیسا ترا یہ پیار ہے
-------------------
لوگ ہیں ناراض مجھ سے ساتھ تیرے دیکھ کر
روز مجھ سے ہو رہی یہ لوگوں کی تکرار ہے
---------
ساتھ چلنا اس جہاں کے اب نہیں ممکن رہا
لوگ سرپٹ بھاگتے ہیں اُن کی یہ رفتار ہے
--------------------
مال کچھ کے پاس ہے، کچھ مر رہے ہیں بھوک سے
اس لئے تو ہر کسی کی تلخ ہی گفتار ہے
-----------------
حسن پر مغرور ہے وہ ، دیکھتا ہے اس طرح
لوگ خادم ہیں اسی کے ، اس کا یہ دربار ہے
----------------
لوگ چالیں چل رہے ہیں ، کر نہ پائیں گے جدا
پیار کرنا اس طرح تو ہو گیا دشوار ہے
--------------
ہم کریں گے پیار دونوں جو بھی ہوں حالات اب
پیار کے جذبات سے دل دونوں کا سرشار ہے
--------------------
عشق کرتے ہو تم ارشد ڈر نہ جانا اب کبھی
عشق مانگے جان بھی تو کب مجھے انکار ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
مطلع اس طرح بھی ہو سکتا ہے
--------------
پیار ممکن تب ہی ہو گا ، دل میں گر ایثار ہے
دل لگی کو پیار سمجھو ، اس طرح بیکار ہے
----------------
 

عظیم

محفلین
نفرتوں کا آج تیری بات میں اظہار ہے
یار مجھ کو یہ بتا کیسا ترا یہ پیار ہے
-------------------مطلع یہی والا بہتر ہے۔ شتر گربہ کو ختم کرنے کے لیے میں نے جو مشورہ دیا تھا وہ آپ کو قبول نہیں؟

لوگ ہیں ناراض مجھ سے ساتھ تیرے دیکھ کر
روز مجھ سے ہو رہی یہ لوگوں کی تکرار ہے
---------دوسرا مصرع دوبارہ کہیں۔ صرف تکرار سے بات واضح نہیں ہو رہی

ساتھ چلنا اس جہاں کے اب نہیں ممکن رہا
لوگ سرپٹ بھاگتے ہیں اُن کی یہ رفتار ہے
--------------------اس کے بارے میں بابا فرما چکے ہیں

مال کچھ کے پاس ہے، کچھ مر رہے ہیں بھوک سے
اس لئے تو ہر کسی کی تلخ ہی گفتار ہے
-----------------ابھی بھی بات نہیں بنی
دوسرا مصرع ایسا کہیں جس کا پہلے کے ساتھ کچھ ربط ہو


حسن پر مغرور ہے وہ ، دیکھتا ہے اس طرح
لوگ خادم ہیں اسی کے ، اس کا یہ دربار ہے
----------------'اس طرح' کس طرح؟ لوگوں کو اس طرح دیکھتا ہے کہ اس کے خادم ہوں؟ اگر یہی کہنا چاہتے ہیں تو یہ بات واضح نہیں ہوتی۔ اور دربار والا ٹکڑا ابھی بھی الگ ہی لگ رہا ہے مکمل شعر سے

لوگ چالیں چل رہے ہیں ، کر نہ پائیں گے جدا
پیار کرنا اس طرح تو ہو گیا دشوار ہے
--------------پہلے مصرع میں 'مگر' یا 'لیکن' کی کمی ہے اور دوسرا مصرع ایک الگ ٹکڑا ہے۔ یعنی دو الگ الگ باتیں ہیں آپس میں کوئی ربط نہیں

ہم کریں گے پیار دونوں جو بھی ہوں حالات اب
پیار کے جذبات سے دل دونوں کا سرشار ہے
--------------------'دونوں کا دل سرشار' میرے خیال میں زیادہ روان رہے گا

عشق کرتے ہو تم ارشد ڈر نہ جانا اب کبھی
عشق مانگے جان بھی تو کب مجھے انکار ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے اپنے ہی تجویز کردہ مصرع میں مجھے 'اب' اضافی لگ رہا تھا
دوسرا مصرع بھی کچھ کام نہیں کر پایا
کسی اور طرح کہیں
 
آخری تدوین:
عظیم
عظیم بھائی بار بار تنگ کر رہا ہوں امید ہے ناراض نہیں ہوں گے ۔ استادِ محترم اور آپ کی کوششوں سے سیکھ رہا ہوں۔۔ شکریہ
-----------------------
نفرتوں کا آج تیری بات میں اظہار ہے
سوچتا ہوں یار تیرا کس طرح کا پیار ہے (سوچتا ہوں یہ تمہارا کس طرح کا پیار ہے
---------
لوگ ہیں ناراض مجھ سے ساتھ تیرے دیکھ کر
ساتھ دوں گا میں ترا ہی تُو مرا دلدار ہے
------------------
ساتھ چلنا اس جہاں کے اب نہیں ممکن رہا
لوگ سرپٹ بھاگتے ہیں اُن کی یہ رفتار ہے
--------یا ----
ساتھ چلنے کے لئے وہ سوچ بھی درکار ہے
---------------
بھوک سے کچھ مر رہے ہیں ، مال کچھ کے پاس ہے
آدمی سے آدمی ہی برسرِ پیکار ہے
------------------------
چاہتا ہوں پیار اس کا وہ مجھے مطلوب ہے
وصل اس کا چاہتا ہوں یہ مرا اصرار ہے
----------
لوگ چالیں چل رہے ہیں ، جو ہیں دشمن پیار کے
پیار کرنا اس طرح تو ہو گیا دشوار ہے
--------یا ----
چھوڑ دیں کیا پیار کرنا، یہ بہت دشوار ہے
------------------
ہم کریں گے پیار دونوں جو بھی ہوں حالات اب
پیار کے جذبات سے دونوں کا دل سرشار ہے
---------------------
جان دینا عشق میں تو عشق کی معراج ہے
ہے تقاضا عشق کا ارشد کو کب انکار ہے
----------------
------ یا----
پیار ارشد جان مانگے اور بھلا کیا چاہئے
ہے ضرورت عشق کی تو کب ہمیں انکار ہے
----------------
 

عظیم

محفلین
نفرتوں کا آج تیری بات میں اظہار ہے
سوچتا ہوں یار تیرا کس طرح کا پیار ہے (سوچتا ہوں یہ تمہارا کس طرح کا پیار ہے
---------دوسرے متبادل مصرع میں تو پھر شتر گربہ ہے! اور پہلے متبادل میں یار بھرتی کا لگ رہا ہے

لوگ ہیں ناراض مجھ سے ساتھ تیرے دیکھ کر
ساتھ دوں گا میں ترا ہی تُو مرا دلدار ہے
------------------دوسرے مصرع میں کسی طرح 'پھر بھی' جیسے الفاظ لائیں۔ 'ساتھ تیرے' بھی اب اچھا نہیں لگ رہا

ساتھ چلنا اس جہاں کے اب نہیں ممکن رہا
لوگ سرپٹ بھاگتے ہیں اُن کی یہ رفتار ہے
--------یا ----
ساتھ چلنے کے لئے وہ سوچ بھی درکار ہے
---------------وہ سوچ کون سی؟ اس شعر کو نکال ہی دیں

بھوک سے کچھ مر رہے ہیں ، مال کچھ کے پاس ہے
آدمی سے آدمی ہی برسرِ پیکار ہے
------------------------دوسرے مصرع میں غریب اور امیر کی کوئی بات لے آتے
یا فضول خرچی وغیرہ کا ذکر جو پہلے مصرع سے ربط قائم کرتا

چاہتا ہوں پیار اس کا وہ مجھے مطلوب ہے
وصل اس کا چاہتا ہوں یہ مرا اصرار ہے
----------دونوں مصرعوں میں تقریباً ایک ہی بیان

لوگ چالیں چل رہے ہیں ، جو ہیں دشمن پیار کے
پیار کرنا اس طرح تو ہو گیا دشوار ہے
--------یا ----
چھوڑ دیں کیا پیار کرنا، یہ بہت دشوار ہے
------------------دوسرا متبادل بہتر ہے

ہم کریں گے پیار دونوں جو بھی ہوں حالات اب
پیار کے جذبات سے دونوں کا دل سرشار ہے
---------------------دونوں دو بار آ گیا ہے

جان دینا عشق میں تو عشق کی معراج ہے
ہے تقاضا عشق کا ارشد کو کب انکار ہے
----------------
------ یا----
پیار ارشد جان مانگے اور بھلا کیا چاہئے
ہے ضرورت عشق کی تو کب ہمیں انکار ہے
۔۔۔پہلا مقطع بہتر ہے لیکن 'تو' طویل کھنچ رہا ہے اور 'ہے' دونوں مصرعوں کے اختتام پر آ گیا ہے
اور دوسرا میں پہلے کے ساتھ ربط مضبوط نہیں 'یہ' یا 'یہی' کی کمی محسوس ہو رہی ہے
 
عظیم
ایک بار پھر معذرت کے ساتھ
-------------
نفرتوں کا ہی تمہاری بات میں اظہار ہے
سوچتا ہوں یہ تمہارا کس طرح کا پیار ہے
ساتھ تیرے دیکھ کر دنیا سبھی ناراض ہے
دوں گا تیرا ساتھ پھر بھی ، تُو مرا دلدار ہے
بھوک سے کچھ مر رہے ہیں ، مال کچھ کے پاس ہے
خرچ سب کے ایک جیسے یہ ہی بس معیار ہے
چاہتا ہوں پیار اس کا وہ مجھے مطلوب ہے
بھاگتا ہے پیار سے میرا یہی اصرار ہے
ہم کریں گے پیار دونوں جو بھی ہوں حالات اب
دل ہمارا پیار کے جذبات سے سرشار ہے
عشق کی معراج یہ ہے جان دیں گے عشق میں
ہے تقاضا عشق کا ارشد کو کب انکار ہے
 

عظیم

محفلین
نفرتوں کا ہی تمہاری بات میں اظہار ہے
سوچتا ہوں یہ تمہارا کس طرح کا پیار ہے
۔۔۔'نفرتوں' کے ساتھ صرف 'بات' درست نہیں رہے گا۔ اور دوسرے مصرع میں 'یہ' کی جگہ 'میں' اچھا لگ رہا ہے

ساتھ تیرے دیکھ کر دنیا سبھی ناراض ہے
دوں گا تیرا ساتھ پھر بھی ، تُو مرا دلدار ہے
۔۔۔۔۔۔۔ساتھ تیرے دیکھ کر مجھ کو سبھی ناراض ہیں
لیکن مزید رواں بنانے کی کوشش کریں
اور دوسرا مصرع بھی رواں نہیں ہے۔ اس کے علاوہ 'کہ تو مرا دلدار ہے' کی معنویت درکار ہے

بھوک سے کچھ مر رہے ہیں ، مال کچھ کے پاس ہے
خرچ سب کے ایک جیسے یہ ہی بس معیار ہے
۔۔۔۔۔۔ابھی بھی واضح نہیں ہے
دونوں مصرعوں کے اختتام پر بھی غور کریں

چاہتا ہوں پیار اس کا وہ مجھے مطلوب ہے
بھاگتا ہے پیار سے میرا یہی اصرار ہے
۔۔۔۔۔۔اس کے بھی دونوں مصرعوں کا اختتام اور دوسرا مصرع میں بات ادھوری ہے
پہلے میں بھی صرف مصرع پورا کرنے کی کوشش لگ رہی ہے 'چاہتا ہوں پیار' اور 'وہ مجھے مطلوب ہے' کہہ کر

ہم کریں گے پیار دونوں جو بھی ہوں حالات اب
دل ہمارا پیار کے جذبات سے سرشار ہے
۔۔۔۔'دونوں' اضافی لگ رہا ہے۔ اور شعر میں ربط کے لیے دوسرے مصرع میں 'اس لیے' جیسے الفاظ درکار ہیں
یعنی اس لیے کہ ہمارا دل پیار کے جذبے سے سرشار ہے

عشق کی معراج یہ ہے جان دیں گے عشق میں
ہے تقاضا عشق کا ارشد کو کب انکار ہے
۔۔۔۔۔ دوسرا مصرع بیان کے اعتبار سے نامکمل ہے
 
Top