1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

غزل برائے اصلاح

ارشد چوہدری نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 27, 2019

ٹیگ:
  1. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,124
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    الف عین
    فلسفی، سعید احمد سجّاد،عظیم ،وارث، یاسر شاہ و دیگر
    مفاعلن مفاعلن مفاعلن مفاعلن

    ---------------
    کرو کسی سے بات جب تو اس میں اک دلیل ہو
    نہ لغو بات ہو تری نہ بہت طویل ہو
    ---------------------
    دیا کرو غریب کو یہ کام ہے ثواب کا
    کبھی کبھی دیا کرو بھلے ہی وہ قلیل ہو
    ----------------
    اسی طرح ہے زندگی کبھی خوشی کبھی ہے غم ( کبھی خوشی کبھی ہےغم یہ زندگی کا راز ہے )
    خدا سے تم دعا کرو اگر کبھی علیل ہو
    -----------
    معاملاتِ زندگی ہیں ہر کسی کے مختلف
    گزارتے ہیں جس طرح نہ تم کبھی دخیل ہو
    --------------
    کہاں چُھپے ہو یار تم کبھی کبھی ملا کرو
    بہت ہی دیر ہو چکی ملاپ کی سبیل ہو
    ----------------------
    پسر نہیں خدا کا تو یہ من گھڑت سی بات ہے
    جو مانتے ہو بات کو بہت ہی تم ذلیل ہو
    ----یا -------------
    کرو کبھی تو سامنے اگر تو کچھ دلیل ہو
    --------------------
    ملا ہے پیار یار کا گلہ نہیں کبھی کیا
    ترا نصیب ہے کہ پیار میں بھی خود کفیل ہو
    -------------- یا ---
    ملا تجھے نصیب ، پیار میں جو خود کفیل ہو
    ---------------
    نہ بوزنا سے کچھ کہو ، بلا سے وہ رہیں یہی
    نہ بوزنا سے کچھ کہو ، بلا سے وہ رہیں یہی
     
  2. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,124
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    الف عین
    -----
    آخری شعر
    -----
    نہ بوزنا سے کچھ کہو ،بلا سے وہ رہیں یہی
    تپے گا اُن کی بات سے، جوان کا ہی وکیل ہو
     
  3. انیس جان

    انیس جان محفلین

    مراسلے:
    400
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    مطلع کے مصرع ثانی کا توازن درست نہیں
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 27, 2019
    • متفق متفق × 1
  4. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,557
    کرو کسی سے بات جب تو اس میں اک دلیل ہو
    نہ لغو بات ہو تری نہ بہت طویل ہو
    ---------------------دوسرے مصرع میں 'تری' کی وجہ سے شتر گربہ پیدا ہو رہا ہے، پہلے مصرع میں آپ نے 'کرو' استعمال کیا ہے تو دوسرے مصرع میں اسی شخص کو مخاطب کرنے کے لیے 'تم' استعمال ہونا تھا۔ یعنی 'تم کرو' اسی طرح اگر صرف 'کر' کہا ہوتا تو اس کے ساتھ 'تو، تری، ترا وغیرہ استعمال ہو سکتا تھا۔
    اس کے علاوہ انیس جان کی بات درست ہے

    دیا کرو غریب کو یہ کام ہے ثواب کا
    کبھی کبھی دیا کرو بھلے ہی وہ قلیل ہو
    ----------------یہ بھی واضح کریں کہ کیا دیا کرو؟ پیسہ، کپڑا، دعا؟ یہ تو سمجھ آ جاتا ہے کہ خیرات کرنے کی بات ہو رہی ہے لیکن شعر کو واضح کرنا بھی اک خوبی ہے۔
    بھلا کرو غریب کا یہ کام ہے ثواب کا
    جو دے سکو ضرور دو بھلے ہی وہ قلیل ہو
    ایک مثال

    اسی طرح ہے زندگی کبھی خوشی کبھی ہے غم ( کبھی خوشی کبھی ہےغم یہ زندگی کا راز ہے )
    خدا سے تم دعا کرو اگر کبھی علیل ہو
    -----------پہلے دونوں مصرعے دوسرے مصرع کے ساتھ سوٹ نہیں کر رہے، دوبارہ کہنے کی کوشش کریں

    معاملاتِ زندگی ہیں ہر کسی کے مختلف
    گزارتے ہیں جس طرح نہ تم کبھی دخیل ہو
    --------------دوسرا مصرع غیر واضح ہے۔ یہ واضح نہیں ہوتا کہ جس طرح مرضی گزاریں تم دخل مت دو

    کہاں چُھپے ہو یار تم کبھی کبھی ملا کرو
    بہت ہی دیر ہو چکی ملاپ کی سبیل ہو
    ----------------------'ملن کی کچھ سبیل ہو' کر لیں

    پسر نہیں خدا کا تو یہ من گھڑت سی بات ہے
    جو مانتے ہو بات کو بہت ہی تم ذلیل ہو
    ----یا -------------
    کرو کبھی تو سامنے اگر تو کچھ دلیل ہو
    --------------------میں یہ مشورہ دوں گا کہ اس شعر کو نکال دیں، اس طرح کے اشعار سے گریز کرنا چاہیے جو کسی کے عقیدے یا مذہب کے بارے میں ہو اگرچہ وہ عقیدہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔

    ملا ہے پیار یار کا گلہ نہیں کبھی کیا
    ترا نصیب ہے کہ پیار میں بھی خود کفیل ہو
    -------------- یا ---
    ملا تجھے نصیب ، پیار میں جو خود کفیل ہو
    ---------------'گلہ نہیں کبھی کیا' غیر متعلق بات لگ رہی ہے۔ اور دوسرے دونوں مصرعے بھی وہ ربط پیدا نہیں کر رہے جو ہونا چاہیے۔ شعر مجموعی طور پر واضح نہیں

    نہ بوزنا سے کچھ کہو ، بلا سے وہ رہیں یہی
    نہ بوزنا سے کچھ کہو ، بلا سے وہ رہیں یہی
    ۔۔۔یہ شاید غلطی سے کاپی یا ٹائپ ہو گیا ہے
     
    • متفق متفق × 1
  5. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,124
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
  6. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,124
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,523
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    عظیم سے متفق ہوں، اس کا ذکر ریٹنگ میں کر دیا تھا
     
  8. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,124
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    الف عین ،عظیم
    --------------
    تبدیلیوں کے بعد دوبارا ( عظیم بھائی مذہبی، اختلافی اشعار نکال دیئے ہیں )
    -----------------------
    کبھی کسی سے بات ہو تو اس میں اک دلیل ہو
    نہ بات لغو ہو کبھی ، نہ بہت ہی طویل ہو (نہ بات لغو ہو کبھی ، نہ ہی وہ ثقیل ہو )
    ------------------------
    بھلا کرو غریب کا ، یہ کام ہے ثواب کا
    جو دے سکو ضرور دو ،بھلے ہی وہ قلیل ہو
    --------------
    اسی طرح ہے زندگی کبھی خوشی کبھی ہے غم
    خدا سے بس دعا کرو نہ غم کی شب طویل ہو
    -------------------
    معاملاتِ زندگی ہیں ہر کسی کے مختلف
    وہ طے کریں گے خود اُنہیں ، نہ تم کبھی دخیل ہو (جو جانتے ہیں حل ہے کیا ،نہ تم کبھی دخیل ہو )
    --------------
    کہاں چُھپے ہو یار تم ، کبھی کبھی ملا کرو
    بہت ہی دیر ہو چکی ،ملن کی کچھ سبیل ہو
    -------------------
    سفر تو شرط ہے مگر ، کیا کرے گا آدمی
    وہ کس طرح چلے گا پھر جو سامنے فصیل ہو ( سفر کرے گا کس طرح ، جو سامنے فصیل ہو
    ---------------------------
    جہالتوں کےراج میں کرے گا حق کی بات وہ
    جسے خدا کا خوف ہو ،نسب میں بھی اصیل ہو
    ---------------
    جو جس طرح بھی سوچ لے ، ہے سوچنے کا حق اُسے
    تمہیں ہے اُن کی فکر کیوں ،نہ اُن کے تم وکیل ہو
    --------------------------------
     
  9. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,124
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
  10. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,557
    کبھی کسی سے بات ہو تو اس میں اک دلیل ہو
    نہ بات لغو ہو کبھی ، نہ بہت ہی طویل ہو (نہ بات لغو ہو کبھی ، نہ ہی وہ ثقیل ہو )
    ------------------------پہلے مصرع کی پہلی شکل ہی بہتر تھی
    اور دوسرے مصرع کے دوسرے ٹکڑے کو مزید رواں کرنے کی ضرورت ہے، 'بہت' کا تلفظ غلط ہو گیا ہے، ہ پر زبر ہو گا

    بھلا کرو غریب کا ، یہ کام ہے ثواب کا
    جو دے سکو ضرور دو ،بھلے ہی وہ قلیل ہو
    --------------یہ تو میں نے ایک مثال دی تھی!

    اسی طرح ہے زندگی کبھی خوشی کبھی ہے غم
    خدا سے بس دعا کرو نہ غم کی شب طویل ہو
    ------------------'نہ دورِ غم طویل ہو' بہتر ہو گا۔ اس کے علاوہ 'یہی ہے زندگی' بھی زیادہ بہتر لگ رہا ہے اگر کسی طرح ان الفاظ کو لے آئیں

    معاملاتِ زندگی ہیں ہر کسی کے مختلف
    وہ طے کریں گے خود اُنہیں ، نہ تم کبھی دخیل ہو (جو جانتے ہیں حل ہے کیا ،نہ تم کبھی دخیل ہو )
    --------------دخیل ہو مجھے لگتا ہے کہ دخل دو کی بجائے ٹھیک نہیں رہے گا
    اس شعر کو اگر نکالنا چاہیں تو نکال دیں

    کہاں چُھپے ہو یار تم ، کبھی کبھی ملا کرو
    بہت ہی دیر ہو چکی ،ملن کی کچھ سبیل ہو
    -------------------'بہت ہی' دیر پچھلی بار رہ گیا تھا۔ بہت کے ساتھ ہی اچھا نہیں لگ رہا بس اس ٹکڑا کو بدلنے کی ضرورت ہے

    سفر تو شرط ہے مگر ، کیا کرے گا آدمی
    وہ کس طرح چلے گا پھر جو سامنے فصیل ہو ( سفر کرے گا کس طرح ، جو سامنے فصیل ہو
    ---------------------------کیا اگر کرنا والا ہے یعنی میں نے یہ کام کیا تو 'ک یا' تقیطیع ہو گا اور اگر سوالیہ ہے کہ میں کیا کروں؟ تو 'کا' تقطیع ہو گا
    'کرے گا کیا پھر آدمی' کر سکتے ہیں
    دوسرے مصرع کو کسی اور طرح سے کہنے کی کوشش کریں

    جہالتوں کےراج میں کرے گا حق کی بات وہ
    جسے خدا کا خوف ہو ،نسب میں بھی اصیل ہو
    ---------------یہ شعر میرا خیال ہے کہ ٹھیک ہے

    جو جس طرح بھی سوچ لے ، ہے سوچنے کا حق اُسے
    تمہیں ہے اُن کی فکر کیوں ،نہ اُن کے تم وکیل ہو
    -------------------------------یہ بھی درست
     
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,523
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    عظیم سے متفق ہوں
    مطلع کے ضمن میں مزید یہ کہ جب بات اس طرح کہی جائے کہ یا یوں ہو یا دوسری طرح تو ان دونوں میں تضاد ہونا چاہیے، طویل کے ساتھ مختصر، لغو کے ساتھ معنی خیز
    نہ ہو بہت ہی مختصر نہ وہ بہت طویل ہو
    ایک متبادل ہے
     

اس صفحے کی تشہیر