غزل برائے اصلاح

الف عین
خلیل الر حمن ، فلسفی ، عظیم و دیگر
-----------------
غم تمہارا ہی غم ہمارا ہے
وہ ہمیں جان سے بھی پیارا ہے
-------------
ہم اکیلے تو رہ نہیں سکتے
یاد تیری کا اک سہارا ہے
----------------
رب بچائے گا ہے یقیں ہم کو
دور چاہے ابھی کنارا ہے
----------------
ڈوب جانے کا ڈر نہیں ہم کو
کیوں ڈریں رب کا جو سہارا ہے
---------------
چوم کر زلف کو تیری ہم نے
دن خیالوں میں گزارا ہے
-----------------
وہ ہی سمجھے گا بات میری کو
جس نے ایسے ہی دن گزارا ہے
----------------
لگ نہ جائے تجھے نظر میری
میں نے صدقہ ترا اتارا ہے
----------------
یاد ارشد کی بات رکھنا تم
وہ تمہارا ہی تھا تمہارا ہے
-----------------
 

الف عین

لائبریرین
غم تمہارا ہی غم ہمارا ہے
وہ ہمیں جان سے بھی پیارا ہے
------------- وہ کون.. محبوب یا اس کا غم؟ اس کا غم ہے تو 'ہمارا ہے' سے نہیں، 'ہمارا بھی ہے' سے درست ہو گا

ہم اکیلے تو رہ نہیں سکتے
یاد تیری کا اک سہارا ہے
---------------- یاد تیری' مجہول ہے،' تیری یادوں' کہنے میں کیا قباحت ہے؟

رب بچائے گا ہے یقیں ہم کو
دور چاہے ابھی کنارا ہے
---------------- درست، اگرچہ بیانیہ اچھا نہیں

ڈوب جانے کا ڈر نہیں ہم کو
کیوں ڈریں رب کا جو سہارا ہے
---------------' کیوں ڈریں' اچھا نہیں لگتا۔
اپنے رب کا بڑا سہارا ہے
بہتر ہو گا

چوم کر زلف کو تیری ہم نے
دن خیالوں میں گزارا ہے
----------------- دوسرا مصرع نا مکمل! پہلے مصرع میں 'تری' کا محل ہے
دوسرے کو یوں کر دیں
بس خیالوں میں دن....

وہ ہی سمجھے گا بات میری کو
جس نے ایسے ہی دن گزارا ہے
---------------- بات میری؟ یہ کہاں کا محاورہ ہے؟ بار بار تمہارے اشعار میں آ جاتا ہے!
وہی سمجھے گا بات کو میری
یا
وہی سمجھے گا میری باتوں کو

لگ نہ جائے تجھے نظر میری
میں نے صدقہ ترا اتارا ہے
---------------- درست

یاد ارشد کی بات رکھنا تم
وہ تمہارا ہی تھا تمہارا ہے
------------- ٹھیک
 
Top