غزل برائے اصلاح : ہم نے دھڑکن سے جو کچھ سنا کہہ دیا

انس معین نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 15, 2020 4:10 صبح

  1. انس معین

    انس معین محفلین

    مراسلے:
    322
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    سر غزل برائے اصلاح : الف عین محمّد احسن سمیع :راحل:

    اس ستم گر کو جانِ وفا کہہ دیا
    ہم نے دھڑکن سے جو کچھ سنا کہہ دیا
    -------------
    آنسؤں کی جھڑی ہجر کی رات کو
    ان کی یادوں کا اک سلسلہ کہہ دیا
    -------------
    ہجر میں اپنا دم آنکھوں میں آگیا
    اور تم نے اسے رت جگا کہہ دیا
    -------------
    شعر ادرک سی تاثیر رکھتا ہے اور
    شیخ نے شاعروں کو برا کہہ دیا
    -------------
    بات تہذیب کی آج جس نے بھی کی
    اس کو ہم سب نے گزرا گیا کہہ دیا
    -------------
    اپنا مطلب تو یارو نکل آیا ہے
    کیا ہوا جو اسے بھی خدا کہہ دیا
    -------------
    حسنِ بنتِ حوا بیچ کر جاہلو
    تم نے سوچوں کو اپنی نیا کہہ دیا ؟
    -------------
    تم نے مخمور آنکھوں سے دیکھا اسے
    اور احمد نے دل کو ترا کہہ دیا
     
    آخری تدوین: ‏فروری 15, 2020 4:30 صبح
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,122
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اس ستم گر کو جانِ وفا کہہ دیا
    ہم نے دھڑکن سے جو کچھ سنا کہہ دیا
    ------------- درست، لیکن واضح نہیں

    آنسؤں کی جھڑی ہجر کی رات کو
    ان کی یادوں کا اک سلسلہ کہہ دیا
    ------------- یہ بھی واضح نہیں۔ کیا دونوں کو سلسلہ کہا گیا، آنسوؤں اور ہجر کی رات کو؟ یا ہجر کی رات میں محض آنسوؤں کی جھڑی کو؟

    ہجر میں اپنا دم آنکھوں میں آگیا
    اور تم نے اسے رت جگا کہہ دیا
    ------------- آنکھوں کی وں کا اسقاط اچھا نہیں
    ہجر میں اپنا آنکھوں میں دم آ گیا
    ہو سکتا ہے

    شعر ادرک سی تاثیر رکھتا ہے اور
    شیخ نے شاعروں کو برا کہہ دیا
    ------------- مزاحیہ لگتا ہے شعر۔ لہسن، دھنیا، ہلدی کچھ بھی لایا جا سکتا ہے نا!

    بات تہذیب کی آج جس نے بھی کی
    اس کو ہم سب نے گزرا گیا کہہ دیا
    ------------- گیا گزرا محاورہ ہوتا ہے مگر خیر، مجبوری میں گوارا کیا جا سکتا ہے

    اپنا مطلب تو یارو نکل آیا ہے
    کیا ہوا جو اسے بھی خدا کہہ دیا
    ------------- آیا کے الف کا اسقاط درست نہیں 'نکل ہی گیا' میں تاثر بھی بہتر محسوس ہوتا ہے

    حسنِ بنتِ حوا بیچ کر جاہلو
    تم نے سوچوں کو اپنی نیا کہہ دیا ؟
    ------------- حوا کی و پر تشدید ہوتی ہے، یہاں بغیر شد کے تقطیع ہو رہا ہے۔

    تم نے مخمور آنکھوں سے دیکھا اسے
    اور احمد نے دل کو ترا کہہ دیا
    ... ترا قافیہ سے مطلب 'تیرا' ہے تو شتر گربہ ہے، تو نے مخمور..... ہو سکتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,122
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بھائی محمد خلیل الرحمٰن محض بٹن دبا دیتے ہیں پسندیدگی کا ( یا 'زبردستی' کا) کچھ مزید نہیں کہتے! بلکہ بہتر ہو کہ مجھ سے پہلے ہی آ کر کچھ اغلاط کی نشاندہی کر دیا کریں ( اور میں متفق کا بٹن دبا دیا کروں مزید کچھ کہنا نہ ہو تو)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    8,282
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    صبح سے ارشد بھائی کی غزل پر غور کررہے تھے اور وہی موضوع تھا جس پر آپ نے بہت بہتر اور خوبصورت انداز میں قلم اٹھایا ، یعنی الفاظ کی نشست و برخواست۔ آپ کے تبصرے ہم سب مبتدیوں کو بہت غور سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. انس معین

    انس معین محفلین

    مراسلے:
    322
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    بہت شکریہ استادِ محترم بہتر کی کوشش کرتا ہوں
     
  6. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    394
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    مکرمی و استاذی، آداب!

    اگر مطلع کے مصرعوں کی ترتیب الٹ دی جائے تو کیا مفہوم واضح ہوتا ہے، اور ربط میں کچھ بہتری آتی ہے؟
    یعنی
    ہم نے دھڑکن سے جو کچھ سنا، کہہ دیا
    اس ستم گر کو جانِ وفا کہہ دیا
    الف عین
     

اس صفحے کی تشہیر