غزل برائے اصلاح-قید و بندِ وجود سے نکلیں

منذر رضا

محفلین
السلام علیکم،
اساتذہ سے اصلاح کی درخواست ہے
الف عین
یاسر شاہ
سید عاطف علی

قید و بندِ وجود سے نکلیں
روز و شب کے جمود سے نکلیں
یا تو اس سے کوئی سبق لیں، یا
قصۂ عاد و ہود سے نکلیں
آؤ ذکرِ جمالِ یار کریں
بحثِ غیب و شہود سے نکلیں
اب کے گمنام رہ کے کام کریں
آرزوئے نمود سے نکلیں
آپ اپنا جہاں بنائیں ہم
ملکِ چرخِ کبود سے نکلیں
دیدۂ دل کھلی، یگانہ ہم
اب طلسمِ وجود سے نکلیں

شکریہ!
 

الف عین

لائبریرین
اچھی غزل ہے بس یہ دو اشعار کچھ قابل توجہ ہیں
آپ اپنا جہاں بنائیں ہم
ملکِ چرخِ کبود سے نکلیں
یہ لگتا ہے کہ محض قافیہ استعمال کرنے کے لیے شعر کہا گیا ہے، آسمان کا ملک کسے کہا جا رہا ہے؟

دیدۂ دل کھلی، یگانہ ہم
اب طلسمِ وجود سے نکلیں
... دیدہ مذکر ہے،؛ س کے ساتھ 'کھلا' ہونا چاہیے۔ ویسے یہاں 'کھل گیا' بہتر ہے
چشمِ دل کھل گئی،... کیسا رہے گا؟
 

منذر رضا

محفلین
بہت شکریہ الف عین صاحب۔
یہ متبادل ذہن میں آیا ہے

آپ اپنا جہاں بنائیں ہم
آسماں کی حدود سے نکلیں

کیا یہ ٹھیک ہے؟
ممنون ہوں۔
 

منذر رضا

محفلین
شکریہ میم الف بھائی۔
قصۂ عاد و ہود حضرت ہود علیہ السلام اور ان کی قوم کا قصہ ہے۔ قوم نے حضرت ہود کی باتیں نہیں مانی اور نتیجتاً ایک آفت نے انہیں آ لیا۔
تفصیل علما ہی بہتر دے سکتے ہیں۔
 
Top