غزل برائے اصلاح ( فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن)

نوید ناظم

محفلین
اب ملا ہے حکم تو تعمیل ہونی چاہیے
از سرِ نو درد کی تشکیل ہونی چاہیے

خوب ڈوبا ہے رقیب اُن کی نشیلی آنکھوں میں
ڈوبنے کو دوست ایسی جھیل ہونی چاہیے

درد ڈالو تو خوشی بن کر نکل آیا کرے
اب کوئی اس طرح کی زنبیل ہونی چاہیے

دیکھ کر ہم کو وہ کیوں جلاد سے کہتے ہیں'' قتل''
اس کی کچھ تفسیر کچھ تفصیل ہونی چاہیے

یہ نہیں اچھا کہ عاشق ہجر کے ہاتھوں مرے
یہ روایت تو ابھی تبدیل ہونی چاہیے

بھِینچ لیتی ہے یہ میرے دل کو اپنے درمیاں
اس گِرہءِ زلف میں کچھ ڈھیل ہونی چاہیے
 

الف عین

لائبریرین
؟ قیباب ملا ہے حکم تو تعمیل ہونی چاہیے
از سرِ نو درد کی تشکیل ہونی چاہیے
÷÷ درد کی تشکیل تو نہیں ہوتی، ویسے اور کوئی غکطی نہیں۔

خوب ڈوبا ہے رقیب اُن کی نشیلی آنکھوں میں
ڈوبنے کو دوست ایسی جھیل ہونی چاہیے
÷÷پہلے مصرع کی روانی بہتر ہو سکتی ہے، جیسے
ان نشیلی انکھڑیوں میں خوب ڈوبا ہے رقیب

درد ڈالو تو خوشی بن کر نکل آیا کرے
اب کوئی اس طرح کی زنبیل ہونی چاہیے
۔۔زنبیل تو ایسی چیز تھی جس میں جتنا سامان ڈالا جائے، وہ سب سما سکتا تھا۔ یہ معنی تو راست نہیں نکلتے، لیکن’اس طرح کی زنبیل‘ سے رعایت مل جاتی ہے۔ اور شعر درست ہو جاتا ہے۔

دیکھ کر ہم کو وہ کیوں جلاد سے کہتے ہیں'' قتل''
اس کی کچھ تفسیر کچھ تفصیل ہونی چاہیے
÷÷درست

یہ نہیں اچھا کہ عاشق ہجر کے ہاتھوں مرے
یہ روایت تو ابھی تبدیل ہونی چاہیے
÷÷’ابھی‘ کی جگہ محض ’اب‘ لا سکو تو بہتر ہے۔

بھِینچ لیتی ہے یہ میرے دل کو اپنے درمیاں
اس گِرہءِ زلف میں کچھ ڈھیل ہونی چاہیے
۔۔گرہَ زلف۔ ’گرہ، اے زلف‘ تقطیع ہوتا ہے۔ یہ غلط ہے۔
 

نوید ناظم

محفلین
؟ قیباب ملا ہے حکم تو تعمیل ہونی چاہیے
از سرِ نو درد کی تشکیل ہونی چاہیے
÷÷ درد کی تشکیل تو نہیں ہوتی، ویسے اور کوئی غکطی نہیں۔

خوب ڈوبا ہے رقیب اُن کی نشیلی آنکھوں میں
ڈوبنے کو دوست ایسی جھیل ہونی چاہیے
÷÷پہلے مصرع کی روانی بہتر ہو سکتی ہے، جیسے
ان نشیلی انکھڑیوں میں خوب ڈوبا ہے رقیب

درد ڈالو تو خوشی بن کر نکل آیا کرے
اب کوئی اس طرح کی زنبیل ہونی چاہیے
۔۔زنبیل تو ایسی چیز تھی جس میں جتنا سامان ڈالا جائے، وہ سب سما سکتا تھا۔ یہ معنی تو راست نہیں نکلتے، لیکن’اس طرح کی زنبیل‘ سے رعایت مل جاتی ہے۔ اور شعر درست ہو جاتا ہے۔

دیکھ کر ہم کو وہ کیوں جلاد سے کہتے ہیں'' قتل''
اس کی کچھ تفسیر کچھ تفصیل ہونی چاہیے
÷÷درست

یہ نہیں اچھا کہ عاشق ہجر کے ہاتھوں مرے
یہ روایت تو ابھی تبدیل ہونی چاہیے
÷÷’ابھی‘ کی جگہ محض ’اب‘ لا سکو تو بہتر ہے۔

بھِینچ لیتی ہے یہ میرے دل کو اپنے درمیاں
اس گِرہءِ زلف میں کچھ ڈھیل ہونی چاہیے
۔۔گرہَ زلف۔ ’گرہ، اے زلف‘ تقطیع ہوتا ہے۔ یہ غلط ہے۔
سر آپ کی شفقت چارہ ساز ہے۔۔۔۔۔
حکم کے مطابق ان اشعار کو ملاحظہ فرمائیں۔

یہ نہیں اچھا کہ عاشق ہجر کے ہاتھوں مرے
یہ روایت بھی تو اب تبدیل ہونی چاہیے

بھِینچ لیتی ہے یہ میرے دل کو اپنے درمیاں
زلف میں کچھ تو گرہ کو ڈھیل ہونی چاہیے
 
آخری تدوین:
Top