غزل: اک نظر بس اک محبت کی نظر میرے لیے ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 21, 2020

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    25,273
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    اک نظر بس اک محبت کی نظر میرے لیے
    سہل ہے پھر زندگی کا ہر خطر میرے لیے

    میری جانب آنکھ بھر کر دیکھنا بھی کیا ضرور
    ایک کافی ہے نگاہِ مختصر میرے لیے

    غیر پر جس سے نہ افشا ہو سکے رازِ کرم
    اے حسینو! وہ نگاہِ طُرفہ تر میرے لیے

    ق
    آبروئے موج ہے طوفان کے آغوش میں
    موت ہے یعنی حیاتِ بےخطر میرے لیے

    وہ بھی ہوں گے، ہے غلامی جن کو صد وجہِ نشاط
    زندگی تو ہو رہی ہے دردِ سر میرے لیے

    یہ قفس کی زندگی ان کے لیے ہو گی بہشت
    ہے جہنم سے بھی لیکن تلخ تر میرے لیے

    وجہِ صد اعزاز ان کے واسطے جاہ و حشم
    ننگ ہے فرِّ غلامانہ مگر میرے لیے

    میں تو اس کی اک نگاہِ ملتفت کا ہوں اسیر
    گردشِ ارض و سما ہے بے اثر میرے لیے

    ٭٭٭
    ملک نصر اللہ خان عزیزؔ
     

اس صفحے کی تشہیر