غزل : اندھیروں میں کھڑا ہوں سوچتا ہوں از: نویدظفرکیانی

اندھیروں میں کھڑا ہوں سوچتا ہوں
میں کس گھر کا دیا ہوں سوچتا ہوں


زمانے بھر کی نظریں پھِر گئی ہیں
میں کتنا بے وفا ہوں سوچتا ہوں


یونہی بیکار تو لکھا نہ ہو گا
جو لکھ کر کاٹتا ہوں سوچتا ہوں


وہ مجھ کو بھول بھی سکتا ہے شائد
جگر کو تھامتا ہوں سوچتا ہوں


بھنور نے لا کے پھینکا ہے کہاں پر
کنارے سے لگا ہوں سوچتا ہوں


گزرتا جا رہا ہے سر سے پانی
میں ہوں کہ سوچتا ہوں سوچتا ہوں


بہت شکوے گلے کرنے چلا تھا
مگر رُک سا گیا ہوں سوچتا ہوں

نویدظفرکیانی
 

فارقلیط رحمانی

لائبریرین
واہ کیا خوب جدت ہے:
بجائے
یونہی بیکار تو بویا نہ ہو گا
جو بو کر کاٹتا ہوں سوچتا ہوں

کے
یونہی بیکار تو لکھا نہ ہو گا
جو لکھ کر کاٹتا ہوں سوچتا ہوں
 
Top