غزل اصلاح کے لیے

کٹتے ہیں شب و روز تو اب کوئے بتاں میں
بہتر نہیں ہے اس سے تو جا کوئی جہاں میں

اک آہ نہ کی خوب جلا دل ہے مزے میں
پر لطف سی اک آگ تو ہے سوزِ نہاں میں

تعریفِ رخِ یار کا ہو جائے ادا حق
حق نے نہیں رکھی ہے یہ طاقت ہی زباں میں

موجود ہر اک ذرے میں قوت تو ہے اتنی
پل بھر میں بدل دے جو کہ شہروں کو نشاں میں


یہ گردشِ عالم تو ہے نغموں پہ مرے رقص
عالم ہے گرفتار مرے سحرِ بیاں میں

دنیا میں ہی ریحان بہت سے ہیں ستارے
کچھ ہیں زمیں میں کچھ ہیں مگر بحرِ رواں میں

محمد ریحان قریشی
 

الف عین

لائبریرین
ماشاء اللہ طبیعت میں موزونیت تو ہے، جو غزلیہ شاعری کی پہلی ضرورت ہے۔ لیکن اس سے ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ ملتی جلتی بحریں خلط ملط ہو جاتی ہیں، یہی صورت اس غزل میں ہے۔
کچھ مصرعے مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات ( جیسے، حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں) میں ہیں۔
کچھ مفعول، مفاعیل، مفاعیل، فعولن میں ہیں (جیسے۔۔ کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور)
اور کچھ نصف اول ایک بحر میں اور نصف دوم دوسری بحر میں ہیں۔
 
www.aruuz.com
کے مطابق تو یہ تمام اشعار مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن بحر کے حساب سے موزوں ہیں.
لیکن اس کا کچھ خاص بھروسہ نہیں ہے.
مقطع میں تو مجھے خود بھی کچھ گڑبڑ محسوس ہو رہی ہے.. ویسے اس میں کوئی خاص مضمون بھی نہیں ہے اسے چھوڑ سکتے ہیں.
 

ابن رضا

لائبریرین
ماشاء اللہ طبیعت میں موزونیت تو ہے، جو غزلیہ شاعری کی پہلی ضرورت ہے۔ لیکن اس سے ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ ملتی جلتی بحریں خلط ملط ہو جاتی ہیں، یہی صورت اس غزل میں ہے۔
کچھ مصرعے مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات ( جیسے، حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں) میں ہیں۔
کچھ مفعول، مفاعیل، مفاعیل، فعولن میں ہیں (جیسے۔۔ کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور)
اور کچھ نصف اول ایک بحر میں اور نصف دوم دوسری بحر میں ہیں۔

وزن تو درست ہے سر ؟ِ
www.aruuz.com
کے مطابق تو یہ تمام اشعار مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن بحر کے حساب سے موزوں ہیں.
لیکن اس کا کچھ خاص بھروسہ نہیں ہے.
مقطع میں تو مجھے خود بھی کچھ گڑبڑ محسوس ہو رہی ہے.. ویسے اس میں کوئی خاص مضمون بھی نہیں ہے اسے چھوڑ سکتے ہیں.

عروض ڈاٹ کام اس وقت اپنی نوعیت کی بہترین اور قابلِ بھروسہ سائیٹ ہے جس کے لیے ہم سید ذیشان صاحب کے مشکور رہتے ہیں۔تاہم عروض کی بنیادی معلومات اور الفاظ کے درست تلفظ سے آشنائی ہو تو اس سائیٹ سے بہتر طور پر مستفید ہوا جا سکتا ہے۔
 
یہ گردشِ عالم تو ہے نغموں پہ مرے رقص
عالم ہے گرفتار مرے سحرِ بیاں میں

میں نے دنیا کی گردش کو اپنے نغموں کے جادو میں رقص کرنا قرار دیا ہے. شاید یہ مضمون نیا ہے.
حسنِ تعلیل کہا جا سکتا ہے؟
 

ابن رضا

لائبریرین

یہ مضمون تو اکثر شعرا نے باندھا ہوا ہے ، مگر ہمارا محددو مطالعہ آڑے آ جاتا ہے۔:)

سارے عالم پہ ہوں میں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا
۔میرتقی میر۔

ساری دنیا میں قلم کاروں کی وقعت گر جائے
میں قلم رکھ دوں تو الفاظ کی صحت گر جائے
( رانا )

اک طفلِ دبستاں ہے فلاطوں مرے آگے
کیا منہ ہے ارسطو جو کرے چوں مرے آگے
انشا اللہ خان انشاؔ

ریختہ میں کلام ہم سے نہ کر
یہ ہماری زبان ہے پیارے
میر


آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریرِ خامہ نوائے سروش ہے​
 
میرا مطلب تھا کہ سائنٹیفک فیکٹ ہے کہ دنیا گردش کر رہی ہے.
کیوں کر رہی ہے اس کی وجہ بیان کی.
ورنہ حسنِ تعلی تو ہر شاعر کے کلام میں پایا ہی جاتا ہے.
 

ابن رضا

لائبریرین
میرا مطلب تھا کہ سائنٹیفک فیکٹ ہے کہ دنیا گردش کر رہی ہے.
کیوں کر رہی ہے اس کی وجہ بیان کی.
ورنہ حسنِ تعلی تو ہر شاعر کے کلام میں پایا ہی جاتا ہے.
مرا نقطہ ارتکاز شعر کا مضمون ہے الفاظ کے ہیر پھیر سے بات ایک ہی کہی جا رہی ہے
 
صحیح جناب.
ویسے میر کا شعر کچھ ایسے ہے

گفتگو ہم سے ریختے میں نہ کر
یہ ہماری زبان ہے پیارے

میر عمداؒ بھی کوئی مرتا ہے
جان ہے تو جہان ہے پیارے
 

الف عین

لائبریرین
دوبارہ غورسے دیکھا ہے اس غزل کو تو واقعی کچھ مصرعوں کو مفعول مفاعیل الخ میں تقطیع کیا جا سکتا ہے جن کو میں پہلے مختلف تلفظ اور اسقاط کے ساتھ مفعول فاعلات الخ سمھا تھا۔ مقطع میں بہر حال غلطی ہے۔ اس کو یوں کیا جا سکتا ہے
دنیا میں ہی ریحان بہت سے ہیں ستارے
کچھ تو ہیں زمیں پر، تو ہیں کچھ بحرِ رواں میں

البتہ کچھ شعروں میں مفہوم واضح نہیں ہوتا۔ یا ادھورا لگتا ہے۔
جیسے
یہ گردشِ عالم تو ہے نغموں پہ مرے رقص
شاید ’رقصاں‘ کہنا چاہئے تھا۔
 
دوبارہ غورسے دیکھا ہے اس غزل کو تو واقعی کچھ مصرعوں کو مفعول مفاعیل الخ میں تقطیع کیا جا سکتا ہے جن کو میں پہلے مختلف تلفظ اور اسقاط کے ساتھ مفعول فاعلات الخ سمھا تھا۔ مقطع میں بہر حال غلطی ہے۔ اس کو یوں کیا جا سکتا ہے
دنیا میں ہی ریحان بہت سے ہیں ستارے
کچھ تو ہیں زمیں پر، تو ہیں کچھ بحرِ رواں میں

البتہ کچھ شعروں میں مفہوم واضح نہیں ہوتا۔ یا ادھورا لگتا ہے۔
جیسے
یہ گردشِ عالم تو ہے نغموں پہ مرے رقص
شاید ’رقصاں‘ کہنا چاہئے تھا۔

گردشِ عالم سے زمین کا اپنے مدار پر گھومنا مراد ہے . میری دانست کے مطابق تو رقص ہی ٹھیک ہے.
اس شعر میں نشان سے میں نے مراد نام و نشاں لیا ہے یعنی تباہ و برباد ہونے کے بعد جو کچھ بچ جاتا ہے. کیا اس کا ایسا استعمال درست ہے؟
موجود ہر اک ذرے میں قوت تو ہے اتنی
پل بھر میں بدل دے جو کہ شہروں کو نشاں میں
 
Top